ایڈزکا عالمی دن 

ایڈزکا عالمی دن 
ایڈزکا عالمی دن 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تحریر :دیبا گلشن

ہر سا ل کی طرح اس سال بھی دنیا بھر میں یکم دسمبر کو ایڈز کا عا لمی دن منا یا گیا ، پا کستان میں بھی ایڈز کے حوالے سے آگا ہی سیمینا ر منعقد کئے گئے جس میں ایچ آئی  وی سے متعلق آگا ئی ، تشخیص اور بچاﺅ سے متعلق اگا ہی فرا ہم کی گئی۔ واضح رہے کہ ایڈز کی تا ریخ کے حوالے سے1981ء میں امریکہ میں ایڈز کے پہلے مریض کی تشخیص کی گئی تھی، ممکن ہے کہ اس سے پہلے بھی دنیا میں ایڈز کے مریض موجود ہوں لیکن ان کی تصدیق نہیں ہوپائی ،  ایڈز کی وبا پھیلنے کے بعد سے اب تک دنیا میں تقریباً چھ کروڑ بیس لاکھ افراد کو ایچ آئی وی انفیکشن اور چار کروڑ بیس لاکھ افراد کو ایڈز لاحق ہو چکا ہے۔اقوامِ متحدہ کے ایچ آئی وی سے متعلق پروگرام 'یو این ایڈز' کے مطابق دنیا بھر میں آیچ  آئی وی کے پھیلنے کی بلند ترین سطح 1996ء میں تھی جب اس کے کیسز میں 54 فی صد اضافہ ہوا تھا۔

اُس سال  32 لاکھ افراد ایڈز سے متاثر ہوئے تھے۔یو این ایڈز کے اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ 2010 ءکے مقابلے میں 2021 ء میں ایچ  آئی وی وائرس کے پھیلنے میں 32 فی صد کمی  آئی۔ 2010ء میں سامنے  آنے والے کیسز کی تعداد لگ بھگ 25 لاکھ تھی جبکہ 2021 میں 15 لاکھ کیسز کا اندراج ہوا، اعداد و شمار کے مطابق 2021 ءمیں ایچ  آئی وی ایڈز اور اس سے متعلق امراض سے دنیا بھر میں لگ بھگ ساڑھے چھ لاکھ اموات ہوئیں، 2004ء  میں اموات کی تعداد 20 لاکھ کے قریب تھی۔سرکاری اعداد و شمار پر مبنی ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک بھر میں لگ بھگ دو لاکھ 40 ہزار ایچ  آئی وی کے کیسز ہیں جن میں 54 ہزار مریض ٹریٹمنٹ سینٹرز تک پہنچ چکے ہیں جبکہ 33 ہزار ٹریٹمنٹ لے رہے ہیں۔ 

اس حوالے سے  ڈاکٹر طفیل کا کہنا تھا کہ قدرت نے انسانی جسم کو مختلف بیماریوں سے بچانے کے لیے ایک نہایت ہی موثر دفاعی نظام سے نوازا ہے جس کو مدافعتی نظام  کہتے ہیں،اس مدافعتی نظام میں خرابی کے باعث انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے، یہ وائرس کسی بھی متاثرہ شخص سے اس کے ساتھ جنسی عمل میں شریک فرد کو بھی متاثر کرسکتاہے یعنی مرد سے عورت، عورت سے مرد، ہم جنس پرستوں میں ایک دوسرے سے اور متاثرہ ماں سے پیدا ہونے والے بچے میں جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ مریض کے استعمال شدہ سرنج یا شیو وغیرہ کے لیے استعمال ہونیوالے اوزار کے دوبارہ استعمال سے بھی  ایک صحت مندشخص متاثر ہوسکتاہے،  جنسی پھیلاوترقی یافتہ اور افریقی ممالک میں بیماری کے پھیلاو کا بڑا سبب ہے ،ایڈز کا مرض ایک وائرس  کے ذریعے پھیلتا ہے جو انسانی مدافعتی نظام کو تباہ کر کے رکھ دیتا ہے۔

اس وائرس کے حملے کے بعد جو بھی بیماری انسانی جسم میں داخل ہوتی ہے، نہایت سنگین اور مہلک صورت حال اختیار کر لیتی ہے، اس جراثیم کو ایچ آئی وی کہتے ہیں، اس کو انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو ناکارہ بنانے والا وائرس بھی کہہ سکتے ہیں ،  یہ وائرس زیادہ تر خون اور جنسی رطوبتوں میں پایا جاتا ہے  لیکن اس کے علاوہ یہ جسم کی دوسری رطوبتوں یعنی تھوک، آنسو، پیشاب اور پسینہ میں بھی پایا جا سکتا ہے  مگر تھوک، آنسو، پیشاب اور پسینہ بیماری پھیلانے کا باعث نہیں بنتے بلکہ یہ بیماری صرف خون اور جنسی رطوبتوں کے ذریعے ہی پھیلتی ہے۔

انہو ں نے کہا کہ ان سب با توں کے با وجو د بھی یہ مرض قا بل علا ج ہے ، ہمیں اس مرض کے نفسیا تی علا ج کے سا تھ ساتھ میڈیکلی بھی علا ج کر نا چا ہیے ، اس مرض کے لئے ایک مخصو ص دوا کا تین ما ہ استعما ل کر کے اس سے نجا ت حاصل کیے جانے کے امکانات ہوتے ہیں اور ہر ایچ آئی وی ، ایڈز نہیں ہوتا، ایڈز ایچ آئی وی کی ایڈوانس سٹیج ہے یا آسان الفاظ میں مرض کی بگڑی ہوئی صورتحال سمجھ لیں۔