مشرف غداری کیس، لاہور ہائیکورٹ نے تمام ریکارڈ طلب کر لیا 

مشرف غداری کیس، لاہور ہائیکورٹ نے تمام ریکارڈ طلب کر لیا 

  



لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کے مقدمہ کا تمام ریکارڈ طلب کر لیا، مسٹر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف پرویز مشرف کی درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ بادی النظر میں ایمرجنسی نافذ کرنا اور آئین توڑنا دو مختلف چیزیں ہیں،مارشل لا ء تو 12 اکتوبر 1999 ء کو لگا تھاجبکہ ایمرجنسی 2007ء میں نافذ کی گئی تھی۔فاضل جج نے کہا کہ درخواست گزار کے مطابق نوٹیفکیشن کااجراء تو وزیراعظم کا اختیار تھا،پرویز مشرف کے وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھ دیتا ہوں،فیصلے کے مطابق بھی وزیراعظم اور وفاقی حکومت نے یہ کیس بنانا تھا،صرف اس وقت کے وزیر اعظم کے کہنے پر کاروائی کا آغاز کر دیا گیااور کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ آئین توڑنے پرغداری کا مقدمہ بنتا ہے،کیا نومبر 2007 ء کو ایسا ہوا؟ مارشل لا تو 12 اکتوبر کو لگا جس کا اس مقدمہ میں ذکر ہی نہیں،فاضل جج نے سرکاری وکیل سے پوچھا کہ طلب کیا گیاریکارڈ کیوں پیش نہیں کیا گیا؟جس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے بتایا کہ مقدمہ کا سارا ریکارڈ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہے جس کے باعث پیش نہیں کیا جاسکا۔ فاضل جج نے پرویز مشرف کے وکیل سے کہا کہ ان کے موکل اسلام آباد کے رہائشی ہیں،اس بابت بھی بتایا جائے کہ لاہور ہائی کورٹ اس درخواست کو کیسے چلاسکتی ہے،عدالت نے درخواست پر مزید کارروائی دس دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے سنگین غداری کیس کاتمام ریکارڈ طلب کرلیا۔

غداری کیس

لاہور(مانیڑنگ ڈیسک) سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ غداری کیس میں میری شنوائی نہیں ہو رہی، میرے وکیل کو بھی نہیں سنا جا رہا، امید ہے عدالت سے انصاف ملے گا۔سابق صدر پرویز مشرف نے اپنے ویڈیو بیان میں بتایا کہ میری طبیعت بہت خراب ہے، چکر آنے کے بعد بے ہوش ہوا تو مجھے ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ مید ہے مجھے عدالت سے انصاف ملے گا۔پرویزز مشرف کا کہنا تھا کہ جنگیں لڑ چکا ہوں، ملک کی دس سال خدمت کی۔ میں نے ملک کے لئے بہت خدمات انجام دیں۔ میری نظر میں آئین شکنی کیس بے بنیاد ہے۔ کیس میں کمشن میرا بیان ریکارڈ کرے۔

مشرف

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل 3 رکنی لارجر بنچ نے خصوصی عدالت کو پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ سنانے سے روکنے کا 24 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ اور مشرف کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کی جانب سے دائر دونوں ہی درخواستوں میں فیئر ٹرائل کا نکتہ اٹھایا گیا۔وفاقی حکومت نے حیرت انگیز طور پردلائل دیے کہ خصوصی عدالت کی تشکیل میں غلطیاں ہیں اور شکایت بھی غیر مجاز فرد نے داخل کرائی۔فیصلے کے مطابق سنگین غداری کیس کے ٹرائل میں صرف ملزم واحد فریق نہیں بلکہ وفاقی حکومت بھی اتنی ہی اہم اسٹیک ہولڈر ہے۔وفاقی حکومت نے 12اکتوبر 1999 کو آئین سے انحراف کے بجائے 3 نومبر کے اقدام پر کارروائی کا آغاز کیا جس کا ہدف عدلیہ تھی اور سپریم کورٹ اس اقدام کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ڈی نوٹیفائی کی گئی پراسیکیوشن ٹیم کو عدالت میں پیش ہو کر دلائل دینے کا اختیار نہیں تھا، وفاقی حکومت کو پراسیکیوٹر تعینات کرنے کا مناسب وقت ملنا چاہیے تھا۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پرویز مشرف کو سرنڈر کر کے بطور ملزم بیان ریکارڈ کرانے کا موقع ملنا چاہیے تھا، دفاع کا حق ختم کرنے سے پہلے یہ اطمینان کرنا ضروری تھا کہ مشرف رضاکارانہ طور پر مرضی سے غیر حاضر ہیں۔

تفصیلی فیصلہ

مزید : صفحہ آخر