جنٹلمین گیم میں ڈرٹی پالیٹکس! 

   جنٹلمین گیم میں ڈرٹی پالیٹکس! 
   جنٹلمین گیم میں ڈرٹی پالیٹکس! 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  پاکستان کے کھیلوں کے میدان ویرانے بنانے کی مذموم کوششیں جاری ہیں جس کھیل کی پہچان ہی ”جینٹلمین گیم“ سے ہوتی تھی اس میں گندی بلکہ غلیظ سیاست کا چلن ہو رہا ہے اس کے درپردہ محرکات اب کچھ اتنے مستور بھی نہیں رہے سب جانتے ہیں کہ کرکٹ کا کھیل جس کے حفیظ کاردار کے زمانے کے کھلاڑیوں کے پاس اپنا شوق پورا کرنے اور جوہر دکھانے کے لئے کرکٹ کا سامان تک نہیں ہوتا تھا، اس  دور میں اس پر چاروں طرف سے ہْن برس رہا ہے اور وہ بھی چھاجوں مینہ برسنے کی صورت میں... اس مینہ میں نہانے کے لئے آنے والے آتے تو کچھا پہن کر ہیں، مگر جلد ہی ان کے کچھے اتار کر انہیں دیدہ زیب سوئمنگ کا سٹیومز پہنا کر دنیا کے مہنگے ترین ہوٹلوں میں بنے جدید ترین سہولیات کے حامل نہانے کے تالابوں میں حسیناؤں کے جھرمٹ میں اتار دیا جاتا ہے اب آپ خود سوچیں کہ جو نوجوان گاؤں کے بارشی پانی کی کائی زدہ آب گاہ میں گوبر سے لتھڑی بھینسوں کے ساتھ لنگوٹی پہن کر اترتا تھا اسے گیند بلے کے کرتب دکھانے کے عوضانے میں آبِ زلال سے بھرے حوض میں نقرئی قہقہوں کے جلترنگ کے مدھر سْروں پہ تھرکتی پاگل کرتی جوانیوں کے ضوریز بازوؤں میں چھوئی موئی بنا کر شفاف پانی کی موجوں میں موجیں مارنے کے لئے چھوڑ دیا جائے تو وہ کتنی دیر تک حواس میں رہ سکتا ہے۔ کہاں گاؤں کا کیچڑ بھرا جوہڑ جس میں پھدکتے مینڈک،  پُوچھل (دْم) سے شڑاپ شڑاپ پیشاب ملے غلیظ پانی کے چھینٹے اڑاتی بھینسیں، ٹانگوں سے چمٹتی جونکیں اتارتے ہوئے ناک میں اس پانی کے ذائقے دار غرارے اور کْلیاں ……اور کہاں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے مہنگے ترین ہوٹلوں میں خوشبودار پانی میں جلوے دکھاتی سنہری مچھلیوں کے شانوں سے اْڑتی ناگن زلفوں کے جان لیوا وار!…… اوتھے بندہ کیہ کرے؟ سٹیڈیم میں ہر چوکے چھکے پر تالیاں پیٹتے نازک ہاتھ اور رقصاں نیم برہنہ جمال یافتہ دہان سے بلند ہوتے زندہ باد کے نعرے ایک جواں ترنگ مرد میدان کے بازوؤں کی تڑپتی مچھلیوں میں بجلیاں بھر کے اسے دیوانہ بنانے کے لئے کیا کم سامانِ ترغیب ِ گناہ ہے کہ اوپر سے ڈالر اور پاؤنڈز کے کڑکڑاتے کرنسی نوٹوں کی مہکار …… ہوش بھلا دیتی ہے۔

