عمران خان کے اشارے پر اسمبلی توڑنے کو تیارہوں مگر 4 ماہ تک کچھ ہوتا نظر نہیں آرہا ، پرویز الٰہی

عمران خان کے اشارے پر اسمبلی توڑنے کو تیارہوں مگر 4 ماہ تک کچھ ہوتا نظر نہیں ...
عمران خان کے اشارے پر اسمبلی توڑنے کو تیارہوں مگر 4 ماہ تک کچھ ہوتا نظر نہیں آرہا ، پرویز الٰہی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے آرمی اور عدلیہ سمیت اداروں سے رابطوں کا اعتراف  کرتے ہوئے کہا کہ چند روز قبل "اداروں " سے میٹنگ ہوئی تھی ، عمران خان کے اشارے پر اسمبلی توڑنے کو تیار ہوں مگر 4 ماہ تک کچھ ہوتا نظر نہیں آرہا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے  نجی ٹی وی "ہم نیوز" کے پروگرام نیوز لائن میں خصوصی شرکت کی ، اینکر ڈاکٹر ماریہ ذوالفقار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے پرویز الٰہی نے کہا کہ میں عدلیہ سمیت میرے  اداروں سے رابطے ہیں اور یہ رابطے اب کے نہیں  80 کی دہائی سے ہے ، اس سے قبل ہمارے بڑوں کے بھی ان سے تعلقات تھے ، جتنا ان کے قریب رہیں گے اتنا زیادہ حالات و واقعات پر نظر رہے گی ، چند روز قبل میٹنگ ہوئی ہے ، میزبان نے سوال کیا کہ کیا ڈی جی آئی ایس آئی سے میٹنگ ہوئی جس پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نام مت لیں ، بس ملاقات ہوئی ہے جس میں نظام سے متعلق گفتگو ہوئی ۔

پرویز الٰہی نے کہا کہ ہماری پالیسی ہے کہ اداروں کے خلاف بات کریں چاہے وہ عدلیہ ہو یا کوئی اور ادارہ ، عمران خان ہمارے ساتھ چار سال سے چل رہے ہیں، اس سے قبل طاہر القادری کے معاملے میں اکٹھے تھے ، شروع شروع میں ان کے ارد گرد لوگوں نے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی ،حالات واقعات نے وہ غلط ثابت کی ، عمران خان کو ہم پر پورا اعتماد ہے ، جب میں نے حلف لیا تو کہا کہ میں ایک منٹ نہیں لگاؤں گا اسمبلی توڑنے کیلئے ، اب بھی میرا ان کیساتھ یہی وعدہ ہے مگر آپ کو سوچنا ہوگا کہ اس میں آپ کو فائدہ اور نقصان کیا ہے ۔

پرویز الٰہی نے کہا کہ ہمارے ایم پی ایز نے کہا کہ عمران خان چار ماہ تک کھڑے ہونے کے قابل نہیں ، چار ماہ تک کچھ نہیں ہوگا ، ابھی مذاکرات کیلئے اچھا موقع ہے ۔

ایک سوال کے جواب پر پرویز الٰہی نے کہا کہ میں ہمیشہ شریفوں کے ساتھ تحفظات کا شکار رہا ہوں ، 18 سال ان کے ساتھ رہا وہ ہر بار جھوٹ بولتے تھے ، وہ کام نہیں کرنے دیتے تھے ، اداروں سے جب بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ خود سوچ لیں کہ کیا بہتر ہے ، ہم نے بتایا عمران خان سے بات ہو گئی ہے ، اداروں نے کہا یہ قابل عزت راستہ ہے ۔یہ ان کی مہربانی ہے ، اگر وہ نہ بتاتے تو ہم نے کیا کرنا تھا ، ہم نے ہمیشہ تمام اداروں کے سربراہان کو سپورٹ کیا ہے ۔ اداروں نے مشورہ دیا ، کسی نے کال نہیں کی اس کا طریقہ کار اور ہوتا ہے ۔

پرویز الٰہی نے کہا کہ شجاعت صاحب کی اداروں سے کوئی بات نہیں ہوئی ،  نہ خان صاحب نے ڈبل گیم کھیلی نہ باجوہ صاحب نے ، حالات و واقعات آپ کو ایسی جگہ لا کر کھڑا کر دیتے ہیں جہاں آپ کو خود فیصلہ لینا ہوتا ہے ، فیصلہ درست بھی ہوتا ہے اور غلط بھی ، عمران خان اور ہم نے  اچھا فیصلہ کیا ، نتیجہ بھی عوام نے دیکھ لیا۔

اینکر ڈاکٹر ماریہ نے سوال کیا کہ  جب آپ نے بات کی تو باجوہ صاحب نے آپ کا وزن عمران خان کے پلڑے میں ڈالنے کو کہا جس پر وزیر اعلیٰ پرویز الہی نے کہا کہ  سچوئشن مختلف ہونے پر عمران خان نے بھی  فیصلے اپنی مرضی سے کئے جس پر کچھ فیصلے دوسروں نے بھی اپنی مرضی سے کئے ۔

ڈی جی آئی ایس آئی کے فیصلے پر اینکر نے سوال کیا کہ کیا وہ  غلط فیصلہ تھا جس پر پرویز الٰہی نے کہا کہ میں جنرل فیض حمید کو بھی غلط نہیں کہتا ، نہ موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی کو غلط کہتا ہوں۔  ڈی جی آئی ایس آئی کے معاملے پر مونس نے کابینہ میں بات کی تھی کہ باجوہ صاحب نے ہمارے لئے بہت کچھ کیا ہے ،عزت دینے سے آپ کی عزت بڑھے گی ، میں نے بھی یہی کہا تھا، جنرل فیض حمید کا معاملہ عجیب طرح کا تھا ، اب وہ ریٹائر ہو گئے ہیں، اگر فیض صاحب میری کچھ باتیں مان لیتے  پنجاب کی ایڈمنسٹریشن کے حوالے سے تو جو ہمارے چار سال ضائع ہوئے وہ بچ جانے تھے ۔

پرویز الٰہی نے کہا کہ بزدار تحصیل ناظم نہیں بن رہا تھا اسے وزیر اعلیٰ میں نے ہی بنوایا تھا، ہمارا صوبہ دنیا کے کئی ممالک سے بڑا ہے ، بزدار جیسا صوبہ نہیں چلا سکتا ، اس کا نقصان ہوا ، پارٹی کو بھی نقصان ہوا ، جہانگیر ترین اور فیض صاحب نے ہمیں  بزدار کے فیصلے سے آگاہ کیا تھا ۔ 

مزید :

اہم خبریں -قومی -