’حکومت اور پولیس کے بیانات میں کھلا تضاد پایا جارہا ہے‘سیالکوٹ واقعہ پر ن لیگ بھی میدان میں آگئی

’حکومت اور پولیس کے بیانات میں کھلا تضاد پایا جارہا ہے‘سیالکوٹ واقعہ پر ن ...
’حکومت اور پولیس کے بیانات میں کھلا تضاد پایا جارہا ہے‘سیالکوٹ واقعہ پر ن لیگ بھی میدان میں آگئی
سورس: File Photo

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نےکہا ہے کہ سیالکوٹ میں دو گھنٹے سری لنکن شہری پر مشتعل افراد تشدد کرتے رہے ،پھر اس کی نعش کو گھسیٹتے رہے،بزدار حکومت،پنجاب پولیس سمیت متعلقہ انتظامیہ دو گھنٹے واقعے سے لاعلم رہی،غیر ملکی شہریوں کو پروٹیکشن دینے والا یونٹ بھی دو گھنٹے غائب رہا،حکومتی پالیسی کے مطابق ہر غیر ملکی شہری کے ساتھ پروٹیکشن یونٹ ہونا لازمی ہے،پنجاب پولیس موقعہ پر پہنچنے کے باوجود سری لنکن شہری کو بچانہیں سکی۔

تفصیلات کےمطابق عظمیٰ بخاری نےانسپکٹر جنرل( آئی جی)پولیس اورترجمان پنجاب حکومت کی پریس کانفرنس پراپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ  ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق پولیس بروقت موقع پر پہنچ گئی تھی جبکہ آئی جی پنجاب کے مطابق پولیس واقعہ ہونے کے ایک گھنٹہ پندرہ منٹ بعد پہنچی،حکومت اور پولیس کے بیانات میں کھلا تضاد پایا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس نے مشتعل افراد کےخلاف طاقت کا استعمال کرنے کی بجائے مذاکرات کرکے راستہ کھولنے کو ترجیح دی،شاید پنجاب پولیس کی اعلیٰ قیادت بار بار سیاسی پارٹی بننے سے تنگ آچکی ہےکیونکہ ہر واقعے کے بعد آئی جی پنجاب،ڈی آئی جی اور سی سی پی او کے تبادلے تبدیلی سرکارکی پہلی ترجیحی ہوتے ہیں۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -