بدعنوانی سے نجات، ایس ایم ایزکی عملی اعانت پہلی ترجیح ہے، سروے

      بدعنوانی سے نجات، ایس ایم ایزکی عملی اعانت پہلی ترجیح ہے، سروے

  



کراچی (اکنامک رپورٹر) دی ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (ACCA) کی جانب سے کیے گئے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ تین اداروں میں سے بھی بمشکل ایک ادارہ یہ سمجھتا ہے کہ رشوت اور بدعنوانی سے نمٹنے کے لیے مناسب اعانت دستیاب ہے۔ اس سروے میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 932 چھوٹے سے درمیانے درجے کے ادارے شامل تھے۔ ”ایس ایم ای کے شعبے میں رشوت ستانی کا مقابلہ(Combating bribery in the SME sector)“ کے عنوان سے اکاؤنٹنسی کے شعبے سے وابستہ پیشہ ورانہ ادارے کی شائع شدہ رپورٹ میں جواب دہندگان نے اپنے اِس اندیشے کا اظہار کیا کہ ایس ایم ایز کی انتظامیہ اور ملازمین کی مدد کے لیے طریقہ کار، پالیسیاں، اور خطرات کی جانچ ہمیشہ اپنی جگہ پر موجود نہیں ہوتے ہیں۔سروے سے یہ بات بھی ظاہر ہوئی ہے کہ ایس ایم ایز اکاؤنٹنٹس کو، کاروبارمیں ان کی سپورٹ سروسز کی وجہ سے اہمیت دیتی ہیں، اس کے باوجود، دنیا بھر میں، حکومت، بین الحکومتی محکموں اور دیگر فریقین کے ساتھ تعاون کی شدید ضرورت ہے۔ اس موضوع پر اے سی سی اے پاکستان کے ہیڈ، سجید اسلم نے کہا،”رشوت اور بدعنوانی صرف ایس ایم ایز کا مسئلہ نہیں ہے۔ مجموعی طور پر یہ ہمارے پورے معاشرے کا مسئلہ ہے جو مسلسل ہماری اخلاقی اقدار اور معاملات کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ کاروباری دنیا میں متعدد عناصر نے پاکستانی معیشت کو پہنچنے والے طویل المیعاد نقصان کا احساس کیا ہے چنانچہ سرکاری اہلکاروں کی جانب سے یہ بیان کہ رشوت اور بدعنوانی کو برداشت نہیں کیا جائے گازیادہ بلند اور واضح الفاظ میں او ر بار بار دوہرانا چاہیے۔ تاہم پاکستان میں رشوت اور بدعنوانی سے نمٹنے کے لیے ایس ایم ایزکو عملی اعانت کی فراہمی پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔“اے سی سی اے میں گلوبل پالیسی لیڈ برائے بزنس لا، جیسن پائیپر (Jason Piper)نے ایس ایم ایز کو درپیش اُن چیلنجوں کا تذکرہ کیا جو رشوت اور بدعنوانی سے متعلق قانونی تقاضوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر