کاروباری سیکٹر کیلئے حکومت کا گیس اور بجلی پر سبسڈی دینے کااعلان 

      کاروباری سیکٹر کیلئے حکومت کا گیس اور بجلی پر سبسڈی دینے کااعلان 

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وفاقی حکومت نے کاروباری طبقے کیلئے گیس اور بجلی میں سبسڈی دینے کا اعلان کر تے ہوئے کہاہے کہ عالمی ادارے بھی اب پاکستان کی معاشی بہتری کا اعتراف کر رہے ہیں، پاکستان اسٹاک ایکسچینج 40 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا ہے، موڈیز نے بھی پاکستان کی ریٹنگ منفی سے مثبت کر دی ہے، کم آمدنی والے افراد کو تعمیرات کیلئے سبسڈی دینگے،سرمایہ کاروں کے لیے قرضوں کی شرح سود میں بھی کمی کریں گے، کسی کو کوئی سپلیمنٹری گرانٹ نہیں دی جا رہی ہے، چاہتے میں ملک نوکریاں ملیں اور روز گار کے مواقع پیدا ہوں، آئی ایم ایف معاشی اہداف پورے ہونے پر 50 کروڑ ڈالر کی اگلی قسط دیگا،ہم نے ملکی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، اب اگلا مرحلہ اقتصادی ترقی میں تیزی کا ہے۔ جاری اورتجارتی کھاتوں میں کمی معاشی استحکام کی عکاس ہے،آئندہ سال مہنگائی کی شرح میں کمی آئے گی،ملکی برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو رہا ہے، ملکی درآمدات میں ساڑھے 5 ارب ڈالرکمی آئی ہے۔ منگل کو مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے وفاقی وزیر اقتصادی امور ڈویژن حماد اظہر اور چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں اقتصادی کارکردگی کی بحث چل رہی ہے،دنیا کی معیشت پر نظر رکھنے والے بڑے اداروں نے پاکستان کے معاشی استحکام کی تعریف کی گئی،رواں مالی سال میں مالیاتی خسارے کو کم کیا گیا،تجارتی خسارے کو کم کیا گیا،فارن ایکسچینج ریزرو میں استحکام ہے۔ انہوں نے کہاکہ عالمی بینک کے صدر نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہا،ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے امداد میں تین ارب ڈالر کا اضافہ کیا گیا،آئی ایم ایف نے پاکستان کی کارکردگی کی تعریف کی، موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ کو منفی سے مستحکم قرار دے دیا۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کے سرمایہ کار بھی پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں،پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 236 فیصد اضافہ ہوا ہے،گزشتہ چار ماہ میں پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ 40 ہزار پوائنٹس سے اوپر چلی گئی،ٹیکس وصولی میں 16 فیصد اضافہ ہوا،حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ہوئی ہے،سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا۔انہوں نے کہاکہ نان ٹیکس ریوینو میں بھی اضافہ ہوا،حکومت چاہتی ہے سرمایہ کاری بڑھے اور روزگار کے مواقع بڑھے،برآمدات میں اضافہ کیلئے صنعتی شعبے کو بجلی اور گیس میں ٹیرف دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں تعمیراتی شعبے کو فروغ دے رہے ہیں،ایف بی آر کا ریفنڈ پروگرام خودکار ہے۔عبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جتنا ممکن ہے کمی کی،پچھلے پانچ ماہ میں پیٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی،اس وقت بھی عام آدمی کو ریلیف دیا گیا ہے،151 ارب روپے غریبوں کیلئے رکھیں۔ انہوں نے کہاکہ آٹے چاول گھی اور شکر میں سبسڈی کیلئے یوٹیلٹی سٹور کو چھ ارب روپے فراہم کیے۔حماد اظہر نے کہاکہ آئندہ چھ ماہ میں معاشی ترقی کو تیز کریں گے،معاشی استحکام کیلئے بہت محنت کی،اچھی ریٹنگ لینے کیلئے بہت محنت کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ درآمدات میں ساڑھے پانچ ارب ڈالر کی کمی ہوئی اس کے باوجود ٹیکس وصولی میں 17 فیصد اضافہ ہوا، درآمدات پر ٹیکس وصولی میں کمی ہوئی مگر مقامی صنعتوں سے ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہاکہ سرمایہ کار ریئل ریٹ اف ریٹرن دیکھ کر سرمایہ کاری کرتے ہیں انٹرسٹ ریٹ دیکھ کر نہیں۔شبر زیدی نے کہاکہ ریفنڈ کا طریقہ کار خود کار ہے،25 ارب روپے کے ریفنڈ جمع ہوئے 5 ارب روپے ادا کر دیئے جبکہ 16 ارب روپے کی ادائیگی پر کام جاری ہے،فاسٹر ریفنڈ نظام میں کوئی انسانی مداخلت نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہاکہ ڈیوٹی ڈرابیک کو بھی تیز رفتار پر کلئیر کیا جائے گا،ٹرانسفر اور پوسٹنگ کیلئے پالیسی لائیں گے،ریفنڈ میں بڑی کرپشن کا تاثر ہے آٹومیشن سے کرپشن کا خاتمہ ہو گا۔مشیر خزانہ نے کہاکہ ہم نے 30 ارب روپے کے بانڈ کینسل کر کے نقد ادائیگی کر دی ہے۔حماد اظہر نے کہاکہ بڑی صنعتوں کی شرح ترقی میں کمی ہوئی ہے،آنے والے دنوں میں بڑی صنعتوں کی شرح ترقی میں اضافہ ہو گا،بھارت کے ساتھ تجارت روکنے سے غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا،پرائس مجسٹریٹسی کو دوبارہ بحال کیا جا رہا ہے۔عبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا پڑے گا،اس حکومت میں تمام فیصلے میرٹ پر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اداروں کو مضبوط بنایا جا رہا ہے،پرائمری بیلنس پاکستان میں سرپلس میں چلا گیا،ملک کے اخراجات آمدن سے کم ہو گئے،ہمیں 19 کروڑ پاؤنڈ مل رہے ہیں تاہم ابھی تفصیلات آ رہی ہیں۔مشیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے اشیاء کی قیمتوں میں ہر ممکن کمی کی جائے اسی لئے پچھلے پانچ مہینے میں پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھائی گئی، حکومت بجلی و گیس کی قیمت پر سبسڈی فراہم کررہی ہے، ایکسپورٹ کرنے والے سیکٹرز ریلیف دے رہے ہیں، صنعتوں کو سود کی شرح پر 300 ارب روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے، تعمیرات کی سرگرمیوں کو بڑھایا جائے گا اور 300 ارب کے گھر بنانے کیلئے 30 ارب روپے سبسڈی دی جائے گی۔علاوہ ازیں مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ سے ایشیاء کیلئے امریکی نائب معاون سیکرٹری خارجہ رابرٹ کاپروتھ نے ملاقات کی۔ جس میں پاکستان میں امریکہ کے سفیر پال جونز اور امریکہ کے ڈائریکٹر جنوب اور جنوبی ایشیا سیٹھ بلی ویس اور سیکرٹری خزانہ نوید کامران بلوچ بھی موجود تھے۔مشیر خزانہ نے امریکی وفد کو پاکستان میں کلی معیشت (میکرو اکنامک) کے استحکام کے حصول کیلیے کئی گئی حکومتی کوششوں اور بالخصوص حسابات جاریہ اور تجارتی خسارے میں کمی، محصولات میں اضافے،کرنسی کی شرح تبادلہ میں استحکام، سٹاک ایکسچینج میں ہونے والی مثالی کاروباری سرگرمی سمیت حالیہ مہینوں میں حاصل ہونے والی دیگر اقتصادی کامیابیوں سے آگاہ کیا۔ امریکہ کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری نے پاکستانی حکومت کی جانب سے معیشت کی بہتری کیلیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ میکرو اکنامک استحکام کو ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے مزید موثر اور پائیدار بنایا جائے گا۔

حکومت/اعلان

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ معاشی اصلاحات کازیادہ بوجھ متوسط اور کم آمدن والے طبقے پر پڑا ہے۔ ملازمین کی تنخواہوں سے زائد ٹیکس کی کٹوتی اور مہنگائی اس بوجھ میں شامل ہیں۔گورنر سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ معاشی بہتری کے ثمرات متوسط اور غریب طبقے تک پہنچانا ضروری ہیں۔ کاروبار میں آسانی کیلئے مزید اقدامات کرنا ہوں گے جبکہ غذائی مارکیٹوں میں ذخیرہ اندوزی پر قابو پانا ہوگا۔رضا باقر نے کہا کہ موڈیز کی جانب سے معیشت کے آؤٹ لک میں تبدیلی مثبت پیشرفت ہے۔ آؤٹ لکی میں تبدیلی کا مطلب اٹھائے گئے معاشی اقدامات کی تائید کرنا ہے جبکہ سٹاک مارکیٹ میں بہتری بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کر رہی ہے۔

گورنر سٹیٹ بینک

مزید : صفحہ اول