شاہین کینگروز سے ٹکرانے کے لئے تیار!

  شاہین کینگروز سے ٹکرانے کے لئے تیار!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان کرکٹ ٹیم آسٹریلیا سے ٹیسٹ سیریز کھیلنے کے لئے آسٹریلیا پہنچ گئی،قومی کرکٹ ٹیم میں 18 کھلاڑی شامل ہیں جبکہ مینجمنٹ کے دو ارکان ڈاکٹر سہیل اور شاہد اسلم سکواڈ کو بعد میں جوائن کریں گے۔ بیٹنگ کوچ ایڈم ہولیوک اور ہائی پرفارمنس کوچ سائمن گرانٹ ہیلمٹ آسٹریلیا میں ٹیم کو جوائن کریں گے۔قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود کا کہنا ہے کہ دورہ اہمیت کاحامل ہے بھرپور تیاری کے ساتھ سیریز میں حصہ لے رہے ہیں شان مسعود کا کہنا ہے کہ بابراعظم اور سرفراز احمد کے اسکواڈ میں موجود ہونے سے کپتانی کا کوئی دباؤ نہیں البتہ دونوں سینئر کرکٹرز کے مشورے ضرور لوں گا۔ بطور کپتان دورہ آسٹریلیا مشکل ہدف ہے لیکن کوشش ہوگی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کیلئے اچھی پرفارمنس کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کپتانی کے دباؤ سے متعلق سوال پر کہا کہ پاکستان سپر لیگ میں ملتان سلطانز کی کپتانی کے وقت شاہد بھائی ٹیم میں موجود تھے لیکن کپتانی دی گئی تو ان سے سیکھا، کپتانی کوئی دباؤ نہیں، اس کے علاوہ کاؤنٹی میں قیادت کے فرائض نے بہت کچھ سیکھایا ہے۔ٹیم سلیکشن کے سوال پر شان مسعود کا کہنا تھا کہ مجھ سمیت نئی مینجمنٹ اور سلیکٹرز ایک پیچ پر تھے، ٹیسٹ ٹیم میں زیادہ تبدیلیاں نہیں کی گئی ہیں البتہ ڈومیسٹک میں پرفارم کرنے والے کھلاڑیوں ضرور موقع دیں گے۔ٹیسٹ کپتان نے کہا کہ اظہر علی کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے تیسرے نمبر پر کھیل رہا ہوں کوشش کریں گے کہ بابراعظم کی پوزیشن کو نہ چھیڑیں، وہ نمبر 4 پر بیٹنگ کیلئے آئیں گے۔شان مسعود نے محمد رضوان اور سرفراز احمد کے حوالے سے کہا کہ سیفی بھائی نے گزشتہ سیریز میں اچھی کارکردگی مظاہرہ کیا ہے کوشش کریں گے زیادہ تبدیلیوں سے گریز کریں، کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے پلئینگ الیون کا حتمی فیصلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ سرفراز احمد کی ٹیم میں موجودگی ہمارے ساتھ کھیلنا بڑی بات ہے، ان کے ساتھ کئی عرصے سے ایک ہی ٹیم میں کرکٹ کھیل رہا ہوں، وہ ٹیسٹ کرکٹ میں تیز کھیلنے والے پہلی پاکستانی کرکٹر تھے۔ اوپنر کے حوالے سے کپتان نے کہا کہ گزشتہ سالوں میں امام نے بطور اوپنر اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا ہے، ایک الگ برانڈ کی کرکٹ متعارف کروانا چاہتے ہیں، صائم ایوب نے ڈومیسٹک میں شاندار فارم پیش کی ہے یہ دیکھتے ہوئے انکو موقع دیں گے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف آخری ہوم سیریز میں سرفراز احمد نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان کے ٹیسٹ کپتان شان مسعود کے سینٹرل کنٹریکٹ کو اَپ گریڈ کرتے ہوئے انہیں ڈی سے بی کیٹیگری میں کر دیا ہے۔پی سی بی نے فیصلہ اپنی اس پالیسی کے تحت کیا ہے کہ اگر سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل کوئی بھی کھلاڑی جو اے یا بی کیٹیگری سے نیچے ہے اور وہ کپتان بنتا ہے تو اس کا کنٹریکٹ اس وقت تک بی کیٹیگری میں کر دیا جائے گا جب تک وہ کپتانی کر رہا ہے جبکہ آسٹریلیا آئی سی سی مینز ون ڈے ورلڈکپ کے فائنل میں ٹورنامنٹ کی ناقابل شکست اور میزبان ٹیم بھارت کو 6 وکٹوں سے ہرا کر چھٹی بار کرکٹ کا عالمی چیمپئن بن گیا۔