پاکستان کر کٹ میں اِس جنٹلمین کھیل کی شرافت کا جنازہ نکالنے میں پہلا قدم آصف اقبال نے لیا تھا جس نے آسٹریلیا کی کیری پیکر سیریز کے ساتھ معاہدے کے بعد ماجد خان جیسے جنٹلمین اور کپتان سمیت کھلاڑیوں کو اس میں شمولیت پر آمادہ کیا۔ کیری پیکر سرکس نے دنیا بھر کے نامور کرکٹرز کو اپنی لپیٹ میں لے کر انہیں جہاں اس کھیل میں جدت طرازی کی جھلکیاں دکھا کر مرعوب کیا وہیں کھیلنے والوں کی اپنے ملکوں کے ساتھ وفاداری کے رشتے میں بھی دراڑ ڈالی۔ رفتہ رفتہ سب کچھ بدلتا چلا گیا اور آج یہ دن بھی ہیں کہ کل کا چھوکرا شبھن گل (بھارتی کسان کا بیٹا)  جس کے باپ نے زمین کے چند گھماں بیچ کر اس کے شوق کو مہمیز دی، اپنے باپ کی چند ایکڑ اراضی کے عوض اسے مشرقی پنجاب کے مہنگے ترین علاقوں میں نہایت بیش قیمت پراپرٹیوں کا مالک بنا چکا ہے اور یہ پیسہ اس نے اپنے کھیل کے بل بوتے پر محنت سے حاصل شدہ نیک نامی سے کمایا ہے۔ہمارے ملک میں بابر اعظم جیسے نامور کھلاڑی نے بھی اپنے کھیل اور اس کے حوا لے سے ملنے والے اشتہاری معاہدوں و مختلف لیگز میں کھیل کر جی بھر کر کمائی کی ہے اور جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے اس نے اکمل برادرز کا کزن ہوتے ہوئے بھی اپنا دامن میچ فکسنگ جیسی آلودگیوں سے بچایا اور اس کی ٹیم کو رضوان جیسے دیگر نیک نیت کھلاڑیوں نے بھی نیک نامی کما کر دی تبھی تو بابر اعظم کی چار سالہ کپتانی کے دور میں ٹیم متحد بھی رہی، کامیاب بھی۔ سب سے بڑھ کر جواریوں کی نحوست سے بچتی رہی، مگر افسوس کہ ذکاء اشرف نے مبینہ طور پر اپنے مختصر عرصے میں سوبرس کا سامانِ زیست کرنے کی تمنا میں بابر اعظم کے چارسالہ دور میں کمائی گئی نیک نامی کو تباہ کرنے کی ٹھان لی ہے اس کے لئے پہلے بابر اعظم کے خلاف عامر جیسے مسلمہ جواری کرکٹرز کے ذریعے اسی کے ہم مشربوں کا گروہ سامنے لاکر بابر اعظم کے خلاف میڈیا مہم چلائی گئی جس میں حفیظ جیسا وہ کھلاڑی بھی شامل تھا،جس کی یہ ریکارڈنگ جیو کے پروگرام کھیل اور کھلاڑی کے پرومو میں بارہا دیکھی گئی کہ جو کھلاڑی اس کھیل اور قوم کی عزت داؤ پر لگاتا ہے اسے کسی طور اس گیم کے قریب نہیں آنے دینا چاہئے..   end of the story…… مگر آج اسی حفیظ نے اپنے عہدے کے لئے اپنے ہی موقف سے انحراف کرتے ہوئے سلمان بٹ جیسے مجرم   کو قومی ٹیم کی سلیکشن کمیٹی میں وہاب ریاض کا مشیر مقرر کر دیا۔اس جواری کی سفارشات کیا ہوسکتی ہیں اس کے بارے میں اندازہ لگانے کے لئے کسی بقراطی ذہن کی ضرورت نہیں۔ 

عامر اور سلمان بٹ کی کرکٹ میں آمد کے بعد جنٹلمین کھیل کے بدنام زمانہ کرداروں کے خلاف پہلا شدید غیر اعلانیہ رد عمل آسٹریلیا نے دیا ہے جس نے قومی کرکٹ ٹیم کا آسٹریلیا پہنچنے پر استقبال ہی نہیں کیا گو کہ اس منفی طرزِ عمل پر عالمی میڈیا کی رپورٹس سامنے آنے پر وزیراعظم آسٹریلیا نے اپنے آفیشلز کی کوتاہی کا ازالہ کرنے کے لئے قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو ڈنر پر مدعو کرلیا، مگر آسٹریلیا کے کرکٹ بورڈ کی طرف سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ کیا جانے والا بُرا سلوک تو عالمی میڈیا میں ہمارے کھلاڑیوں کی بھد اڑا کر ان کے سر میں جو کھیہ ڈال گیا وہ راکھ ذکاء اشرف اور حفیظ کے چہروں کی بدنمائی بے شک نہ بنے، کوئی فرق نہیں پڑتا  فرق تو پڑتا ہے صاف دامن کھلاڑیوں پر جو ابھی تک کیچڑ سے بچ بچ کر چلنے کی کوشش کر رہے تھے…… اللہ تعالیٰ ان کے کردار و عمل کی حفاظت فرمائے آمین

مزید :

رائے -کالم -