”خیالات کا گودام“ 

 ”خیالات کا گودام“ 
 ”خیالات کا گودام“ 

  

تحریر: ظفر سپل

قسط:53

 اب بات یہ بھی ہے کہ ان دنوں مادام کے وطن سوئٹرز لینڈ میں پروٹسٹنٹ فرقے کو جنم دینے والی اصلاح مذہب کی تحریک کے ساتھ ساتھ جنسی آزادی کی تحریک بھی شروع ہوگئی تھی اور اس تحریک میں نمایاں مقام رکھنے والی ایک عورت یہ درس دیتی رہتی تھی کہ کوئی عورت کسی مرد کی جنسی تسکین سے انکار کرتی ہے تو اس کا رویہ ویسا ہی ظالمانہ ہوتا ہے جیسا کہ بھوکے کو روٹی اور پیاسے کو پانی سے محروم رکھنے والے کا ہوتا ہے۔

 اب ذرا واپس روسو کی کہانی کی طرف پلٹتے ہیں، جہاں روسو جاگیردار خاتون کی نوکری سے فراغت کے بعد کبھی مادام وارنزکی گود میں ہوتا ہے اور کبھی سوئٹزر لینڈ کی بے مقصد آوارگی میں مصروف۔ آخر کار مادام وارنز پھر اس کے کام آئی اور اس نے اسے چیمبری(La Chambre) کے سرکاری محکمہ شماریات اراضی میں کلرکی کی نوکری دلوا دی۔ یہ غالباً پٹواری کی نوکری کی طرح کا کوئی کام تھا، جس سے وہ اکتایا تو مادام نے اسے چیمبری کے قریب ایک گاﺅں میں بھجوا دیا، جہاں اس کا اپنا چھوٹا سا فارم تھا۔ اس چھوٹے سے علاقے میں روسو ن نے لمبا عرصہ گزارا اور کئی طرح کے کام کیے۔ مگر قابل ذکر بات یہ ہے کہ باقاعدہ تعلیم سے محروم روسو نے یہاں پر ٹک کر مطالعہ کیا اور مختلف علوم کی کتابیں پڑھ ڈالیں۔ یہیں پر اس نے موسیقی سیکھی، جیومیٹری کی مشقیں کیں، کیمسٹری کے تجربے کیے اور فلکیاتی مشاہدے کیے۔ یہیں پر اس نے ریاضی اور فلسفے کی کتابیں بھی پڑھیں۔ کتابیں پڑھتے ہوئے وہ اس کے ضروری حصوں کو نشان زد کرتا رہتا اور نوٹس لیتا۔ یہی چیزیں بعد میں اس کے نظریات کے لیے ”خیالات کا گودام“ ثابت ہوئیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی درست ہے کہ مادام وارنز کی اپنی ایک لائبریری بھی تھی اور عالم فاضل دوستوں کاحلقہ بھی، جس سے اس نے روسو کو بھی متعارف کرایا۔ ان تمام چیزوں نے روسو پر علم و حکمت کے دروازے کھول دئیے۔

 پیرس ان دنوں شعر و ادب، رقص و موسیقی اور تھیٹر کے حوالے سے یورپ کا مرکز تھا اور صاحبان علم و فن کا یہاں ہجوم تھا۔ روسو کی گدڑی میں بھی اب ایک ڈرامہ، چند نظمیں تھیں اور موسیقی کی نوٹیشن(Notation) کا ایک نظام تھا۔ جو اس نے خود تخلیق کیا تھا۔ سو،1714ءمیں اس نے پیرس میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا، مگر یہ ستم گر شہر اس پر مہربان نہ ہوا۔ اس نے پیرس اکادمی کے سامنے اپنی ایجاد کردہ موسیقی کے نظام پر مقالہ پیش کیا، مگر اسے رد کر دیا گیا۔ وہ اپنا ڈرامہ سٹیج کرنا چاہتا تھا، مگر کوئی پروڈیوسر اس کے لیے آمادہ نہ ہوا۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ سماجی حلقوں میں سرگرم دوبااثر خواتین سے اس کا تعلق بن گیا، جنہوں نے اسے ممتاز ادبی اور سائنسی شخصیتوں سے متعارف کروایا۔ جواں سال دیدرو(Diderot) اور ڈی آلمبر(D`Alembert) سے بھی اس کی دوستی ہوگئی۔ یہ دونوں وہ شخصیات ہیں جنہیں جلد ہی شہرہ آفاق”انسائیکلو پیڈیا“ کا ایڈیٹر بننا تھا۔ متذکرہ بالا خواتین میں سے ایک نے تو اسے وینس میں فرانسیسی سفیر کے سیکرٹری کا عہدہ بھی دلوا دیا۔ یہ1734ءکی بات ہے۔ مگر سفیر سے اس کی بنی نہیں اور1744ءمیں وہ واپس فرانس آگیا۔

اور اب جو روسو فرانس آیا ہے تو ظاہر ہے کہ تنگ دستی کا شکار تھا، سو، اس نے ایک انتہائی کم درجے کے ہوٹل میں قیام کیا۔ یہیں اس کی ملاقات اس ہوٹل کی ملازمہ تھریسے(Therese) سے ہوئی اور وہ اسے دل دے بیٹھا۔ معمولی شکل و صورت والی یہ لڑکی سادہ لوح بھی اس قدر تھی کہ نہ گھڑی دیکھ کر وقت بتا سکتی تھی اور نہ مہینوں کے نام ترتیب سے لے سکتی تھی۔ تھریسے اپنے والدین کی واحد کفیل تھی۔ اس لیے جب روسو تھریسے کو اپنے گھر لے آیا تو اس کے ماں باپ بھی اس کے ساتھ تھے۔ روسو کی تھریسے سے ملاقات1745ءمیں ہوئی۔ اس وقت روسو کی عمر 33 سال تھی۔ پھر وہ ساری زندگی اکٹھے رہے۔ مگر باقاعدہ شادی بائیس تئیس سال بعد1768ءمیں کی، جب دونوں بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ چکے تھے۔ تھریسے نے 5 بچوں کو جنم دیا، 1 لڑکا اور باقی لڑکیاں۔ لیکن روسو نے ان تمام بچوں کو اپنے اپنے وقت پر یتیم خانے میں داخل کرواتا رہا اور ان سے پھر کبھی نہیں ملا۔ ہاں بیٹے کو یتیم خانے میں داخل کرانے کے دس سال بعد اسے اس کو دیکھنے کی امنگ پیدا ہوئی، مگر اب اس کی کہیں خبر نہیں تھی۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -