شاہ زیب خانزادہ نے ندیم بابر اور شہباز گل کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا

شاہ زیب خانزادہ نے ندیم بابر اور شہباز گل کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا
شاہ زیب خانزادہ نے ندیم بابر اور شہباز گل کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا

  

 لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ نے معاون خصوصی شہباز گل اور مشیر پٹرولیم ندیم بابر کے جھوٹ کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔انہوں نے ایل این جی کی درآمد میں تاخیری فیصلوں سے 122ارب روپے کے نقصان کی خبر دی تھی جس کی شہباز گل اور ندیم بابر تردید کرتے رہے۔اپنے پروگرام میں شاہ زیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ چینی کا معاملہ اٹھانے پر ہمیں لیگل نوٹس بھیجے گئے۔ہمارے خلاف مہم چلائی گئی،185ارب روپے عوام کی جیب سےمہنگی چینی کی مد میں نکالے گئے۔گندم کی درآمد تاخیر سے کرنے پر ہم نے معاملہ اٹھایا ،جسے وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ دیر سے درآمد کی گئی۔وزراءروتے رہے کہ کورونا ہے درآمد نہیں ہوسکتی،225ارب روپے عوام کی جیب سے نکال لیے گئے۔ اینکر پرسن نے بتٰا یا122ارب روپے کا سکینڈل سامنے لیکر آئے ہیں ،سردیوں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کا پتہ ہونے کے باوجود گرمیوں میں سردیوں کے لئے گیس نہیں خریدی گئی۔وہی غلطی دوہرائی گئی جو 2018میں کی گئی اور 2018سے زیادہ نقصان کیا گیا،2018میں بھی یہی غلطی کی گئی تھی۔2019میں یہ غلطی نہیں کی گئی اور اس سال پھر یہ غلطی کی گئی اور زیادہ نقصان کیا گیا۔غلطی غلطی سے نہیں کی جارہی بلکہ جان بوجھ کر کی جارہی ہے۔شاہ زیب خانزادہ نے کہا کہ عوام کو غلطیاں چھپانے کے لئے گمراہ کیا جارہا ہےبلکہ جان بوجھ کر مختلف مافیاز کے تحفظ کے لئے جھوٹ بولا جارہا ہے۔

ندیم بابر نے ہمارے پروگرام کا حوالہ دیکر غلط بیانی کی۔جس کی تصیح ہم نے پروگرام میں کردی اس کے بعد جھوٹوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ندیم بابر نے ایک میڈیا ہاوس میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کہا جا رہا ہے کہ ہم نے 122ارب کا نقصان کر دیالیکن جنوری سے نومبر تک ہم نے 13سپاٹ ٹرمینل خریدے دسمبر میں 6بک کیے،ایوریج ایک کارگو کی قیمت 22سے 25ملین ڈالر ہوتی ہے۔میں یہ 19کارگو فری لے آتا تو یہ 75سے 76ارب بنتے ہیں ،میں ان کو فری لے آتا تو کل رقم 75سے 76ارب روپے بنتے۔

شاہ زیب خانزاہدہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے پھر غلط بیانی کردی۔ہم نے ایک ایک چیز بتائی تھی کہ کیسے 122ارب روپے بنتے ہیں۔2018میں ایل جی ٹرمینل پوری طرح استعمال نہ کرنے پر 45ملین ڈالر ادا کئیے۔2019اور 2020میں بھی ٹرمینل پورا ستعمال نہیں کیا جاسکا،یعنی پیسے ضائع کیے گئےجس سے تقریبا 25ارب روپے کا نقصان کیا گیا۔30ارب روپے کا نقصان اس سال میں 9ماہ میں فرنس آئل سے مہنگی بجلی پیدا کرکے کیا گیا۔20ارب روپے کا نقصان فرنس آئل سے بجلی پیداکرنے سے سردیوں میں ہوگا۔10ارب روپے کا نقصان 2018کی سردیوں میں کیا گیا۔35ارب روپے کا نقصان گرمیوں میں سستی ایل این جی ملنے کے باوجود اور پتہ ہونے کے باوجودہ کہ دسمبر میں ضرورت ہوگی لیکن تاخیر سے خریداری میں نقصان  ہوا۔ڈیڑھ ارب روپے کا نقصان اگست اور ستمبر میں دیر سے ایل این جی خریدنے سے ہواحالانکہ ڈیمانڈ کا پتہ تھا۔شاہ زیب نے کہا کہ122ارب روپے کا نقصان صرف غلط فیصلوں یا فیصلوں میں تاخیر کے باعث کیا گیا،یہ سب نقصان اس کے علاوہ ہے جو اس دوران غلط فیصلوں کی وجہ سے ملک میں بجلی نہ ہونے اور گیس نہ ہونے سے عوام اور انڈسڑی کو ہوا۔ امید ہے کہ وزیراعظم ندیم بابر سے اس بات کو جواب لیں گے۔ اس معاملے کی تحقیقات کرائیں گے کہ ملک کا 122ارب روپے کا نقصان ہوا تو فائدہ کس کو پہنچایا گیا؟

اینکر پرسن نے کہا کہ ہم نے پروگرام کیا،پھر جیو نیوز پر خبر چلتی رہی۔اگلے روز اخبار میں بھی خبر چھپی۔پھر ندیم بابر صاحب نے غلط بیانی کی ہم نے ان کی تصیح کی۔پھر تصیح کی خبر چلتی رہی۔پھر اس تصیح کے باوجود  پٹرولیم منسٹری کو استعمال کرتے ہوئے ندیم بابر صاحب کے 75ارب روپے کی جگہ 57ارب روپے کے دعوی کے ساتھ پریس ریلیز آئی کہ جب ایل این جی ہی 57ارب کی خریدی گئی تو 122ارب کا نقصان کیسے ہوگیا؟یہ غیر منطقی اور بھونڈی سنسنی خیزی پھیلانے کی باتیں ہیں ۔پھراے آر وائی کے پروگرام میں جاکر یہی جھوٹ بولا۔ اے آر وائی کے پروگرام میں ندیم بابر کا کہنا تھا کہ آج کل بازار میں یہ چل رہا ہے کہ 122بلین کا نقصان کردیا ۔2020ہم نے جتنے کارگوسپا ٹ پر خریدے ان کی ٹوٹل ویلیو آج کے ایکسچینج ریٹ پر 57بلین بنتی ہے،اب مجھے یہ سمجھا دیں کہ کونسا حساب ہے کہ 57بلین کے ہم نے کارگو خریدے اور 122بلین کا نقصان کردیا۔

شاہ زیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ بات یہی نہیں رکی۔پٹرولیم منسڑی کی پریس ریلیز اور ندیم بابر صاحب کے جھوٹ دوبارہ بولنے پر نہیں رکی بلکہ ایک کمپین شروع کی گئی اور شہباز گل صاحب نے یہی بات ہمارے خلاف ٹویٹ کی کہ کمال کی صحافت ہے جھوٹ اور غلط بیانی کی حد ہے کہ 57ارب کی ایل این جی کی خریداری پر 122ارب کا نقصان ہوگیا۔یہ سب اس کے بعد ہوا جب ہم ندیم بابر صاحب کے جھوٹ کی حقیقت ایک روز پہلے ہی بتاچکے تھے۔خبروں میں چل چکا تھاتو سوال اٹھ رہا ہے کہ جان بوجھ کر جھوٹ کیوں بولا جارہا ہے؟ہمیں خوشی ہوتی کہ اگر حکومت کہتی 122ارب روپے کا نقصان نہیں ہوا ہے،دستاویزات کے ساتھ ثابت کرتی کہ ایسا بالکل نہیں ہوا ہے۔مگر ایک جھوٹ کو حقائق کو توڑ مروڑ کر کیوں پیش کیا جارہا ہے؟جھوٹ کا دفاع کیوں کیا جارہا ہے؟وزیراعظم عمران خان اسکی تحقیقات کروائیں کیونکہ شہباز گل انکے معاون خصوصی ہیں۔

مزید :

قومی -