کوٹ ادو میں پولیس افسر کی لڑکی سے مبینہ زیادتی کے کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا 

کوٹ ادو میں پولیس افسر کی لڑکی سے مبینہ زیادتی کے کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا 
کوٹ ادو میں پولیس افسر کی لڑکی سے مبینہ زیادتی کے کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا 

  

کوٹ ادو (ڈیلی پاکستان آن لائن )کوٹ ادو میں پولیس افسر کی لڑکی سے مبینہ زیادتی کا کیس ایک کے بعد ایک رخ بدلنے لگاہے۔

تفصیلات کے مطابق کوٹ ادو میں 24 نومبر کو مبینہ طورپر زیادتی کانشانہ بننے والی خاتون کو ملزم سے 50 لاکھ روپے لینے کے الزام میں عدالت میں پیش کیاگیا۔پولیس نے عدالت سے خاتون اور اس کے ساتھ گرفتار ہونے والے 2 افراد کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی لیکن عدالت نے متاثرہ خاتون سمیت 3 افراد کے خلاف پیسے وصول کرنے کے شواہد کو ناکافی قرار دیدیا اور پیسے وصول کرنے کا مقدمہ خارج کرتے ہوئے تینوں افراد کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔عدالتی حکم کے بعد تینوں افرادکورہا کردیا گیا ہے۔

مبینہ طورپرزیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون کی جانب سے ملزم اے ایس آئی امتیاز سہرانی کو پہچاننے سے انکار پر اے ایس آئی کو بھی بری کیاجاچکاہے۔مقامی مجسٹریٹ نے خاتون کے خلاف بھی شواہد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے اسے بھی مقدمے میں بری کردیا۔

خیال رہے کہ پہلے لڑکی نے الزام لگایا، پھر شناخت سے مکر گئی، پھر اے ایس آئی اور متاثرہ لڑکی میں 50 لاکھ روپے کی مبینہ ڈیل سامنے آگئی، خاتون نے مقدمہ واپس لے لیا اور پولیس افسر رہا ہوگیا۔ڈیل سامنے آنے پر آج صبح ہی مقدمہ درج کیاگیاتھا۔

مزید :

قومی -