ورلڈکپ میں 765 رنز اسکور کرنے اور ایک وکٹ لینے پر بھارت کے ویرات کوہلی پلیئر آف دی ٹورنامنٹ قرار پائے۔ویرات کوہلی نے اس ورلڈکپ میں ون ڈے کیریئر میں سب سے زیادہ 50 سنچریوں کا ریکارڈ بھی بنایا۔آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ کا 13 واں ایڈیشن گزشتہ روز کئی یادگار لمحات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا لیکن اس کے ساتھ ہی کچھ کھلاڑی توقعات پر پورا نہ اتر سکے۔ جنوبی افریقی کپتان باوما اس سال اپنے نام 4 سنچریوں کے ساتھ دنیا کے مقبول ترین ایونٹ میں آئے لیکن کوئی متاثر کن کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔33 سالہ کھلاڑی نے 8 میچوں میں 18.12 کی اوسط سے صرف 145 رنز بنائے۔امام الحق ورلڈکپ کے آغاز سے ڈیڑھ ماہ قبل آئی سی سی پلیئرز کی رینکنگ میں تیسرے نمبر پر موجود تھے، اس لیے ان سے اچھی کارکردگی کی توقعات تھیں لیکن 27 سالہ کھلاڑی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے۔ امام نے6 میچز کھیلے لیکن 27.00 کی اوسط اور 90 کی اسٹرائیک کے ساتھ صرف 162 رنز بنائے۔ دنیائے کرکٹ کے بہترین نوجوان کھلاڑیوں میں سے ایک انگلش ٹیم کے ہیری بروک بھی اس ورلڈکپ میں اپنی دھاک بٹھانے میں ناکام رہے۔6 میچوں میں انہوں نے 28.16 کی اوسط سے صرف 169 رنز ہی بنائے جبکہ ورلڈ کپ کے سب سے سینئر کھلاڑیوں میں سے ایک اور کیرئیر کا پانچواں ورلڈکپ کھیلنے والے بنگلادیش کے مشفق الرحیم کا شمار بھی بدقسمتی سے اس ورلڈکپ کی فلاپ الیون میں ہوتا ہے۔ بنگلا دیشی مداحوں نے تمیم اقبال کے سکواڈ سے باہر ہونے کے بعد اپنی امیدیں مشفق الرحیم سے وابستہ کرلی تھیں، لیکن ویسا کچھ نہ ہوا جیسا مداح سوچ رہے تھے۔کرکٹر 9 میچوں میں 25.25 کی اوسط سے صرف 202 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔کیوی کپتان کین ولیمسن کی غیر موجودگی میں نیوزی لینڈ کی شاندار قیادت کرنے والے وکٹ کیپر بیٹر ٹام لیتھم بھی اچھی بیٹنگ میں ناکام رہے۔انہوں نے 8 اننگز میں 25.83 کی اوسط اور 91.17 کے کم اسٹرائیک ریٹ سے صرف 155 رنز بنائے جبکہ جوز بٹلر کے لیے بھی یہ ٹورنامنٹ انتہائی مایوس کن رہا، 2019ء ورلڈکپ کے ہیرو اس سال کوئی بھی غیر معمولی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔33 سالہ کھلاڑی نے اس ٹورنامنٹ میں 15.33 کی اوسط سے صرف 138 رنز بنائے جبکہ پاکستان کے اہم آل راؤنڈر ہونے کے باوجود 24 سالہ شاداب خان بیٹنگ اور بولنگ میں ناکام رہے۔ شاداب کی جانب سے کھیلے گئے 6 میچوں میں وہ صرف 121 رنز بنا سکے اور صرف 2 وکٹیں حاصل کیں۔ ایشز 2023 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے انگلش کرکٹر مارک ووڈ کو ٹورنامنٹ میں کچھ بڑا کرنے کا یقین تھا لیکن فاسٹ بولر نے 54 اوورز میں 349 رنز دیکر 7 میچوں میں صرف 6 وکٹیں حاصل کیں جبکہ بنگلا دیش کے سب سے تجربہ کار فاسٹ بولرز میں سے ایک مستفیض الرحمان کو اپنی ٹیم کے پیس اٹیک کی ذمہ داری سونپی گئی تھی لیکن ورلڈکپ میں ان کے لئے مشکلات پیدا ہوگئیں کیونکہ وہ زیادہ وکٹیں حاصل کرنے میں ناکام رہے، انہوں نے صرف 5 وکٹیں حاصل کیں۔مستفیض الرحمان نے آٹھ میچوں میں 65.4 اوورز میں 398 رنز دے کر بولنگ کی،جبکہ مہیش تھیکشانہ بے شک ایشیا کپ 2023ء میں ہمسٹرنگ کی انجری سے واپس آئے تھے لیکن وہ اس ورلڈکپ میں نئی گیند کے ساتھ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے اور سری لنکا کے لئے درمیانی اوورز میں وکٹیں لینے میں ناکام رہے۔ انہوں نے 71.2 اوورز میں 382 رنز دے کر صرف 6 وکٹیں لیں جبکہ حارث رؤف نے ورلڈکپ میں 15 وکٹیں حاصل کیں لیکن یہاں یہ بات اہم ہے کہ حارث نے اس ورلڈکپ میں اپنی بہترین کارکردگی نہیں دکھائی۔قومی فاسٹ بولر نے انگلینڈ کے عادل رشید کا ایک ہی ورلڈکپ میں سب سے زیادہ رنز 533 دینے کا ریکارڈ توڑا۔ حارث سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ زیادہ رنز کو روکیں گے لیکن 30 سالہ کھلاڑی نے خود کو اپوزیشن کے سامنے بے بس پایا اور دل کھول کر رنز دیے، جبکہ ورلڈ کپ 2023ء کی پانچ بہترین اننگز میں فخر زمان کی اننگز کو بھی شامل کرلیا گیا، بھارت میں منعقدہ ورلڈ کپ شاندار مقابلوں کے بعد اختتام پذیر ہوگیا، میگا ایونٹ کے 48 میچوں میں مجموعی طور پر 40سنچریاں سکور ہوئیں، کسی میچ میں دو،کسی میں تین اور حتیٰ کہ کسی ایک میچ میں چار سنچریاں بھی سکور ہوئیں، وزڈن کی طرف سے جاری کردہ ورلڈ کپ کی پانچ بہترین اننگز کی فہرست میں آسٹریلیا کے گلین میکسویل کی افغانستان کے خلاف 128 بالوں پر 201رنز کی اننگز پہلے نمبر پر ہے۔ افغانستان کے خلاف میچ میں 292رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کے 97کے سکور پر 7کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے اور کینگروز کی شکست یقینی نظر آرہی تھی تاہم میکسویل نے اس میچ میں تن تنہا اپنی ٹیم کو فتح دلائی، ورلڈ کپ فائنل میں بھارت کے خلاف آسٹریلیا کے ٹریوس ہیڈ کی 120بالوں پر 137رنز کی اننگز کو بہترین اننگز میں دوسرے نمبر پر رکھا گیا ہے۔ سیمی فائنل میں آسٹریلا کے خلاف جنوبی افریقی مڈل آرڈر بلے باز ڈیوڈ ملر کی شاندار سنچری کو بھی بہترین اننگز کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ جنوبی افریقہ کے 24رنز پر 4کھلاڑی آؤٹ ہوئے تو ملر نے نمبر 6پر بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو مشکلات سے نکالا اور مجموعی سکور کو 212تک پہنچا یا تھا،پاکستان کے اوپننگ بلے باز فخر زمان کی نیوزی لینڈ کے خلاف 81بالوں پر 126رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز کو بھی بہترین اننگز میں شمار کیا گیا ہے، افغانستان کے رحمان اللہ گرباز کی انگلینڈ کے خلاف 57بالوں پر 80رنز کی اننگز کو ورلڈ کپ کی پانچویں بہترین اننگز میں شامل کیا گیا ہے۔ گرباز کی شاندار بیٹنگ کی بدولت افغانستان نے پہلی بار انگلینڈ کو ورلڈ کپ میچ میں شکست دی تھی،جبکہ بھارت میں ہونے والے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ نے نئی تاریخ رقم کردی جس دوران سب سے زیادہ تماشائیوں نے سٹیڈیمز کا رخ کیا،آئی سی سی کے مطابق بھارت میں ہوئے ورلڈ کپ کے دوران 12 لاکھ5ہزار سے زائد تماشائیوں نے نے اسٹیڈیمز کا رخ کیا، ٹورنامنٹ کے 6میچز ابھی باقی تھے کہ تماشائیوں کی تعداد ایک ملین سے تجاوز کر چکی تھی، آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ نے براڈ کاسٹ اور ڈیجیٹل ویورشپ کے بھی ریکارڈز قائم کردیے ہیں، آئی سی سی کے مطابق 14اکتوبر کو نریندر مودی اسٹیڈیم میں ہونے والا پاک بھارت میچ اسٹیڈیم میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا میچ تھا،دوسری جانب آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں 2015ء میں ہونیوالا ورلڈکپ 10لاکھ 16ہزار تماشائیوں نے دیکھا تھا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 2019 میں انگلینڈ میں تماشائیوں کی تعداد 7لاکھ 52 ہزار تھی،جبکہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے ٹیم آف دی ٹورنامنٹ ورلڈ کپ 2023ء کا اعلان کر دیا گیا،میگا ایونٹ کے فائنل کے بعد آئی سی سی کی جانب سے ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کیا گیا ہے جس میں کوئی بھی پاکستانی کھلاڑی جگہ نہیں بنا سکا۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے اعلان کردہ ٹیم آف دی ٹورنامنٹ میں چھ بھارتی کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے جن میں کپتان روہت شرما، سابق کپتان ویرات کوہلی، کے ایل راہول، رویندرا جڈیجہ، جسپریت بمراہ اور محمد شامی شامل ہیں،ٹیم آف دی ٹورنامنٹ میں دو آسٹریلوی کھلاڑی گلین میکسویل، ایڈم زیمپا، ایک کیوی کھلاڑی ڈیرل مچل، ایک سری لنکن کھلاڑی دلشان مدوشنکا اور جنوبی افریقہ کے کھلاڑی کوئنٹن ڈی کاک بھی شامل ہیں، جنوبی افریقہ کے کوئٹزی کو بارہویں کھلاڑی کے طور پر شامل کیا گیا ہے،ٹیم آف دی ٹورنامنٹ ورلڈکپ کی جیوری میں آئن بشپ، کاس نائیڈو،  شین واٹسن، آئی سی سی کے جی ایم وسیم خان اور سنیل ویدیا شامل تھے،جبکہ دوسری جانب بھارتی کرکٹ بورڈ نے 2027ء میں ہونے والے ورلڈ کپ میں ابھی سے رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کر دیں۔ برطانوی اخبار کے مطابق بھارت 2027ء میں کرکٹ ورلڈ کپ کا فارمیٹ تبدیل کرانے پر بضد ہو گیا اور ورلڈ کپ 14کے بجائے 10ٹیموں کا کرانا چاہتا ہے جس کے لئے بھارتی کرکٹ بورڈ نٹرنیشنل کرکٹ کونسل پر دبا ؤڈال رہا ہے۔اخبار کے مطابق آئی سی سی تاحال بھارتی مطالبے پر راضی نہیں ہوا کیونکہ 2سال قبل 2027ء میں 14ٹیموں کا ورلڈ کپ کنفرم کیا جا چکا ہے اور ٹورنامنٹ فارمیٹ کی بنیاد پر نشریاتی حقوق بھی فروخت کر دیئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ 2027ء کا مینز ون ڈے ورلڈ کپ جنوبی افریقا، زمبابوے اور نمیبیا میں کھیلا جائے گا، ایونٹ میں 14ٹیموں کے درمیان 54مقابلے ہوں گے جبکہ بھارت اس ورلڈ کپ کو 10کے ساتھ کرانے کیلئے کوششیں کر رہا ہے، بی سی سی آئی معاملہ آئندہ آئی سی سی اجلاسوں کے دوران اٹھائے گا، برطانوی اخبار کے مطابق 14ٹیموں کا مطلب ہے کہ 7، 7ٹیموں کے دو گروپ ہوں گے، ہر گروپ کی ٹاپ تھری ٹیمیں سپر سکس مرحلے کے لئے کوالیفائی کریں گی اور پھر سیمی فائنل اور فائنل ہوں گے، بھارتی براڈ کاسٹرز کو ڈر ہے کہ اس فارمیٹ کی وجہ سے بھارت جلد ورلڈ کپ سے باہر ہو سکتا ہے جس کی وجہ ان کی ویورشپ میں کمی کے باعث مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

٭٭٭

  تین میچوں کی ٹیسٹ سیریز کھیلنے پاکستانی ٹیم آسٹریلیا پہنچ گئی

 بطور کپتان دورہ آسٹریلیا مشکل، کوشش ہوگی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اچھی پرفارمنس دیں،شان مسعود

مزید :

ایڈیشن 1 -