سندھ میں پیپلزپارٹی کا طویل دور اقتدار، عوامی مسائل میں کمی نہ ہوئی

سندھ میں پیپلزپارٹی کا طویل دور اقتدار، عوامی مسائل میں کمی نہ ہوئی

  



ڈائری۔ کراچی۔مبشر میر

پاکستان پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس اگر چہ مظفر آباد آزاد کشمیر میں منایا گیا۔ لیکن اس قدیمی پارٹی کے 52 سال کئی اتار چرھاؤ سے عبارت ہیں۔ وفاق میں 2008ء سے 2013ء تک برسراقتدار رہی، سندھ میں تیسری ٹرم پوری ہورہی ہے۔ یہ وہ دور ہے کہ جب پیپلز پارٹی کی باگ دوڑ اس کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی اولاد میں سے کسی کے پاس نہیں ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ان کی بیٹی اور بیوی نے پارٹی کی کمان سنبھالی، پہلے بیگم نصرت بھٹو پارٹی کی قیادت کرتی رہیں اور بعد میں محترمہ بینظیر بھٹو نے والدہ سے خود ہی قیادت لے کر چیئرپرسن کا عہدہ سنبھال لیا اور پھر تاحیات چیئرپرسن بھی بن گئیں، اس وقت پارٹی سے صوبہ پنجاب کی حکومت چھن گئی۔

پنجاب کی اکثریتی پارٹی کا درجہ ختم ہوگیا۔ اب ان گیارہ سالوں میں پیپلز پارٹی صرف اور صرف صوبہ سندھ کی اکثریتی پارٹی کی حیثیت سے موجود ہے۔ پیپلز پارٹی کے پاس سندھ میں متعدد بار حکومت آئی، اور اپوزیشن کے طور پر بھی ایک بڑی پارٹی رہی۔ گویا اندرون سندھ اس کی جڑیں مضبوط دکھائی دیتی ہیں، لیکن ایک سوال غور طلب ہے کہ اتنے طویل اقتدار نے صوبہ سندھ کے غریب عوام کو تعلیم یافتہ بھی نہیں بنایا اور صحت کے شعبے میں بھی سندھی عوام محرومیوں کا شکار ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ قانون کی حکمرانی جس کے لیے پیپلز پارٹی اپنی جدوجہد کرنے کا دعویٰ کرتی ہے، اندرون سندھ تو کیا پورے سندھ میں نظر نہیں آرہی۔ ”ونی“ کے نام پرمعصوم بچیاں دی جارہی ہیں۔ حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے بااثر سیاسی لوگ عوام پر ظلم و ستم میں شامل ہیں جس کی مثال دادو کی ام رباب چانڈیو کی جدوجہد ہے۔ حال ہی میں ایک معصوم بچی کو سنگسار کردیا گیا۔ تھر میں بچے مررہے ہیں۔ ڈینگی، پولیو اور دیگر بیماریاں اہل سندھ کی جان لے رہی ہیں۔ صرف کراچی شہر میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد 14ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ سندھ کے بااثر سیاسی لوگ غیر قانونی جرگہ کا حصہ ہیں، جو معاشرے کے پسے ہوئے طبقوں کو اپنی بنائی ہوئی عدالتوں میں ذلیل و خوار کرتے ہیں، انہی کے حکم سے کاروکاری کے فیصلے ہوتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کے معیار اس قدر گرچکے ہیں کہ وہاں سے سند یافتہ نالائق، ان پڑھ اور جاہل افراد سرکاری نوکریاں حاصل کرکے اداروں کو بھی برباد کررہے ہیں

عام آدمی سوال کرتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ اپنا ووٹ بینک برقرار رکھنے کے لیے کروایا جارہا ہے۔ گھوسٹ ملازمین اور گھوسٹ عمارتیں اسی ہدف کا شاخسانہ ہیں۔ ایسی جمہوریت کا خواب قائد اعظم اور قائد عوام نے بھی نہیں دیکھا تھا۔ یہ کون سا سیاسی شعورہے۔

35 سال قبل جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں طلبہ یونینز پر پابندی لگائی گئی اس کے خلاف گذشتہ دنوں ملک بھر میں طلبہ نے احتجاجی مظاہرے کیے، اور طلبہ یونینز پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسی تناظر میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پیر کے دن سندھ میں طلبہ یونینز پر پابندی کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے فوری طور پر قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے، جو خوش آئند ہے۔

سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے یہ اعلان کرکے طلباء کے جمہوری حق کو تسلیم کرلیا ہے، جس سے ملک کے مستقبل کے امین طلباء جمہوریت کے ہر اول دستے میں پھر سے شامل ہوجائیں گے۔ اور منتخب یونینز کالج اور یونیورسٹیز میں طلباء کی فیسوں اور ٹرانسپورٹ سمیت گھمبیر مسائل کے حل میں معاون ثابت ہونگی۔ تاہم طلباء یونینز کی بحالی سے قبل ایک مربوط حکمت عملی مرتب کرنا صروری ہے، تاکہ طلباء سیاست ایک مرتبہ پھر تشدد کا شکار نہ ہوں۔

پاکستان تحریک انصاف کے لیے ایک امتحان اور آزمائش کی گھڑی آچکی ہے جب اسے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کے لیے اتحادیوں اور اپوزیشن کا تعاون حاصل کرنا ہے، گوکہ امید کی جاسکتی ہے کہ پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتیں اس کیلئے بھرپور تعاون کریں گی۔ لیکن اپوزیشن سے معاملات اتنے بھی آسان نہیں ہونگے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اسی ہدف کے حصول کے لیے ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت سے ملاقات کرنے کیلئے گورنر سندھ عمران اسماعیل کے ہمراہ کراچی آئے۔ایم کیو ایم کے گلے شکوے رسمی نوعیت کے دکھائی دیئے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے لیے ان کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروادی گئی بلکہ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم اس سلسلے میں غیرمشروط حمایت کریں گے۔

ایم کیو ایم کا گلہ شکوہ اپنی جگہ اس وقت کراچی کا ووٹر بھی تحریک انصاف سے نالاں دکھائی دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے راہنماؤں خاص طور پر ایم این اے اور ایم پی اے خواتین و حضرات کے خلاف پوسٹیں نمایاں طور پرلگائی جارہی ہیں۔ کراچی کے جن حلقوں سے یہ حضرات جیت کر پارلیمنٹ میں پہنچے وہ ان کی شکل دیکھنے کو ترس گئے ہیں۔

عوام کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے لوگ اپنے حلقوں میں ہونے والے سماجی اجتماعات اور دیگر تقریبات میں بھی نظر نہیں آتے۔ حیرت کی بات ہے کہ شہر کراچی سے تحریک انصاف کے منتخب اراکین کی کثیر تعداد اب کلفٹن اور ڈیفنس میں رہائش پذیر ہوچکی ہے۔ اس لیے انہیں اپنے علاقوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے وہاں کی معلومات بھی بروقت مل نہیں پاتیں۔ سندھی کلچر ڈے پورے جذبے کے ساتھ منایا گیا، سندھی ٹوپی اور اجرک پہن کر عوام نے بھرپور ثقافتی رنگ جمایا۔

ڈیفنس کے علاقے سے لڑکی کا اغواء غیر معمولی بات ہے۔ بہت سے بااثر افراد کے بچے کالے شیشے کی گاڑیوں میں سرعام گھومتے ہیں۔ پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اعلیٰ پولیس افسران اور دیگر بیوروکریٹس کے بچے بیرون ملک رہائش پذیر ہیں۔ خدا ہی جانتا ہے کہ وہ اتنے اخراجات کس جادو کی چھڑی سے پورا کرتے ہیں۔ شہر کراچی کو رہنے کے قابل بنانا حکومت سندھ کی ذمہ داری ہے۔ اگر پولیس، رینجرز اور انٹیلی جنس اداروں کی موجودگی میں بھی جرائم کا گراف نیچے نہیں آرہا تو کہنا پڑے گا کہ رہبر ہی رہزن بنا ہوا ہے۔ کلفٹن اور ڈیفنس میں ڈی ایچ اے اور کنٹونمنٹ بورڈ کو خود سی سی کیمرے لگانے چاہئیں۔ ویسے یہ ادارے رہائشیوں کو پانی کی سہولت دینے میں بھی ناکام ہی چلے آرہے ہیں۔

تمام تر مسائل کے باوجود اقتصادی شعبے میں چند ایک خوشخبریاں آنا شروع ہوئی ہیں۔ جن میں برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی۔ ڈالر کی قیمت روپے کے مقابلے میں کمزور ہونے کے سفر کا آغاز، روپے کی قدر کا مستحکم ہونا، ادائیگیوں کے توازن میں بہتری، یہ تمام معاشی اعشاریے بہتر معاشی حالات کی نشاندہی کررہے ہیں۔ اسٹاک ایکسچینج میں بھی انڈکس بہتری کی جانب گامزن ہوچکا ہے، لیکن عوام کی قوت خرید بہت کمزور ہوچکی ہے۔

مزید : ایڈیشن 1