آر ڈی اے نے 4 غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کے مالکان کو نوٹس جاری کر دیئے

آر ڈی اے نے 4 غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کے مالکان کو نوٹس جاری کر دیئے
آر ڈی اے نے 4 غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کے مالکان کو نوٹس جاری کر دیئے
سورس: X/@RdaRawalpindi

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

راولپنڈی(آئی این پی)ڈائریکٹر جنرل راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی محمد سیف انور جپہ کی ہدایت پر میٹروپولیٹن پلاننگ اینڈ ٹریفک انجینئرنگ ڈائریکٹوریٹ آرڈی اے نے چار غیر قانونی نجی ہاسنگ سکیموں کے مالکان ملک ایاز خانزادہ، ملک جنید ایاز، ثاقب تنولی، عابد نواز قریشی، حاجی عبد الوہاب خان، غلام شبیر اور ابرار حسین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں، تحصیل ٹیکسلا میں تین غیر قانونی نجی ہاسنگ سکیموں میں ہائی لائف سٹی، پراجیکٹ ایس ایس جے مارکیٹنگ اینڈ پراپرٹی ایڈوائزر موضع نیکو، واہ ہلز موضع گڑہی افغانہ  اور چکری روڈ  راولپنڈی موضع راجڑمیں امان سکیم  شامل ہیں۔

ترجمان آرڈی اے نے کہا کہ ڈی جی آر ڈی اے نے ڈائریکٹر ایم پی اینڈ ٹی ای کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ غیر قانونی اشتہارات اور مارکیٹنگ کے خلاف کارروائی کی جائے اور غیر قانونی ہاسنگ سکیموں کے مالکان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرائی جائیں۔  مزید برآں، سپانسرز کو بھی متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی غیر منظور شدہ وغیر قانونی ہاسنگ سکیموں کی مارکیٹنگ فوری طور پر بند کر دیں اور قانون کے مطابق سکیم کا این او سی و منظوری حاصل کرنے کے لیے آر ڈی اے  رابطہ کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی آر ڈی اے محمد سیف انور جپہ کی ہدایت پر عوام الناس کو اپنے مفاد میں مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ غیر قانونی اور غیر مجاز ہاسنگ سکیموں میں کسی قسم کی سرمایہ کاری سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام الناس کو یہ بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ہاسنگ سکیموں میں سرمایہ کاری کرنے سے پہلے آر ڈی اے سے چیک کریں۔ اسے آر ڈی اے ویب سائٹ پر بھی چیک کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر قانونی ہاسنگ سکیموں کے مالکان اور سپانسرز اشتہارات کے ذریعے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں پلاننگ ونگ آر ڈی اے نے سائبر کرائم ونگ اور ایف آئی اے سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ غیر قانونی ہاسنگ سکیموں کے غیر قانونی اور گمراہ کن اشتہارات کے خلاف قانونی کارروائی کریں تاکہ عوام الناس کو ان کے گھپلوں میں مبتلا ہونے سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ بالا جرائم غیر قانونی ہاسنگ سکیم کے مالک کی طرف سے کیے گئے ہیں اور پنجاب ڈویلپمنٹ اتھارٹیز پرائیویٹ ہاسنگ سکیم رولز 2021 کے قاعدہ 37 کے تحت بھی قابل ذکر ہیں۔ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