شہریوں کےساتھ غیرمناسب رویہ برتنےوالوں کی محکمہ پولیس میں کوئی جگہ نہیں،عزت نفس کاخیال نہ رکھنے والوں کےخلاف سخت کارروائی کی جائے: آئی جی پنجاب

شہریوں کےساتھ غیرمناسب رویہ برتنےوالوں کی محکمہ پولیس میں کوئی جگہ ...
 شہریوں کےساتھ غیرمناسب رویہ برتنےوالوں کی محکمہ پولیس میں کوئی جگہ نہیں،عزت نفس کاخیال نہ رکھنے والوں کےخلاف سخت کارروائی کی جائے: آئی جی پنجاب

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب شعیب دستگیر نےکہاہے کہ پنجاب پولیس کا اصل چہرہ فیلڈ ڈیوٹی سر انجام دینے والے پولیس فورس میں موجود85فیصد کانسٹیبلز ہیں جو اپنے رویوں، وردی اور باڈی لینگوئج سے عوامی سطح پر پنجاب پولیس کی براہ راست نمائندگی کرتے ہیں لہذا عوام کی نظر میں محکمہ پولیس کی عزت اور وقار کو بحال کرنے کیلئے کانسٹیبلز کوخوش گفتاری، پروفیشنلزم اور شہریوں کی راہنمائی کے ذریعے ہی عوام میں محکمے کے مجموعی تاثر کو بدل سکتے ہیں۔اُنہوں نے کانسٹیبلز کو ہدایت کی کہ دوران ڈیوٹی اس بات کو بطور خاص مد نظر رکھیں کہ آپ سینکڑوں شہدائے پولیس اور غازیوں کی لازوال قربانیوں اور شجاعت کے امین بھی ہیں لہذا کوئی بھی ایسا کام نہ کریں جس سے شہدا ئے پولیس کے مقدس مشن پرکوئی حرف آئے،لاہور پولیس میرا گھر ہے اور میں نے یہاں اپنے کیرئیر کے دوران ہر رینک میں خدمات سر انجام دی ہیں اور گھر کے سربراہ کی حیثیت سے میں اچھا کام کرنے والے ہر فرد کی بھرپور حوصلہ افزائی کروں گا جبکہ میں یہ واضح کردینا چاہتاوہوں کہ سرکش اولاد کی اس گھر میں کوئی جگہ نہیں ہوگی، صرف پبلک سروس ڈلیوری کو بہتر سے بہتر بناکر ہی عوامی توقعات پر پورا اتر سکتے ہیں، قانون کی پاسداری او فوری عملداری ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہیں لہذا اوپن ڈور پالیسی کو اپناتے ہوئے برابری کی بنیاد پر ہر شہری کے مسائل حل کئے جائیں اور عوام کی عزت نفس کو کسی صورت مجروح نہ ہونے دیا جائے، شہریوں کے ساتھ غیر مناسب رویہ برتنے والوں کی محکمہ پولیس میں کوئی جگہ نہیں اور ایسے افراد کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ وردی اور اختیار ہمارے پاس اللہ کی امانت ہے لہذا اللہ نے آپ کو اختیار دیا ہے تو اس کااولین تقاضہ ہے کہ اپنے رویہ میں مزید عاجزی لائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ پولیس میں جزا و سزا کا عمل مزید سخت کیا جا رہا ہے اور جو افسران و اہلکار اپنے فرائض محنت، لگن اوردیانت داری سے سرانجام دیں گے انہیں ہر سطح پر سراہا جائے گا اور لیڈر شپ بھی ان کے ساتھ کھڑی ہو گی لیکن غفلت، دانستہ لاپروائی اور اختیارات سے تجاوز کرنے والے سے کسی صورت رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ افسران تھانوں کی انسپکشن کرتے وقت صرف انفراسٹرکچر کی ظاہری حالت ہی چیک نہ کریں بلکہ ریکارڈ اور کرائم گراف کا بھی جائزہ لیں،ہمیں پولیس سروسز ڈیلیوری کو بہتر سے بہتر بنا کر عوام کا اعتماد جیتنا ہے اس لئے محنت کو اپنا شعار بناتے ہوئے اس مقدس فریضہ کی ادائیگی کو یقینی بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

 پولیس لائز قلعہ گجر سنگھ لاہور میں پولیس درباراور میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی پنجاب نے کہا کہ دستیاب وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم جانتے ہیں کہ پولیس ہر شہری کو سکیورٹی مہیا نہیں کر سکتی لیکن ہمارا فرض ہے کہ ہم مجموعی طور پر احساس تحفظ کو فروغ دیتے ہوئے امن و امان کی صورتحال کو بہتر سے بہتر بنانے کیلئے خلوص نیت سے کام کریں۔ اس موقع پر آئی جی پنجاب نے میڈیا کے نمائندوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ پولیس میں تمام تعیناتیاں میرٹ پر ہوں گی کیونکہ میرٹ کا فروغ اور سفارش کلچر کاخاتمہ میری ترجیحات میں شامل ہے، ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے جہاں بہتر سے بہتر نتائج حاصل کرنا میری ذمہ داری ہے وہیں اپنی فورس کی ویلفیئر کا خیال بھی مجھے ہی رکھنا ہے،اس لئے پولیس ملازمین خصوصا شہدا کی فیملیز کے مسائل کے حل کے لئے ہر ممکن کوشش جاری رکھوں گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ پولیس میں میرے لئے سب سے زیادہ اہمیت اپنے کانسٹیبل کی ہے کیونکہ پولیس فورس کے کانسٹیبل کی عزت ہی محکمہ پولیس کی عزت ہے، اس لئے پولیس اہلکاروں کو درپیش مسائل حل کرتے ہوئے ان کی عزت و وقار کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔پولیس دربار کے بعد افسران سے خصوصی میٹنگ کے دوران آئی جی پنجاب نے افسران کو ہدایات دیتے ہوئے کہاکہ لاہور شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر جدید انٹی گریٹڈ کنٹرول روم بنائے جائیں جہاں تمام جرائم پیشہ افراد، چوری شدہ گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کا ڈیٹا موجود ہو اور آنے جانے والی گاڑیوں کی بطور خاص چیکنگ کی یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ سنٹرل پولیس آفس کے علاوہ سی سی پی اور آفس اور ڈی آئی جی آپریشنز آفس میں بھی اس سسٹم کی موثرمانیٹرنگ کو یقینی بنایاجائے،سرکل لیول پرافسران کی سپر ویژن کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ تھانہ کی سطح پر پولیس کی پرفارمنس میں بہتری کا عمل مزید تیز ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ سی سی پی او لاہور،ڈی آئی جی آپریشز سمیت تمام ایس پیز دفاتر کے ساتھ ساتھ فراغت کے بعد اپنا زیادہ وقت فیلڈ میں تھانوں اور فورس کی انسپکشن پر صرف کریں کیونکہ فیلڈ کے معاملات کو بہتر بنانا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے تاکید کہ تھانوں بالخصوص ڈی ایس پیز کے دفاتر کی انسپکشن کو شعار بنایا جائے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ موٹر سائیکل غریب آدمی کی سواری ہے لہذا شہر میں موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں کی روک تھام کیلئے موثر حکمت کے تحت بر وقت اقدامات کو یقینی بنانے کیلئے تمام توانیاں صرف کی جائیں۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور