وہ اپنے سارے دکھڑے کھول کر بیٹھ گئی اور اپنی بپتا سنانے لگی

وہ اپنے سارے دکھڑے کھول کر بیٹھ گئی اور اپنی بپتا سنانے لگی
وہ اپنے سارے دکھڑے کھول کر بیٹھ گئی اور اپنی بپتا سنانے لگی

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:96

آخر ایک اتوار جب یورگس مختلف گاڑیوں میں چوری چھپے سفر کرتا گھر پہنچا تو وہ سب 3دن سے اس کے منتظر تھے۔ اس کے لیے ایک نوکری کا امکان پیدا ہوا تھا۔

اس کی بھی ایک کہانی تھی۔ ننھا یوزاپس جو3 دن کے فاقے سے تقریباً پاگل ہونے کو تھاباہر سڑک پر بھیک مانگنے نکلا، ایک بار ویگن کے نیچے آنے کی وجہ سے اس کی ٹانگ کٹ گئی تھی، جس کا حل اس نے یہ نکالا کہ ایک لاٹھی بازو کے نیچے رکھ کر اسے بیساکھی بنالیا۔ وہ کچھ بچوں کے ساتھ مل کر مائک سکلّی کے کوڑا گھر چلا گیا جو تین چار بلاک دور تھا۔وہاں ہر روز سیکڑوں ویگنیں دنیا بھر کا کوڑا پھینکنے آتی تھیں۔ اس میں امیر لوگوں کے علاقے کا کوڑا بھی ہوتا تھا۔ بچے اس ڈھیر سے کھانے کی چیزیں، روٹی کے ٹکڑے، آلوو¿ں کے چھلکے، سیبوں کے بیجوں والے حصے اور گوشت کی چچوڑی ہوئی ہڈیاں، کرید کرید کر ڈھونڈ نکالتے۔ اس میں سے اکثر اشیاءآدھی جمی ہوتی تھیں اس لیے خراب ہونے سے محفوظ رہتی تھیں۔ ننھے یوزاپس نے خود سیر ہوکر کھایا اور باقی اخبار میں لپیٹ کر گھر لے آیا۔ جب اس کی ماں الزبیٹا گھر لوٹی تو اسے یہ چیزیں آنٹاناس کو کھلاتے دیکھ کر ڈر گئی کیوں کہ اس کا خیال تھا کہ کوڑے کے ڈھیر سے چنی گئی خوراک کھانے کے لیے موزوں نہیں تھی۔ لیکن اگلے دن جب بچوں کو کچھ نہیں ہوا اور یوزاپس بھوک سے رونے لگا تو اس نے اسے جانے کی اجازت دے دی۔ شام کو واپس آکر اس نے بتایا کہ جب وہ چھڑی سے ڈھیر کرید رہا تھا تو ایک عورت نے اسے آواز دی۔ وہ کوئی امیر عورت تھی اور بہت خوب صورت بھی۔ وہ اس کے متعلق جاننا چاہتی تھی کہ کیا وہ یہ کوڑا مرغیوں کےلئے لے جاتا ہے ؟ وہ لاٹھی کو بیساکھی کے طور پر کیوں استعمال کرتا ہے َ اونا کیوں مری تھی؟ یورگس کو جیل کیوں جانا پڑا تھا ؟ ماریا کو کیا مسئلہ تھا ؟ وغیرہ وغیرہ۔ پھر اس نے گھر کا پتا پوچھا اور کہا کہ وہ ان کے گھر آئے گی اور اس کے لیے نئی بیساکھی بھی لائے گی۔ اس نے جو ہیٹ پہن رکھا تھا اس پر پرندہ بیٹھا ہوا تھا اور گردن میں کسی جانور کی پشم (fur ) کا سانپ سا لپیٹ رکھا تھا۔ 

