فوجی ریل گاڑیوں پر دشمن کے جہاز شدید بمباری کر تے تھے،میں ابا کے گلے لگ کرکھل کر رو یا، ابا نے منہ پھیر لیا، کیونکہ”سپاہی روتے نہیں ہیں“

 فوجی ریل گاڑیوں پر دشمن کے جہاز شدید بمباری کر تے تھے،میں ابا کے گلے لگ ...
 فوجی ریل گاڑیوں پر دشمن کے جہاز شدید بمباری کر تے تھے،میں ابا کے گلے لگ کرکھل کر رو یا، ابا نے منہ پھیر لیا، کیونکہ”سپاہی روتے نہیں ہیں“

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:115
 سٹیشن پہنچ کر دیکھا تو فوجی جوان اور آفیسر ایک علیٰحدہ کھڑی کی گئی فوجی ٹرین کے آس پاس منڈلا رہے تھے اور اپنا سامان ترتیب سے رکھ رہے تھے۔ ٹینک، ٹرک، دوسرا بڑا سامان اور ساٹھ ستر گھوڑے بھی گاڑی میں لاد لیے گئے تھے۔ اب ٹرین کے ڈرائیور کو اس بات کا انتظارتھا کہ کب متعلقہ محکمے سے اسے چلنے کی اجازت ملتی ہے۔ خبروں میں مسلسل آ رہا تھا کہ فوجی ریل گاڑیوں پر دشمن کے جہاز شدید بمباری کر تے تھے اور ہر وقت ا ن کی تاک میں رہتے تھے۔ اس لیے سب ہی فکر مند تھے۔اور بعد میں ایسا ہی ہوااور ہندوستانی فضائیہ کی طرف سے اس گاڑی کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی،لیکن حفاظتی تدابیر کام آگئیں اور نقصان نہ ہوا،اور گاڑی صاف بچ نکلی۔
سورج ابھی غروب ہی ہورہا تھا کہ ابا جان نے مجھے واپس جانے کو کہا کیونکہ رات کے وقت ہر جگہ بہت زیادہ چیکنگ ہوتی تھی۔ بلیک آؤٹ کی وجہ سے سارے شہر کی روشنیاں بھی بند ہو جاتی تھیں۔میں شفیق سے ملا وہ توبہت خوش تھا کہ اس کو فرسٹ کلاس ڈبے میں اس کی پسندیدہ کھڑکی والی نشست مل گئی تھی۔چونکہ میں ابا جان کی یونٹ کے سارے آفیسروں اور جوانوں کے ساتھ ہی پلا بڑھا تھا اس لیے فرداً فرداً سب سے گلے ملا اور گاڑی کے پاس ہی کھڑے ابا جان کے گلے لگ گیا اور لگا ہی رہا، میں تو بڑا ہونے کے باوجود کھل کر رو رہا تھا لیکن ابا جان نے دوسری طرف منہ پھیر لیا تھا۔ویسے بھی وہ ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ”سپاہی روتے نہیں ہیں“۔ان کو بھی پتہ تھا کہ وہ مجھے اتنے بڑے شہر میں بالکل تنہا چھوڑ کر جا رہے تھے۔میں آنسو پونچھتا تھکے تھکے قدموں سے سٹیشن سے باہر نکل آیا۔ مجھے یقین تھا ابا جان جتنے بھی بہادر فوجی ہوں آنکھیں تو ان کی بھی ضرور نم ہوئی ہوں گی۔ ہم باپ بیٹا ہی تو تھے جو ہمیشہ ساتھ رہے تھے اس لیے ہم پیار کے لیے ہمیشہ ایک دوسرے کے محتاج تھے۔
سٹیشن سے باہر نکلتے ہوئے یکدم احساس ہوا کہ میں تو اچانک ہی بہت اکیلا ہو گیا تھا۔لگتا تھا ہر طرف سناٹا اور گہرا اندھیرا چھا گیا تھا اور واقعی ایسا ہی تھا بھی۔سٹیشن ممکنہ حملے کی زد میں تھا اور اسی خدشے کی وجہ سے بہت کم لوگ اس طرف کا ر خ کرتے تھے۔ رونقیں معدوم پڑ گئی تھیں۔ بلیک آؤٹ کی وجہ سے ہر طرف گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا حتیٰ کہ ان دنوں چاند بھی بہت دیر سے نکلتا تھا۔
ایسے حالات میں مجھے پیدل ہی قصرِ صدارت تک کا سفر کرنا تھا۔ ہر قدم ٹٹول ٹٹول کر اور بہت ہیسوچ سمجھ کر اٹھانا پڑتا تھا۔ اتنی احتیاط کے باوجود کئی بار ایسا ہوا کہ میں کسی گڑھے میں گرا یا بجلی کے کھمبے سے جا ٹکرایا۔ جگہ جگہ چیک پوسٹیں اور گشت پر مامور فوجی جوان بندوق دکھا کر ہاتھ اوپر اٹھوا لیتے اور پھر تلاشی لے کر چھوڑ دیتے۔ ابا جان نے یونٹ کی طرف سے مجھے ایک سر  ٹیفکیٹ بنوا دیا تھا جو میں دکھاتا تو وہ آگے جانے دیتے۔ آخر ایک گھنٹے کا راستہ 3 گھنٹوں میں طے کر کے کوئی 10 بجے کے قریب قصرِ صدارت کے گیٹ پر پہنچا اور وہاں موجود پولیس آفیسر کو اپنا تعارف کروا کر اندر جانے کی اجازت مانگی۔ ایک توصدرپاکستان کی رہائش گاہ اور دوسری حالت جنگ، مجھے بھی علم تھا کہ اتنی آسانی سے تو یہ لوگ اندر نہیں جانے دیں گے۔ میں نے ابا جان کی یونٹ کا سر  ٹیفکیٹ بھی دکھایا لیکن وہ نہیں مانے، آخر بہت زیادہ منت ترلا کرنے پر انھوں نے ADC ہاؤس فون کیا اور کیپٹن دلاور سے بات کی، جو ابا جان کے دوست بھی تھے اور ان کو اس سلسلے میں سرکاری احکام بھی مل چکے تھے۔ انھوں نے حفاظتی عملے کو ضروری ہدایات دیں اوریہ مرحلہ طے ہوا تو میں اپنے کوارٹر میں پہنچ کر چارپائی پر گرا اور لا محدود تنہائی کا سوچ کر خوب رویا، میری تو جیسے دنیا ہی بدل گئی تھی۔پھر پتہ نہیں کس وقت آنکھ لگی، صبح دیکھا تو میں کپڑے بدلے بغیر ہی سو گیا تھا۔
جب اٹھا توباہر اچھا خاصا دن چڑھ آیاتھا۔ میں نے اپنے مختصر سے سامان کو، جو اب تک ویسے ہی بکھرا پڑا تھا، ترتیب سے رکھا اور تیار ہو کر کالج کے لیے روانہ ہو گیا۔کھانا رات کو بھی نہیں ملا تھا صبح بھی نہیں، اب جو بھوک لگی تو بس جان ہی نکل گئی۔ کالج پہنچ کر کلاس میں جانے کی بجائے سیدھا کنٹین چلاگیا اور دو سموسے اور چائے کا ایک کپ لیا اور یوں زندگی کا پہلا ناشتہ خرید کرپیٹ کی آگ بجھائی۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -