آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ قانونی طور پر درست نہیں، فواد چودھری

آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ قانونی طور پر درست نہیں، ...
آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ قانونی طور پر درست نہیں، فواد چودھری

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کے قانونی نقطہ نظر سے اختلاف کی کافی حد تک گنجائش ہے ،آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ کا فیصلہ قانونی طور پر درست نہیں ،سپریم کورٹ پارلیمنٹ کو قانون سازی کی ہدایت نہیں کرسکتی ۔

دنیا نیوز کے پروگرام ”دنیا کامران خان کے ساتھ“میں گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہاہے کہ چیف جسٹس عدالت عظمیٰ کے بنچ کے دیگر ججز کے قانونی نقطہ نظر سے اختلاف کی بہت گنجائش موجود ہے۔ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کو قانون سازی کرنے کی ہدایت نہیں کرسکتی ۔ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے ماتحت نہیں ، ایک آزاد ادارہ ہے ۔

فواد چودھری نے کہاکہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی ہوناضروری ہے ، وزیراعظم اپوزیشن کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے تھے۔ الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنانے کیلئے تیارہیں۔انہوں نے کہا کہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے وزیراعظم نے کمیٹی قائم کی ہے۔ عمران خان کو 4 حلقے کھلوانے کیلئے4سال لگے تھے۔

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے ممبران پربڑی مثبت پیشرفت ہے، الیکشن کمیشن معاملے پرکوئی ڈیڈلاک نہیں ہے،الیکشن کمیشن کے تینوں ممبران پراپوزیشن کیساتھ اتفاق رائے ہے۔چیف الیکشن کمشنرکی تعیناتی کیلئے کل اجلاس ہورہاہے۔ پی ٹی آئی چیف الیکشن کمشنرکیلئے نام آج رات فائنل کرلے گی،کل اجلاس میں چیف الیکشن کمشنرکانام بھی دےدیں گے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کولازمی قانون سازی کی ہدایت نہیں کرسکتی،چاہتے ہیں جلدازجلدقانون سازی کامعاملہ حل ہو،ہماری قانونی ٹیم ہی حتمی فیصلہ کرے گی۔

مزید : قومی /اہم خبریں