”یہ کام کرکے بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ پر عدم اعتماد کا اظہار کیاگیاہے“، جاوید لطیف کادعویٰ

”یہ کام کرکے بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ پر عدم اعتماد کا اظہار کیاگیاہے“، جاوید ...
”یہ کام کرکے بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ پر عدم اعتماد کا اظہار کیاگیاہے“، جاوید لطیف کادعویٰ

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف نے کہاہے کہ شہزاد اکبر کو وزارت داخلہ میں نئی ذمہ داریاں دینے کا مطلب بریگیڈیئر(ر) اعجاز شاہ پر عدم اعتماد کا اظہارہے ، کیا اعجاز شاہ کو اس بات کی سزا دی جارہی ہے کہ اس نے کچھ روز قبل کہا تھا کہ نواز شریف کو تین چار باتیں نہ ماننے کی سزا دی جارہی ہے ؟

دنیانیوز کے پروگرام ”آن دا فرنٹ“میں گفتگو کرتے ہوئے جاوید لطیف نے کہا کہ عمران خان اپوزیشن میں تھے تو بھاشن دیا کرتے تھے کہ اداروں کواہمیت کیوں نہیں دی جاتی ، حکومت اور اپوزیشن اہم قومی مسائل پر اکٹھی نہیں کیوں نہیں ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان الیکشن کمیشن کے ممبران کاتقرر نہیں چاہتے ، بدقسمتی یہ ہے کہ جب کسی ملک کاچیف ایگزیکٹو اداروں کواپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کی کوشش کرتاہے تو پھر پارلیمان کی کیا اہمیت رہ جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان دوسرے کسی بندے سے ہاتھ ملانے کیلئے تیار نہیں ہیں اور گالیاں دیتے ہیں تو اس کے بعد اس میں کیا شبہ رہ جاتاہے کہ عمران خان پارلیمان میں قانون سازی کیلئے مخلص نہیں ہیں۔

جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ جب آپ روز گالی دیں گے تو غصے میں” تو“ کا لفظ تو ضرور نکلے گا ، جھوٹا اور نا اہل کہنا کونسی گالی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ شہزاد اکبر کو وزرات داخلہ میں نئی ذمہ داری دینے کا مطلب بریگیڈیئر(ر) اعجاز شاہ پر عدم اعتماد کا اظہارہے ، کیا اعجاز شاہ کو اس بات کی سزا دی جارہی ہے کہ اس نے کچھ روز قبل کہا تھا کہ نواز شریف کو تین چار باتیں نہ ماننے کی سزا دی جارہی ہے؟انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی راہ میں وزیر اعظم حائل ہیں ، روز گالی دینے والوں کواب جواب مل رہاہے ۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد