الیکشن کمیشن ممبران کا تقرر، حکومت بلوچستان، اپوزیشن سندھ کے ممبر کا نام دیگی، فریقین میں اتفاق، اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر کے تقر ر کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کا فیصلہ 

الیکشن کمیشن ممبران کا تقرر، حکومت بلوچستان، اپوزیشن سندھ کے ممبر کا نام ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)حکومت اور اپوزیشن میں الیکشن کمیشن کے ممبران کے تقرر پراہم پیش رفت ہوئی ہے،حکومت کو بلوچستان جبکہ اپوزیشن کو سندھ کے ممبر کا نام دینے پر فریقین میں اتفاق ہو گیاہے،پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس(آج)بدھ کو دوبارہ ہو گا جسکے بعد الیکشن کمیشن کے سند ھ اور بلوچستان کے ممبران کا اعلان کیا جائیگا،اپوزیشن جماعتوں نے کمیٹی اجلاس سے قبل اپنا الگ سے اہم اجلاس بھی طلب کر لیاہے۔پارلیمانی کمیٹی میں بلوچستان سے حکومت نے  نوید جان بلوچ  کا نام تجویز کیا جبکہ اپوزیشن نے مشاورت کیلئے (آج)تک کا وقت مانگ لیا۔پارلیمانی کمیٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹرشیریں مزاری نے کہا  ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کا الیکشن کمیشن ارکان کی تقرری اور باہمی تعاون پر اتفاق ہوا ہے،ہم اتفاق رائے کی جانب بڑھ رہے ہیں، اپوزیشن نے مشاورت کیلئے وقت مانگا ہے، (آج) الیکشن کمیشن کے نئے ممبران کے ناموں کا اعلان کردیا جائیگا۔ جبکہ اپوزیشن رہنماؤں راجہ پرویز اشرف، مرتضی جاوید عباسی اور سینیٹرمشاہد اللہ خان کا کہنا ہے کہ اتفاق رائے کی طرف بڑھ رہے ہیں،مگرابھی کسی نام پر حتمی اتفاق نہیں ہوا،(آج)اتفاق ہوجائے گا،اپوزیشن میں کسی نام پر اختلاف نہیں، ہم ایسا الیکشن کمیشن چاہ رہے ہیں جس پر کسی سیاسی جماعت کو اعتراض نہ ہو،سیاست میں کچھ لو کچھ دو کے معاملہ پر بات ہوتی ہے۔منگل کوالیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے لئے وفاقی وزیرانسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کی زیر صدارت پارلیمانی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا،جس میں حکومت کی جانب سے وزیر مملکت علی محمد خان، فخر امام، محمد میاں سومرو، سینیٹر اعظم سواتی اور سینیٹر نصیب اللہ بازئی نے شرکت کی جبکہ اپوزیشن کی جانب سے مرتضیٰ جاوید عباسی، ڈاکٹر نثار چیمہ، سینیٹر مشاہد اللہ خان،راجہ پرویز اشرف، ڈاکٹر سکندر مندھرو  اورشاہدہ اخترعلی نے شرکت کی۔پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری کے لئے حکومتی اور اپوزیشن کی جانب سے نامزدگیوں کا جائزہ لیا گیا۔ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن نے ابتدائی طورپر دونوں طرف سے ایک ایک ممبر لینے پر اتفاق  ہوا ہے۔ حکومت کو بلوچستان جبکہ اپوزیشن کو سندھ کے ممبر کا نام دینے پر اتفاق ہوا ہے،پارلیمانی کمیٹی میں بلوچستان سے حکومت کے تجویز کردہ نوید جان بلوچ کے نام پر اتفاق ہوا۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی میں ممبر سندھ کے لیے اتفاق نہیں ہوسکا اور دونوں اپوزیشن جماعتیں ایک نام پر متفق ہونے کیلئے (آج)بدھ تک کا وقت مانگ ہے۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو۔پیپلز پارٹی کے راجہ پرویزاشرف  نے کہا کہ اتفاق رائے کی طرف بڑھ رہے ہیں،ابھی کسی نام پر حتمی اتفاق نہیں ہوا،(آج)بدھ کو قومی اسمبلی اجلاس سے قبل اتفاق ہوجائے گا،اپوزیشن میں کسی نام پر اختلاف نہیں،اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہوتا ہے۔مسلم لیگ (ن)کے مرتضی جاوید عباسی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو غیر فعال ہونے میں 2 دن رہ گئے، اب حکومت کو یاد آگیا ہے، حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے، اپوزیشن اپنا کردار ادا کر رہی ہے، ابھی تک کسی نام پر اتفاق نہیں ہوا، ہم ایسا الیکشن کمیشن چاہ رہے ہیں جس پر کسی سیاسی جماعت کو اعتراض نہ ہو۔لیگی سینیٹرمشاہد اللہ خان کا کہنا تھا سیاست میں کچھ لو کچھ دو کے معاملہ پر بات ہوتی ہے، کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے اراکین کی تعداد مساوی ہے، ابھی تک کمیٹی غور و خوض جاری رکھے ہوئے ہے، کسی نام پر اتفاق نہیں ہوا۔دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے قبل اپنا مشاورت اجلاس (آج)بدھ کو طلب کر لیا ہے جو ڈیڑھ بجے اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں ہوگا۔اپوزیشن رہنما پارلیمانی کمیٹی  اجلاس سے قبل الیکشن ممبران کی تقرری پرحتمی مشاورت کرینگے۔

الیکشن ممبران

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر ڈیڈ لاک برقرار، مسلم لیگ ن نے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا، پٹیشن آج دائر کئے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی قانونی ٹیم نے اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں مشاورت مکمل کر کے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری سے متعلق پٹیشن تیار کرلیگئی ہے، قانونی ٹیم نے سردار ایاز صادق اور احسن اقبال کی مشاورت سے پٹیشن تیار کی۔پٹیشن سے متعلق مسلم لیگ ن آج رہبر کمیٹی کو بھی اعتماد میں لے گی، رہبر کمیٹی میں الیکشن کمیشن ممبران اور چیف الیکشن کمشنر کے ناموں پر غور ہوگا۔دوسری طرفمتحدہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر و ممبران الیکشن کمیشن کے بروقت تقرر کے لئے سپریم کو رٹ میں پٹیشن پر غور کیاگیا، پٹیشن  آج دائر کرنے پر اتفاق ہواتو نو جماعتوں کے قائدین درخواست پر دستخط کریں گے۔ منگل کومتحدہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کااجلاس اکرم درانی کی رہائش گاہ پر ہوا جس میں کنوینر  اکرم درانی سردار ایاز صادق شاہ اویس نورانی ملک ایوب سید نیر حسین بخاری راناشفیق پسروری میاں افتخار حسین نے  شرکت کی۔اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر اور ممبران الیکشن کمیشن کے ناموں پر غورکیاگیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں پارلیمانی کمیٹی برائے تقرر چیف الیکشن کمشنر و ممبران الیکشن کمیشن کے پہلے اجلاس میں ہوئی مشاورت پر بھی غورکیاگیا۔رہبر کمیٹی اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر و ممبران الیکشن کمیشن کے بروقت تقرر کے لئے سپریم کو رٹ میں پٹیشن پر غور کیاگیا۔ ذرائع کے  مطابق پٹیشن  آج دائر کرنے پر اتفاق ہواتو نو جماعتوں کے قائدین درخواست پر دستخط کریں گے۔ پٹیشن کی تجویز اے پی سی کی تین رکنی کمیٹی نے دی تھی۔الیکشن کمیشن سے متعلق تین رکنی کمیٹی اکرم درانی نیر بخاری اور احسن اقبال نے تین مختلف اجلاس منعقدکئے۔دریں اثنامسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے تصدیق کی ہے کہ الیکشن کمیشن کے معاملے پر ابھی تک اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ وزیراعظم اس معاملے پر اپوزیشن سے بات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ مشاورت نہ ہوئی تو الیکشن کمیشن کا معاملہ لٹک جائے گا۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ بدھ کے روز ہونے والی میٹنگ میں ڈیڈ لاک ختم ہونے کا امکان ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے چیف الیکشن کمشنر کیلئے ناصر کھوسہ کا نام دیا ہے۔ ناصر کھوسہ کا نام پی ٹی آئی نے نگران وزیراعلیٰ کیلئے بھی دیا تھا۔ ہمیں ان جیسے لوگوں کی ضرورت ہے۔ایک اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کا مسودہ ابھی دیکھا نہیں، تاہم حکومت پہلے ہی روز یہ معاملہ حل کر سکتی تھی، مسودہ دیکھ کر معاملے کو ڈیل کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ جن کے پاس مینڈیٹ ہے وہ بات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اسمبلی میں سب سے اہم قانون سازی ہونے جا رہی ہے۔ ان حالات میں قانون سازی سمیت دیگر معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے

مسلم لیگ ن

مزید : صفحہ اول