اگلے دن وہ واقعی آگئی اور سیڑھیاں چڑھ کر سیدھی اٹاری پہنچی اور کھڑی ہو کر کمرے کا جائزہ لینے لگی۔ فرش پر اونا کے خون کے دھبے دیکھ کر اس کا رنگ زرد ہو گیا۔ اس نے الزبیٹا کو بتایا کہ وہ سیٹل منٹ ورکر settlement-worker)) تھی اور ایش لینڈ ایونیو میں رہتی تھی۔ الزبیٹا نے اس کے متعلق سن رکھا تھا۔ کسی نے اسے پہلے بھی وہاں جانے کا مشورہ دیا تھا لیکن وہ یہ سوچ کر نہیں گئی کہ یہ کوئی مذہبی ادارہ ہوگا اور الزبیٹا کا پادری یہ بات پسند نہیں کرتا تھا کہ وہ اجنبی مذاہب والوںسے کوئی تعلق رکھے۔ اس علاقے میں امراءرہتے تھے جنھیں غریبوں کے حالات سے بہت دلچسپی تھی۔ اس کام کا انھیں کیا فائدہ تھا یہ غریبوں کی سمجھ سے باہر تھا۔ جب الزبیٹا نے اس عورت سے یہ سوال کیا تو وہ کھسیانی سی ہو کر ہنسی لیکن کوئی خاطر خواہ جواب نہ دے سکی۔وہ پریشان کھڑی مکینوں کی حالت دیکھ رہی تھی۔ اس کی حالت اس شخص جیسی تھی جو جہنم کے کنارے پر کھڑا یہ سوچ کر برف کے گولے اندر پھینک رہا ہو کہ اس سے جہنم کا درجۂ حرارت کم ہوجائے گا۔

الزبیٹا کو خوشی تھی کہ کوئی اس کی بات بھی سننے میں دلچسپی رکھتا تھا اس لیے وہ اپنے سارے دکھڑے کھول کر بیٹھ گئی اور اپنی بپتا سنانے لگی۔۔۔ اونا کے ساتھ کیا ہوا، اور جیل کا زمانہ، گھر کا چھننا،ماریا کا حادثہ، اونا کیسے مری،یورگس کو کام کیوں نہیں ملتا۔ اس کی باتیں سن کر اس خوب صورت عورت کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ پھر گفتگو کے دوران وہ الزبیٹا کے کندھے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اس نے اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ الزبیٹا کتنے گندے کپڑوں میں ملبوس ہے اور اٹاری مکھیوں سے بھری ہوئی ہے۔ الزبیٹا شرمندہ ہو رہی تھی کہ اس نے بے چاری کو اپنی کہانی کیوں سنائی لیکن وہ عورت بضد تھی کہ اسے مزید بتایا جائے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ اس عورت نے جا کر ان کے لیے ٹوکری بھر کر کھانا بھیجا اور جانے سے پہلے یورگس کے لیے ایک خط دیا جو جنوبی شکاگو میں فولاد کے کارخانے کے سپرنٹندنٹ کے نام تھا۔ ” وہ یورگس کے لیے ضرور کوئی کام نکال لے گا۔“ اس نے آنسوؤں کے درمیان مسکرا کر کہا، ” اگر اس نے یہ نہ کیا تو مجھ سے کبھی شادی نہیں کر سکے گا۔“

فولاد کا کارخانہ 15میل دور تھا اور وہاں پہنچنے کے لیے آدمی کو 2گاڑیوں کا کرایہ بھرنا پڑتا تھا۔ اونچی چمنیوں سے آگ کے شعلے یوں لپکتے تھے کہ دور دور تک آسمان دہکتا محسوس ہوتا تھا۔ یورگس وہاں سخت اندھیرے میں پہنچا۔ یہ کارخانہ اپنے آپ میں ایک شہر تھا جس کے گرد آہنی باڑ لگی تھی۔ یورگس پہنچا تو نئے مزدوروں کو بھرتی کرنے والی جگہ پر پہلے ہی سو، دو سو کے قریب لوگ کھڑے تھے۔ پو پھٹتے ہی سیٹی بجنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزار ہا لوگ گردونواح کے شراب خانوں اور رہائش گاہوں سے نکلنے لگے۔ وہ پاس سے گزرنے والی ٹرالی کاروں سے ابل رہے تھے۔ ملگجے اجالے میں یوں لگتا تھا جیسے وہ زمین سے پھوٹ رہے ہوں۔ یہ دریا پھاٹک سے اندر داخل ہونے لگا۔ پھر اس کی طغیانی کم ہوتی گئی اور بالآخر چند دیر سے آنے والے مزدور ہی پیچھے رہ گئے۔ چوکی دار پھاٹک کے پاس ٹہل رہا تھا اور کام کے متلاشی گھبرا اور ڈر رہے تھے۔( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -