’بیٹی کو لیڈی ڈاکٹر بنانا چاہتا ہوں‘ وہ آدمی جو بیٹیوں کو 12 کلومیٹر دور سکول لے جاتا ہے، کئی گھنٹے باہر بیٹھتا ہے اور چھٹی کے بعد بیٹیوں کو واپس لے کر آتا ہے، میا خان دنیا بھر میں ہیرو بن گئے

’بیٹی کو لیڈی ڈاکٹر بنانا چاہتا ہوں‘ وہ آدمی جو بیٹیوں کو 12 کلومیٹر دور سکول ...
’بیٹی کو لیڈی ڈاکٹر بنانا چاہتا ہوں‘ وہ آدمی جو بیٹیوں کو 12 کلومیٹر دور سکول لے جاتا ہے، کئی گھنٹے باہر بیٹھتا ہے اور چھٹی کے بعد بیٹیوں کو واپس لے کر آتا ہے، میا خان دنیا بھر میں ہیرو بن گئے

  



کابل (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایک افغان شہری میا خان پاکستان میں ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کر رہے ہیں جس کی وجہ ان کی اپنی بیٹیوں کی تعلیم کیلئے دی جانے والی قربانی ہے۔

میا خان کا تعلق افغانستان کے صوبے پکتیکا سے ہے جو اپنی بیٹیوں کو موٹر سائیکل پر 12 کلومیٹر دور سکول میں لے جاتا ہے اور چھٹی کے وقت تک گھنٹوں سکول کے باہر ہی انتظار کرتا ہے، چھٹی ہوتی ہے تو وہ اپنی بیٹیوں کو واپس گھر لے کر آتا ہے۔ میا خان کا کہنا ہے کہ وہ ان پڑھ ہے جس کی وجہ سے مزدوری کرتا ہے، لیکن وہ چاہتا ہے کہ اپنی بیٹیوں کو اچھی تعلیم دلائے اور ڈاکٹر بنائے کیونکہ ان کے علاقے میں کوئی لیڈی ڈاکٹر نہیں ہے۔

سویڈش کمیٹی برائے افغانستان نے میا خان کی کہانی دنیا کے سامنے پیش کی ہے۔ میا خان کی بیٹیاں سویڈش کمیٹی کے نورانیہ سکول میں پڑھتی ہیں ۔ میا خان کی ایک صاحبزادی روزی کا کہنا ہے ’ مجھے خوشی ہے کہ مجھے تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل رہا ہے، اس سال میں چھٹی جماعت میں ہوں، میرے والد یا بھائی ہمیں سکول لاتے ہیں اور جب چھٹی ہوتی ہے تو واپس لے کر جاتے ہیں۔‘

میا خان کی تین بیٹیاں نورانیہ سکول میں زیر تعلیم ہیں ۔ میا خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے تعلیم کے اعلیٰ معیار کے باعث دور ہونے کے باوجود اس سکول کا انتخاب کیا ہے۔

میا خان کی کہانی سامنے آنے پر وہ دنیا بھر میں ایک ہیرو کی حیثیت اختیار کرگئے ہیں، پاکستان میں بھی میا خان کی تعریف کی جارہی ہے اور انہیں ویمن ایجوکیشن کے سمبل کے طور پرپیش کیا جارہا ہے، ٹوئٹر پر بھی میا خان کے نام کا ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس