پارلیمنٹ میں کوئی قانون سازی یا آئینی ترمیم نئے انتخابات کے بعد ہی ممکن ہو گی: فضل الرحمن 

پارلیمنٹ میں کوئی قانون سازی یا آئینی ترمیم نئے انتخابات کے بعد ہی ممکن ہو ...

  



کوئٹہ(آئی این پی) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ متحدہ اپوزیشن کے اتحاد اور مشترکہ جدوجہد نے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے، پارلیمنٹ میں کسی بھی ترمیم اور قانون سازی نئے انتخابات اور موجودہ وزیر اعظم کے خاتمہ کے بعد ممکن ہوسکے گی۔ وہ جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی ترجمان حافظ حسین احمد سے ان کی رہائشگاہ پر جماعتی امور پر مشاورت کے بعد گفتگو کررہے تھے، اس موقع پر صوبائی امیررکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع، صوبائی جنرل سیکریٹری رکن قومی اسمبلی سید محمود شاہ، مولانا انوار الحق، حافظ خلیل احمد، حافظ رشید احمد، صاحبزادہ حافظ منیر احمد، حافظ زبیر احمد، رکن صوبائی اسمبلی اصغر ترین، ظفر حسین بلوچ اوردیگر بھی موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے مزیدکہا کہ متحدہ اپوزیشن نئے انتخابات کے مطالبہ پر سیسہ پلائی دیوار بن چکی ہے اور حزب اختلاف کی پارٹیوں کے سربراہوں کی باہمی مشاورت کا آغاز کیا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ ماہ دسمبر عمران نیازی پر بھاری ہوگا اور آزادی مارچ کے بعد سے اس حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے، انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں قوانین کے تدوین اور آئین میں ترمیم کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا، انہوں نے کہا کہ ہفتہ رفتہ کے واقعات کے بحران سے اپوزیشن کے موقف کی تائید ہوگئی ہے، مرکزی کابینہ اور صوبہ پنجاب میں بار بار کی ”رفوگری“ سے حالات کو سنبھالا دینے والے اپنے آپ اور عوام کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں مگر اب عوام حکمرانوں کا اصل چہرہ پہچان چکے ہیں، مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن پارلیمنٹ میں مشترکہ حکمت عملی اور آزادی مارچ کے مزید ثمرات کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کرلے گی۔ 

فضل الرحمن

مزید : صفحہ اول