وکٹورین سٹائل گھروں کے درمیان بارات میں ایک دُولہا نظر آیا،اگلی دعوت پر اُس سے ہم کلامی ضرور کیجئے گا، آپ کو دل کا سرور آنکھوں کا نور ملے گا

 وکٹورین سٹائل گھروں کے درمیان بارات میں ایک دُولہا نظر آیا،اگلی دعوت پر اُس ...
 وکٹورین سٹائل گھروں کے درمیان بارات میں ایک دُولہا نظر آیا،اگلی دعوت پر اُس سے ہم کلامی ضرور کیجئے گا، آپ کو دل کا سرور آنکھوں کا نور ملے گا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ع۔ غ۔ جانباز 
قسط:35
27-8-2018
وسیم احمد کا نیا گھر اور ہم 
شام کو یہی کوئی 7 بجے ہوں گے کہ "Brampton"کے لیے وسیم احمد کی دعوت کے لیے روانگی ڈال دی۔ راستہ میں "High Land Farms" جو ایک "Eatable Store" ہے وہاں ذرا رُکے اور ایک چاکلیٹ کیک لیا تاکہ دعوت میں اپنا حصّہ ڈال دیں۔
"Brampton" کی آبادی تو کافی پرانی ہے اور آپ کو وہاں وکٹورین سٹائل کے گھر ملیں گے۔ لیکن جو ابھی ایکسٹینشن ہونے جا رہی ہے تو کچھ نئے گھروں کا پہلے سٹائل سے ہٹ کر اضافہ ہو رہا ہے۔
گاڑی جو وسیم احمد کے گھر کے سامنے رکی اور اُتر کر دائیں بائیں نظر دوڑائی تو جناب یہ گھر تو ساتھ بنے وکٹورین سٹائل گھروں کے درمیان بارات میں ایک دُولہا نظر آیا۔ ایک بڑا پانچ بیڈ کا گھر۔ گھر کے سامنے سڑک کے اُس پار مٹی کا ایک ٹیلہ نظر پڑا اور کچھ نشیبی سی زمین۔ تو جناب چند مہینوں کی بات ہے وہاں سامنے ایک حسین و جمیل زاویئے کھینچتی ایک صحت بخش پارک ہوگی اور آپ کو دعوت نظاّرہ دے رہی ہوگی۔ اگلی دعوت پر اُس سے ہم کلامی ضرور کیجئے گا۔ آپ کو دل کا سرور آنکھوں کا نور ملے گا۔ 
یہی کیا کم تھا گھر کے اندر داخل ہوئے۔ اہل خانہ اور دوسرے مہمانوں سے پرتپاک طریقے سے ملے اور اپنی نشست سنبھالنے سے پہلے جو آگے ڈائننگ کی طرف نظر اُٹھی تو جناب بالکل ہی ہٹ کر منظر آنکھوں کی نذرہوا۔ یہاں تقریباً سوفیصد گھروں میں لکڑی کے فرش ہوتے ہیں اور اُن پر حسبِ ضرورت قالین بچھائے جاتے ہیں۔ لیکن یہاں جناب نہایت ہی خوبصورت دیدہ زیب ٹائلز کا فرش دیکھ کر وسیم صاحب کو داد دینی پڑی کہ انہوں نے روایتی طلسم کو توڑا ہے۔ 
ان نگارشات کی روشنی میں اب آپ کہیں گے وسیم صاحب ایک کلین شیو، سر پر انگریزی کٹ سجائے ایک دفتری بابو ہوں گے۔ نہ نہ…… وہ تو جناب ایک لمبے قد، گو کلین شیو لیکن سپر پر یہی کوئی گہرے سیاہ ڈیڑھ فٹ لمبے بال لہراتے یوں لگیں جیسے کسی مزار کے متولّی ہوں۔ تو اِس گہرے تضاد کی گہرائی میں جانے کی اِس وقت فرصت نہیں کسی اور وقت اِس کی تہہ تک جائیں گے اور تفصیلی رپورٹ اگلے سفر نامہ میں ملاحظہ کیجئے گا۔ 
مہمانوں میں اعجاز صاحب اور اُس کا بیٹا Sammi Ejaz جو کونسلرز کے الیکشن میں کھڑا ہے۔ منصب صاحب اور دو تین اور معززین بمعہ فیملیز مدعو تھے۔ بات چیت میں حسبِ معمول اعجاز صاحب ہی نشانہ پر رہے اور اُن کا بیس گوریوں کو اسلام قبول کروانے اور آج کل اکیسیویں پر طبع آزمائی کرنا ہی زیر بحث رہا۔ 
مغرب کی نماز با جماعت ادا کی گئی۔ امامت کے فرائض جناب اعجاز صاحب نے ادا کیے۔ پھر کھانا لگ گیا۔ کھانا پُر تکلف تھا۔ اِس میں چکن، مٹن کی ڈشز، کباب، حلیم، روسٹ، سلاد، چٹنی، نان، سپرائٹ اور کوک۔ سب نے حسبِ توفیق پیٹ پوجا کی۔ پھر بعد میں کھیر اور کیک سے منہ میٹھا کروایا چائے پیش کی گئی۔ پھر اہل خانہ سے اجازت چاہی اور واپس اپنے گھر یہی کوئی 11 بجے پہنچے اور سیدھے اپنے اپنے بیڈز کی طرف چل دئیے۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -