تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن، قانونی ماہرین نے بھی اہم سوالات اٹھا دیئے

تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن، قانونی ماہرین نے بھی اہم سوالات اٹھا دیئے
تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن، قانونی ماہرین نے بھی اہم سوالات اٹھا دیئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد ( خصوصی رپورٹ )تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن مکمل تو ہو گئے لیکن ان انتخابات میں عجلت میں کئی قانونی تقاضے ادھورے چھوڑ دیئے گئے اس حوالے سے قانونی ماہرین نے اہم سوالات اٹھا دیئے ہیں ۔ خبر رساں ادارے "این این آئی " کے مطابق قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ  پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے عجلت میں کروائے گئے انٹر اپارٹی الیکشن میں کئی قانونی خامیوں کے باعث اکبر ایس بابر کو انٹراپارٹی الیکشن چیلنج کرنے کا بہترین جواز فراہم کردیا گیا ہے۔پارٹی آئین کے تحت نیشنل کونسل نے انتخاب کرنا تھا مگر اس کا کوئی باضابطہ اجلاس ہی نہیں ہوا۔ الیکشن سے پہلے نہ پینل بنے نہ بیلٹ پیپر چھپے، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی تشہیر ہوئی نہ کاغذات پر اعتراض کا موقع فراہم کیا گیا۔ تمام عہدوں پر امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوئے۔انٹراپارٹی الیکشن کے لئے کاغذات نامزدگی جمعہ کی شام3بجے تک جمع کروائے جانے تھے۔ پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر کاغذات نامزدگی اور ووٹرز لسٹ لینے پارٹی سیکرٹیریٹ گئے تو انہیں بتایا گیا کہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا وقت ختم ہوچکا ہے۔

 دوسری جانب تحریک انصاف الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق پارٹی الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات کے تمام ضروری قانونی تقاضے پورے کیے جن کا ہر قانونی فورم پر دفاع کیا جائیگا۔ بانی تحریک انصاف سے مشاورت کے بعد صدر سمیت دیگر عہدوں پر نامزدگی آئندہ 2 روز میں کی جائے گی۔عمر ایوب، حماد اظہر، علی امین گنڈا پور نے نامعلوم مقام سے الیکشن میں حصہ لیا جبکہ شاہ محمود قریشی اور یاسمین راشد نے جیل سے بلامقابلہ الیکشن جیتا۔ نئے منتخب ہونے والے عہدیداران کے نوٹیفکیشن پیر تک جاری کر دیئے جائیں گے۔

قانونی ماہرین کے مطابق عجلت میں ہونے والے الیکشن میں کئی قانونی خامیوں کے باعث اکبر ایس بابر کے عدالتی فورم پر مؤقف کو تقویت ملے گی جبکہ اکبر ایس بابر نے نے پہلے ہی اس الیکشن کو سلیکشن قرار دیتے ہوئے چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ہے۔