منرل ایسوسی ایشن ‘آئندہ دو سالوں کےلئے افسر محمد صوبائی صدر منتخب 

    منرل ایسوسی ایشن ‘آئندہ دو سالوں کےلئے افسر محمد صوبائی صدر منتخب 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پشاور (سٹی رپورٹر) منرل ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے عہدیداروں نے آئندہ دو سالوں کےلئے افسر محمد کو صوبائی صدر منتخب کرلیا ہے اس سلسلے میں ایسوسی ایشن کا اجلاس پشاور حیات آباد میں منعقد ہوا جس میں صوبے کے تقریبا ہر ضلع سے ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے شرکت کی اجلاس میں اتفاق رائے سے افسر محمد کو دو سال کےلئے صدر چن لیا گیا اسکے علاوہ کابینہ کے دیگر منتخب اراکین میں سینئر نائب صدر گل زمین شاہ، نائب صدر پروفیسر بلال، جنرل سیکرٹری عبد الروف شاہ اور پریس سیکرٹری عبد اللہ شامل ہیں اس موقع نومنتخب صدر افسر محمد نے اپنے انتخاب پر تمام اراکین کا شکریہ ادا کیا اور انکے مسائل حل کرنے اور انکی فلاح و بہبود کےلئے کوششیں کرنے کے عزم کا اعادہ کیا انہوں نے کہا کہ منرل سیکٹر اس وقت گوں نا گو مسائل سے دوچار ہے خاص طور پر“جائنٹ وینچر“کے حوالے سے رولز نہ بننے سے منرل سیکٹر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ بغیر رولز کے“جائنٹ وینچر“دے رہا ہے حالانکہ اس پر سپریم کورٹ کا بھی آرڈر ہے کہ رولز بنائے جائیں دوسری طرف نگران حکومت اپنے طور رولز کی منظوری دینے جارہی ہے جوکہ اس کے پاس اس چیز کا اختیار ہی نہیں انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی احکامات پس پشت ڈال کر منرل ڈیپارٹمنٹ تربیلا سے کوہاٹ تک من پسند چند کمپینیوں کو“پلیسر گولڈ“سے نواز رہا ہے جسکی وجہ سے سیکٹر سے وابستہ افراد میں مایوسی پھیل رہی ہے اور روزگار کے مواقع بھی ختم ہورہے ہیں اس حوالے سے پشاور ہائیکورٹ کی جسٹس مسرت ہلالی جوکہ ابھی سپریم کورٹ کی جج ہیں، کا فیصلہ موجود ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پلیسر گولڈ کےلئے چھوٹے چھوٹے بلا کس بنائے جائیں تاکہ مخصوص کمپنیوں کی بجائے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار کے مواقع مل سکیں لیکن اس کے باوجود ڈیپارٹمنٹ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہیں کررہا اور تمام وسائل ایک فرد واحد کو دینا نہ صرف بنیادی انسانی حقوق اور نیچر جسٹس کی خلاف ورزی ہے بلکہ قوم کے حقوق سلب

 کرنے کے مترادف ہے انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی سے مطالبہ کیا کہ منرل ڈیپارٹمنٹ کو ان غیرقانونی کاموں سے روکا جائے۔