پی ڈی ایم اور اسٹبلشمنٹ میں بات چیت کا آغاز ہو گیا ، آصف زرداری کیا کردار نبھا رہے ہیں ؟ نجی ٹی وی سماءنے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا 

پی ڈی ایم اور اسٹبلشمنٹ میں بات چیت کا آغاز ہو گیا ، آصف زرداری کیا کردار نبھا ...
پی ڈی ایم اور اسٹبلشمنٹ میں بات چیت کا آغاز ہو گیا ، آصف زرداری کیا کردار نبھا رہے ہیں ؟ نجی ٹی وی سماءنے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )نجی ٹی وی ” سماءنیوز “کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کے درمیان ایک ہفتے کے دوران تین مرتبہ ٹیلیفونک رابطہ ہواہے جس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے ،

نجی ٹی وی ” سماءنیوز “ نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیاہے کہ نوازشریف اور فضل الرحمان کا لہجہ نرم کروانے کیلئے آصف زرداری سرگرم ہو گئے ہیں اور انہوں نے دونوں کو اسٹبلشمنٹ سے مذاکرات پر تیار کرنے کیلئے کوششوں کا آغاز کر دیاہے ۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیاہے کہ آصف زرداری کے مشترکہ دوستوں نے اسٹبلشمنٹ اور سابق صدر کے درمیان رابطہ کروانے کیلئے پل کا کر دار نبھایا ہے ، آصف زرداری کو اسٹبلشمنٹ کا پیغام پہنچایا گیاہے جس کے بعد سابق صدر اپنی علالت بھو ل کر نوازشریف اور فضل الرحمان کے بیانیے سے بھر پور فائدہ اٹھا رہے ہیں اور نوازشریف کے معاملات میں مفاہمت کے طور پر ڈیل کروانے میں مصروف ہیں ۔پی ڈی ایم کی تحریک کچھ دو اور کچھ لو کے مراحل میں داخل ہو چکی ہے ۔

سماءنیوز کا اپنی رپورٹ میں کہناتھا کہ آصف زرداری خود اس معاملے پر نوازشریف سے بات کر رہے ہیں جبکہ کچھ روز قبل مولانا فضل الرحمان سے بھی ملاقات کر چکے ہیں اور موجودہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے اسٹبلمشنٹ کا پیغام بتایا اور انہیں اعتماد میں بھی لے لیاہے ۔اس حوالے سے ایجنڈا تیار کیا جارہاہے پہلے مرحلے میں پی ڈی ایم کی تحریک ن لیگ کے سخت بیانیے میں نرمی لائے گی جس کے بعد معاملات کو آگے بڑھایا جائے گا اور مولانا فضل الرحمان کے سخت الفاظوں کی گولہ باری کو بھی کم کرنا ہو گا ، نوازشریف پر غداری سمیت دیگر اہم الزامات کے دباﺅ کو بھی کم کرنے پر گفتگو ہوئی ہے ۔

اسٹبلشمنٹ اور آصف زرداری کے درمیان رابطہ کروانے والی تیسری قوت پی ڈی ایم کی تجویز کردہ شرائط کو قبول کرتی ہے تو بات آگے بڑھے گی جو کہ آصف زرداری اور نوازشریف مشترکہ طور پر طے کر رہے ہیں ، اگر پس پرد ہ مذاکرات ناکام ہوئے تو تحریک میں مزید تیزی آئے گی ۔ پی ڈی ایم کی تحریک کے دوسرے مرحلے سے قبل ایک مثبت پیغام ملا ہے ، باضابطہ طور پر مذاکرات شروع ہوں گے تو تحریک کو بھی کم کرنا ہو گا تاہم ڈیل سے پہلے احتجاج اور مظاہرے اسی طرح جارہی رہیں گے ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -