ایڈ ایشیاء ایڈور ڑاؤنگ کی پروقار کانگریس کا آغاز، ملکی و غیر ملکی کاروباری افراد کی شرکت، خطاب 

      ایڈ ایشیاء ایڈور ڑاؤنگ کی پروقار کانگریس کا آغاز، ملکی و غیر ملکی ...

  



لاہور(سٹاف رپورٹر) ایڈایشیا ء ایڈورٹائزنگ کی سب سے بڑی اور انتہائی پروقار کانگریس کا لاہور میں آغاز ہوگیا۔ یہ کانگریس 1958ء میں شروع ہوئی تھی،ایشین فیڈریشن آف ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن یہ کانگریس ہر دوسال میں منعقدکرتی ہے۔ ایڈ ایشیا ء 2019کو بین الاقوامی کاروباری کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے بھی رونق بخشی اور اِس سے خطاب کرنے والوں میں رینڈی زکربرگ، سر مارٹن سوریل، لارڈ ولیم ہیگ، رچرڈ کوئسٹ، فرنینڈو میکاڈو، وینج کورینٹس، ٹام گڈون،سرمد بشیر اور متعدد دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔ایشین فیڈریشن آف ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے انگلش بسکٹ مینوفیکچررز کے بانی و چیئرمین خاور مسعود بٹ کو لاہور میں پروقار”لیڈرشپ“ ایوارڈ سے نوازا گیا۔انہیں یہ اعزاز پاکستان میں مارکیٹنگ اور ایڈورٹائزنگ کی صنعت کیلئے غیر معمولی خدمات،وژن اور گڈ گورننس کے اعتراف میں دیا گیا ۔جسکی وجہ سے ای بی ایم نے گزشتہ برسوں میں کامیابی سے ترقی کی منازل طے کی ہیں۔خاور مسعود بٹ کی جانب سے یہ ایوارڈ انگلش بسکٹ مینوفیکچررز کی چیف ایگزیکٹو آفیسر اور مینیجنگ ڈائریکٹر، ڈاکٹر زیلف منیرنے وصول کیا۔خاور مسعود بٹ نے قوم کی ثقافتی اور تجارتی پیشرفت میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ انگلش بسکٹ مینوفیکچررز نے بھی ہمیشہ انٹرپرینیورشپ، تعلیم، صحت، کھیلوں، فنون اور ایڈورٹائزنگ کیلئے دل کھول کر مدد کی ہے جس سے اس بہترین کارکردگی کیلئے جذبے کے ساتھ ذہانت اور موقع کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت ظاہر ہوتی ہے۔خالد مسعود پیک فرینز دی پائید پائپر کا لیجنڈری کردار تخلیق کرنے کیلئے بھی شہرت رکھتے ہیں جو آج بھی مثبت اثر پیدا کررہا ہے اور جس کے نتیجے میں انہیں آج کے انتہائی متاثر کن انٹرپرینیورز میں سے ایک تسلیم کیا جاتا ہے۔انگلش  بسکٹ کے بانی نے گزشتہ برسوں کے دوران،ای بی ایم کی ترقی کا باعث بننے والے اْن کے وژن کا اعتراف کرنے پرایڈورٹائزنگ اور مارکیٹنگ کے قائدین کا شکریہ ادا کیا۔  انہوں نے کہا،”دنیا بھر میں مارکیٹنگ اور ایڈورٹائزنگ کے پیشے کی ترقی میں غیر معمولی تیزی آ گئی ہے اور اِسی کے ساتھ ٹیکنالوجی کا استعمال بھی تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے جو پاکستان میں کمیونیکیشنز میں انقلاب لے کر آیا ہے۔ اِن تمام تبدیلیوں کے درمیان ای بی ایم پاکستان میں جدت اور ترقی کے میدان میں پیش پیش رہنے کے علاوہ معیار اور کارکردگی میں عالمی معیار پر پورا اترنے کیلئے پر عزم ہے۔“خاور مسعود بٹ نے جہاں کاروباری کمیونٹی کیساتھ مضبوط تعلقات بالخصوص ایڈورٹائزنگ اور مارکیٹنگ کے شعبوں میں پروان چڑھایا ہے، وہیں انہوں نے 1989ء میں پاکستان میں ہونیوالی ایڈایشیا ء کانفرنس کے انعقاد میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہیں اِس بات کا کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ وہ ٹیلیویژن کیلئے پہلے ایڈورٹائزرزمیں سے ایک ہیں اور انہوں نے پاکستان کے بعض ابتدائی ٹی وی چینلوں کی ترقی میں بھی مدد کی ہے۔خاور مسعود بٹ کیلئے،عوام میں سماجی اور اقتصادی آگاہی پھیلانے اور معیشت کو زیادہ مستحکم بنانے کیلئے ایڈورٹائزنگ نے ہمیشہ طاقتور کردار ادا کیا ہے۔ اس خوش قسمت موقع پر، ای بی ایم کا نیا لوگو (logo) بھی متعارف کرایا گیا۔اس موقع پر ای بی ایم کی چیف ایگزیکٹو آفیسر اور منیجنگ ڈائریکٹر زیلف منیر نے اس تبدیلی کے پیچھے موجود خیال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا،”ہماری یہ نئی اور تازہ کارپوریٹ شناخت ہمارے برانڈ کے مقصد کو نمایاں کرتی ہے یعنی ’غذاکی طاقت سے بھرپور زندگی، جذبہ اور لوگ‘۔ یہ علامت تین انوکھے اجزاء کو ظاہر کرتی ہے جنہیں ہمارے برانڈ کے ”دل‘‘کی صورت میں اکھٹا کیا گیا ہے۔پر امید طلوع ہوتا ہوا سورج ہماری انٹرپرائز کے حوالے سے عمل کیلئے فراہم کرنے والی طاقت، مصروفیت اور نمایاں کردار کی علامت ہے آخر میں ایک انسانی احساس روشن مستقبل کے وعدے کی نشاندہی ہے۔ای بی ایم کیلئے یہ ایک اعزاز ہے کہ اس نے اپنی یہ نئی شناخت مارکیٹنگ کے اس بڑے ایونٹ کے موقع پر پیش کی ہے۔انہوں نے ایڈایشیا ء جسے بڑے عالمی فورم کے ایک مرتبہ پھرپاکستان میں انعقاد پر منتظمین کی کوششوں کو سراہا اور کہا،”ای بی ایم کسی بھی ایسے فورم کیلئے سپورٹ جاری رکھے گا جس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا امیج بلند کرنے میں مدد ملتی ہو۔

خاور مسعود بٹ

مزید : صفحہ اول