اغوا کی گئی طالبہ دعا منگی کے خاندان کا تعلق شعبہ طب سے ہے

اغوا کی گئی طالبہ دعا منگی کے خاندان کا تعلق شعبہ طب سے ہے

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی کے علاقے ڈیفنس میں فائرنگ کے بعد کار سوار ملزمان کے ہاتھوں اغوا کی گئی طالبہ دعا منگی کے خاندان کا تعلق شعبہ طب سے ہے۔ان کے والد ڈاکٹر نثار احمد منگی کراچی کے جناح اسپتال میں پلاسٹک سرجری کے سابق اسسٹنٹ پروفیسر اور میڈیکل آفیسر ہیں، جو کئی سال قبل ریٹائرمنٹ کے بعد کورنگی روڈ پر قیوم آباد میں نجی کلینک چلاتے ہیں، کورنگی روڈ پر قیوم آباد کا سیکٹر اے ہی ان کا مستقل رہائشی پتہ ہے۔جناح اسپتال کی ڈاکٹرز کالونی ان کا سابقہ عارضی پتہ ہے جہاں سے اب یہ خاندان منتقل ہوچکا ہے۔15 ستمبر 2019 کو عمر کے بیسویں سال میں داخل ہونے والی دعا منگی نے کراچی کے علاقے صدر میں عائشہ باوانی اکیڈمی سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔خاندانی ذرائع کے مطابق دعا منگی نے ڈیفنس کراچی کے معروف نجی کالج میں داخلہ لیا، ایک کورس کرنے کے لیے امریکا گئیں، جہاں لگ بھگ ایک سال قیام کے بعد واپس آئیں اور اب ڈیفنس کراچی کی نجی لا یونیورسٹی میں فاؤنڈیشن کی طالبہ ہیں۔خاندانی ذرائع کے مطابق 5 بہنوں میں دعا چوتھے نمبر پر ہیں، بڑی بہنیں شادی شدہ ہیں، لیلی منگی، خدیجہ منگی اور دعا منگی سمیت تمام بہنیں لبرل اور سوشل ایکٹیوسٹ بتائی جاتی ہیں۔دعا منگی کے اغوا کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے منفی پروپیگنڈے کے جواب میں ان کی بہن خدیجہ منگی نے پانچ منٹ سے زائد دورانیے کے ویڈیو پیغام میں افسوس کا اظہار کیا ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر