غربت کی وجہ سے سے سفید پوش لوگ بھی پریشان ہیں،راشد نسیم

  غربت کی وجہ سے سے سفید پوش لوگ بھی پریشان ہیں،راشد نسیم

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اورجمعیت کے سابق ناظم اعلی ٰ راشد نسیم نے کہا ہے کہ مہنگائی،بیروزگاری،کرپشن کی وجہ سے ملک میں غربت میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے سفید پوش لوگ بھی پریشان ہیں،موجودہ خراب معاشی صورتحال وسیاسی بے یقینی کے ذمہ داروہ لوگ ہیں جوآئین وقانون سے بالاترہوکراپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پرترجیح اورقوم پرنااہل قیادت مسلط کرتے ہیں۔ سابق حکمرانوں کی طرح موجودہ حکمران بھی طلباء یونین سے پابندی ختم نہیں کرسکتے کیونکہ انہیں اپنی موروثی سیاست کے خاتمے کا خوف ہے،موجودہ نااہل اور بدترین حکمرانوں کو ملک اور عوام پر مسلط کرنے والے سلیکٹرز بھی ان کی ناقص کارکردگی سے پریشان ہیں، ملک میں معاشی،سیاسی اور آئینی بحران کی ذمہ داری بھی ان کی ہے جنہوں نے موجودہ اناڑی اور ناتجربیکار لوگوں کو حق حکمرانی دیا ہے، نئے پاکستان کا نعرہ لگانے والے کپتان نے ملکی صورتحال کی طرح کرکٹ کا بھی بیڑہ غرق کردیا ہے، کپتان کی حکومت میں کرکٹ ٹیم نے ناکامیوں کے تمام ریکارڈ توڑدیئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی سندھ کے میڈیا سیل کے دورے اورصوبائی سیکریٹری اطلاعات مجاہد چنا کی ہمشیرہ کے وفات پر تعزیت کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا،انہوں نے مرحومہ کی مغفرت،درجات بلندی اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کیے لے دعا بھی کی۔اس موقع پر جماعت اسلامی سندھ کے ناظم عمومی محمد دین منصوری، ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات وزیرعلی جمالی،شاہنواز قائم خانی، بھی موجود تھے۔راشد نسیم نے مزید کہا کہ طلباء یونین پر پابندی ختم کرنا وقت کی ضرورت ہے، یونین سازی سے تعلیمی اداروں سے ملکی سیاسی نظام کیلئے نئے سیاستدان پیدا ہوتے ہیں، موجودہ حکمران اور سابق حکمران طلباء یونین سے پابندی ختم نہیں کرسکتے کیونکہ انہیں اپنی موروثی سیاست کے خاتمے کا خوف ہے، اس سے قبل سابق وزیراعظم یوسف رضا بھی بحالی کا اعلان کرچکے ہیں۔طالب علم سیاسی لیڈرز نے قومی سیاست میں اپنے نظریہ،قیادت اور پارٹی سے کبھی غداری نہیں کی،جس کی مثال رضاربانی،مخدوم جاوید ہاشمی،لیاقت بلوچ اور سراج الحق جیسے درویش صفت سیاستدان ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے پاکستان اور تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں کے دور میں انکے وزراء اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کرپشن میں اضافہ ہوا ہے

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر