”پی ڈی ایم اتحاد ایکسپوز ہونے لگا“

”پی ڈی ایم اتحاد ایکسپوز ہونے لگا“
 ”پی ڈی ایم اتحاد ایکسپوز ہونے لگا“

  

موجودہ حکومت نے قوم کو کیا دیا، عوام سے کئے گئے کتنے وعدے پورے کئے گئے، نئے پاکستان کا خواب کہاں تک پورا ہوا، تبدیلی کے اثرات کیا رنگ دکھا رہے ہیں،پاکستانی عوام ڈھائی سال سے چس لے رہے ہیں اور اب گلگت بلتستان کے عوام پی ٹی آئی کو حکومت دے کر تبدیلی کے مزے لینے کا فیصلہ کیا ہے، حکومت کیا کر رہی ہے اور اب گلگت بلتستان  کے عوام پی ٹی آئی کو حکومت دے کر تبدیلی کے مزے لینے کا فیصلہ کیا ہے، حکومت کیا کر رہی ہے، اصل مشکلات کیا ہے، کورونا کے عالمی سطح کی تبدیلیاں کیا رنگ دکھانے والی ہیں۔کورونا ویکسین کی آڑ میں کیا ہونے جا رہا ہے ایسے طویل موضوعات ہیں جو آج کی نشست میں زیر بحث نہیں لا رہا۔ آج گیارہ جماعتوں کے غیر فطری اتحاد کی بات کرنی ہے، اتحاد میں شامل ایک ایک جماعت کے ماضی کی بات کی جائے تو نہ رُکنے والا پنڈورا بکس کھلتا چلا جائے گا۔ قرآن عظیم الشان میں ارشاد ہے! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو۔دو عملی،دوہرا معیار، جھوٹ منافقت کی ایسی داستان رقم کی جا رہی ہے جس کی پاکستان تو کیا دُنیا بھر میں مثال نہیں ملتی۔ پی ڈی ایم کیسے بنا، مقاصد کیا تھے، منشور کیا ہے، اتنی جلدی میں کیوں ہے ایسے بہت سے سوالات ہیں جن کے آہستہ آہستہ جوابات قوم کو ملنا شروع ہو جائیں گے۔ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ(ن)، اے این پی، جمعیت اہلحدیث، جے یو آئی، جے یو پی، شیر پاؤ پارٹی، مینگل پارٹی، پی ٹی ایم اور دیگر اتحادی جماعتوں کے گزشتہ 30سالہ نعرے، منشور، سیاست اقتدار، اپوزیشن میں کردار کی کتاب کی ورک گردانی کی جائے۔

خاص آدمی تو خاص آدمی عام آدمی بھی سر پکڑ  کر بیٹھ جائے گا، سیاست میں حریف حلیف بننے کی مثالیں تو موجود ہیں،دائیں بائیں کی سیاست زم ہونے، سرخ سبز ایک ہونے، ملک دشمنی، غداری اسلام دشمنی کرپشن کے الزامات واپس لینے کی اور باہم شیر و شکر ہونے کی تاریخ پہلی دفعہ رقم ہو رہی ہے، ایمان داری والی بات ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے، موجودہ حکومت سے جتنے آج لوگ نالاں اور تنگ ہیں شاید اس سے پہلے کبھی کسی حکومت سے ناراض اور تنگ نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے مَیں بھی سوشل میڈیا الیکٹرونک میڈیا میں جاری حکومت مخالف مضبوط مہم کا شکار ہوتے ہوتے رہ گیا۔ ورنہ مَیں بھی جذباتی انداز میں مولانا فضل الرحمن کے مشن کو اُمت مسلمہ کی بقا کا مشن تسلیم کر کے پی ڈی ایم کی تحریک کو وقت کی ضرورت قرار دینے کے لئے پَر تولنے لگا تھا، خدا بھلا کرے ملتان کے جلسے میں تقریریں کرنے والوں کا، بالخصوص بی بی مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن کا جنہوں نے میری آنکھیں کھول دیں اور مَیں مریم بی بی کی 50منٹ کی طویل بے ربط تقریر سننے کے بعد نیند سے بیدار ہو گیا اور سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ مریم بی بی کا ایجنڈا آخر ہے کیا۔ 50 منٹ کی تقریر میں عمران خان کو اس دُنیا کا گندا، غلیظ، بدکردار، ماں باپ کا نافرمان، کرپٹ، تمام مسائل کا ذمہ دار، ملک دشمن، اسلام دشمن،کشمیر دشمن، مہنگائی دشمن، بے روزگاری کا ذمہ دار ثابت کر دیا گیا ہے۔ حیرانگی والی بات یہ ہے50منٹ میں مریم بی بی نے تحریک انصاف کی 22سالہ طویل جدوجہد کو ہی خاک میں نہیں ملایا، بلکہ مسلم لیگ(ن) کی تاریخ کو بھی بُری طرح مسخ کر دیا ہے۔

