ملتان، نان رجسٹرڈ سکولوں کی ”نرسری“ تعلیم صرف ”بزنس“

ملتان، نان رجسٹرڈ سکولوں کی ”نرسری“ تعلیم صرف ”بزنس“

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ملتان ( سٹاف رپورٹر ) اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز( اے ای اوز ) کی غیر رجسٹرڈ پرائیویٹ سکولز کیساتھ ملی بھگت کررہے ہیں ‘ ڈیڑھ سال سے کسی غیر رجسٹرڈ پرائیویٹ سکول کے متعلق رپورٹ نہیں کی‘ افسران تعلیم نے بھی خاموشی اختیار کرلی۔ تفصیل کے مطابق ضلع ملتان میں غیر رجسٹرڈ سکولز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ تعداد بڑھ کر اب 1856تک پہنچ چکی ہے۔ ملتان میں مجموعی طور پر1310پرائیویٹ سکولز رجسٹرڈہیں جبکہ 1856غیر رجسٹرڈ سکولزہیںجوکسی بھی طورپر پرائیویٹ سکو لز کے رولز و معیار پر پورا نہیں اترتے۔ ان سکولز کی عمارتیں مطلو(بقیہ نمبر37صفحہ6پر )

بہ معیار کے مطابق ہیں نہ سٹاف تعلیم یافتہ ہے نہ ہی دیگر تعلیمی سہولیات ہیں بلکہ گلی کوچوں میں گھروں میں غیر قانونی طور پرسکولز کھول کر انڈر میٹرک اور مڈل فیل معلمات کو 4000سے5000روپے تک ”تنخواہ “پر رکھا گیا ہے۔ان سکولز کے باہر ”رجسٹرڈ“ کے بورڈ آویزاں کئے گئے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ڈیڑھ سال قبل غیر رجسٹرڈ سکولز کی نشاندہی و کارروائی کیلئے متعلقہ اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز( اے ای اوز) کی ڈیوٹیاں لگائی گئی تھیںجنہوں نے آج تک کسی غیر رجسٹرڈ نجی سکول کی نشاندہی نہیں کی جس کے باعث کارروائی نہیں ہوسکی۔ڈیڑھ سال کے عرصے میں اب تک ضلع ملتان میں صرف ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ایلمنٹری (زنانہ ) شجاع آباد نے ہی 6غیر رجسٹرڈ نجی سکولز کی نشاندہی و کارروائی کیلئے رپورٹ کی ہے‘ محکمہ تعلیم کے حکام نے بتایا کہ غیر ذمہ دار افسران تعلیم /اے ای اوز کی باز پرس کی جائے گی اور غیر رجسٹرڈ پرائیویٹ سکولز کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