حکومت الیکشن کمیشن کے کس ممبر کو چیف الیکشن کمشنر لگانا چاہتی ہے ؟ شہلا رضانے بتادیا

حکومت الیکشن کمیشن کے کس ممبر کو چیف الیکشن کمشنر لگانا چاہتی ہے ؟ شہلا رضانے ...
حکومت الیکشن کمیشن کے کس ممبر کو چیف الیکشن کمشنر لگانا چاہتی ہے ؟ شہلا رضانے بتادیا

  



کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) صوبائی وزیر شہلا رضا نے کہاہے کہ تحریک انصاف کاخیال ہے کہ پنجاب اور سندھ کے ممبرز کا مسئلہ حل نہیں ہورہا اور دسمبر میں جب دیگر ممبرز بھی ریٹائرڈ ہوجائیں گے تو ہم ان میں سے کسی سینئر ممبر کوچیف الیکشن کمشنر لگادیں ، یہ بادشاہی فیصلے کیسے کررہے ہیں؟

دنیا نیوز کے پروگرام ”آن دافرنٹ“میں گفتگو کرتے ہوئے شہلا رضا نے کہا کہ آصف علی زرداری جب صدر تھے تو اس سے پہلے وہ نواز شریف اور مختلف قوتوں کے ہاتھوں ساڑھے گیارہ سال کی قید کاٹ کرآئے تھے لیکن کو ئی ایک لفظ بھی ایوان صدر سے باہر نہیں آیا اور میڈ یاٹرائل بھی روز ہوتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اگر جیتے تھے تو جیتنے کے بعد پھل دار درخت جھک جاتاہے ، وزیر اعظم اگر بڑے ہیں تو ان کی بڑھائی اس میں نہیں ہے کہ امریکہ کے سٹیج سے ایسی باتیں کریں ،ریاض میں جاکر بھی اور چین میں بھی جاکر ایسی باتیں کرتے ہیں ، ان کو پتہ نہیں اپوزیشن کا پہاڑہ کس نے یاد کروایاہے کہ وہ ایسی باتیں کرتے ہیں۔

شہلا رضا کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم الیکشن کمیشن کومعطل باڈی بناناچاہتے ہیں کیونکہ تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کا کیس بھی ادھر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کاخیال ہے کہ پنجاب اور سندھ کے ممبر کا مسئلہ حل نہیں ہورہا اور دسمبر میں جب دیگر ممبر بھی ریٹائرڈ ہوجائیں گے تو ہم ان میں سے کسی سینئر ممبر کوچیف الیکشن کمشنر لگادیں گے تو یہ بادشاہی فیصلے کیسے کررہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہم تواس وقت بات کریں گے جب یہ ہم سے بات کریں گے ، حکومت تو ہم کو بات کرنے کے قابل ہی نہیں سمجھتی ، یہ غرور میں مبتلا ہیں۔

مزید : قومی