ملتان کے جلسے میں انوکھی تقریر نے مسلم لیگی کارکنان اور ذمہ داران کو بھی نئی سوچ دے دی ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا عمران خان پر الزام، کورونا جیسے وبائی مرض کا مذاق جس انداز میں اڑایا گیا، ان سے اچھی تو بے نظیر بھٹو مرحومہ کی صاحبزادی رہی،جس نے ایک گھنٹہ عوام پر سوار رہنے کی بجائے پانچ منٹ خطاب کر کے پانچ منٹ نعرے لگا کر ماحول کو گرمایا۔ بہرحال ملتان چوک گھنٹہ گھر میں مریم بی بی کی طرف سے بھٹو کی پھانسی کے بعد نمازِ جنازہ کے لئے بھٹو خاندان کو پیش آنے والی مشکلات کو نواز شریف خاندان سے جوڑنے اور پیپلزپارٹی کے یوم تاسیس پر مبارکباد آصفہ کے ساتھ یکجہتی کے نشان بنانے اور جئے بھٹو کے نعروں پر تالیاں بھی اگر قوم کی آنکھیں نہیں کھول سکیں تو پھر ہمارا اور ہماری عوام کا اللہ ہی حافظ ہے۔ ان کے بعد مولانا فضل الرحمن کا سربراہ کی حیثیت سے خطاب اور عمران خان کو یہودی لابی کا ایجنٹ ثابت کرنا لمحہ فکریہ نہیں تو اور کیا ہے۔ سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن کی دور اندیشی اپنی جگہ نظریہ ضرورت سیاسی بصیرت اپنی جگہ، مگر عورت کی حکمرانی کو مسترد کرنے والے دیہی رہنما مولانا فضل الرحمن سٹیج پر موجود مولانا ساجد میر، مولانا اویس نورانی سے سوالات تو ہوں گے، جو وطن ِ عزیز میں تین تین دفعہ اقتدار کے مزے لینے والی مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی نئی نسل کو اپنے دائیں بائیں کھڑے کر کے قوم کو کیا پیغام دے رہے تھے، کالم طویل ہو گیا۔پی ڈی ایم میں شامل اے این پی، شیر پاؤ محمود خان اچکزئی، داوڑ مینگل کے منشور اور منصویوں سے کون آگاہ نہیں، آخر مَیں ایک سوال عوام سے اور ایک سوال گیارہ جماعتوں کے ذمہ داران اور کارکنان سے کرنا ہے، ان کی رائے میرے لئے بڑی اہم ہو گی، ایکسپوز ہوتی قیادت اور پی ڈی ایم کی عمران خان سے جلدی نجات کی تحریک کا ڈراپ سین بھی ہونا ہے۔

پہلا سوال پی ڈی ایم اتحاد سے ملک دشمن مہنگائی کے ذمہ دار کشمیر کے غدار عمران خان کو آپ کے مطالبے پر اگر اسلام آباد سے نکال دیا جائے تو گیارہ جماعتوں میں کس کو اُن کی جگہ دی جائے۔ سوال کا دوسرا حصہ یہ ہے پی ڈی ایم کا مطالبہ ہے مذاکرات نہیں کرنے،پہلے حکومت کو جانا ہو گا، عمران بھی جلد جائے ان سے مذاکرات بھی نہیں کرے، فوج بھی عمران کو لانے کی ذمہ دار ہے، جمہوریت کی ذمہ دار ہے، پھر سارے مطالبات کس سے کیے جا رہے ہیں؟ عوام سے مختصر سوال ہے آپ کیا سمجھتے ہیں مسائل کے ذمہ دار قرار دیئے جانے والے عمران خان کو اُتار کر گیارہ جماعتوں میں سے کس کو وزیراعظم بنا دیا جائے، جو غدار نہ ہو کرپٹ نہ ہو، دو عملی کا شکار نہ ہو، کشمیر بھی آزاد کرائے، اسلامی نظام بھی نافذ کر دے، عوامی مسائل بھی حل ہو جائیں اور مہنگائی بھی ختم ہو جائے، میری عوام اگر جواب نہ دے سکیں تو کم از کم میری طرح ایک دفعہ سوچئے ضرور، پی ڈی ایم کو اتنی جلدی کیوں ہے؟

مزید :

رائے -کالم -