ایک دو زخم نہیں جسم ہے سارا چھلنی

ایک دو زخم نہیں جسم ہے سارا چھلنی
ایک دو زخم نہیں جسم ہے سارا چھلنی

  

وفاتیات کے حوالے سے کالم شائع ہوا تو سِبی سے ندیم نیازی صاحب نے فون پر اطلاع دی کہ اسی ماہ میں اسی سال میں یعنی جنوری 2013ءکے دوران ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہم سے بچھڑ جانے والوں میں سلطان ارشدالقادری بھی تو ہیں، جن کا تذکرہ رہ گیا!دربار سلطان باہوؒجھنگ سے تعلق خاطر رکھنے والے شاعر،ادیب، مدیر سہ ماہی”دستگیر“ (کوئٹہ) سلطان ارشد القادری نے جمعرات 24جنوری 2013ءکی شب رحلت پائی اور جمعہ 25جنوری کو اپنے آبائی مسکن جھنگ کے قبرستان میں سپردخاک کئے گئے۔انتقال کے وقت ان کی عمر محض 52برس تھی۔ان کا ایک شعری مجموعہ ”رُت جگوں میں خواب “ کے عنوان سے شائع ہوا تھا، ان کے اپنے اشاعتی ادارے ناشاد پبلشرز کے تحت کچھ اور کتابیں بھی چھپیں انہیں روحانیات اور تصوف کے ساتھ ساتھ علم الاعداد سے بھی گہری دلچسپی تھی۔ان کا سہ ماہی جریدہ ”دستگیر“ خاصے عمدہ ادبی، دینی، سماجی، روحانی معیار کا حامل تھا۔ ایک عرصے تک وہ ہمیں اپنے اس جریدے سے نوازتے رہے۔فون پر بات چیت ہوجاتی تھی، خط کتابت بھی رہی۔ملاقات کا شرف دوچار بار ہی حاصل ہوسکا۔ بہرحال خوب آدمی تھے، نیک نفس، نیک خو انسان دوست انسان....! ان کے چند شعر جو سردست میسر آ سکے، نذرِ قارئین ہیں:آندھیوں کی زد میں آئے گُل کی تقدیروں سے ڈررتجگوں میں خواب بنتا ہے تو تعبیروں سے ڈر!٭....٭....٭ ایک نعتیہ شعر:سیرت ہے کہ قرآن کی تفسیر مجسمصورت ہے حسیں سورئہ رحمان کی صورتعقیدت کا ایک شعر حضرت سلطان باہو کی نسبت سے ٹھکراﺅں نہ کیوں تاجِ شہانہ کہ مجھے توباہو کی غلامی کی سعادت بھی بہت ہےاور غزل کا ایک شعر:پیتا رہا میں ہجر کا سم پچھلے برس بھیدن رات رہی آنکھ یہ نم پچھلے برس بھی٭....٭....٭اردو،سرائیکی کے بزرگ شاعر بربط تونسوی بدھ30 جنوری 2013ءکو 86برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔انہیں ان کے آبائی قبرستان تونسہ شریف میں جمعرات31جنوری 2013ءکو سپردخاک کیا گیا۔بربط تونسوی کا اصل نام دوست محمد تھا۔وہ ایام جوانی میں والی بال کے انٹرنیشنل کھلاڑی بھی رہے۔ڈاکٹرطاہرتونسوی کے محلے دار اور بزرگ تھے۔انہوں نے بتایا کہ بربط تونسوی نے شاعری خاصی دیر سے شروع کی ۔پہلے تو کھلاڑی تھے ڈسٹرکٹ کونسل سے سرکاری ملازم کے طور پر ریٹائر ہوئے۔ان کا اپنی زمین سے رشتہ بہت گہراتھا اور انہوں نے اس زمینی رشتے کا اپنی شاعری میں بھرپور اظہار کیا۔وہ قدیم و جدید رنگ میں ملے جلے اسلوب کے حامل شاعر تھے۔ملتان کے گردونواح کے شہروں کے ادبی حلقوں میں بھرپور شرکت کرتے، مشاعروں میں شریک ہوتے اور اپنے ہونے کا مسلسل احساس دلاتے رہتے، مگر پچھلے سال اپنے ایک جواں سال بیٹے کے انتقال کے سبب بجھ سے گئے تھے۔ان کے انتقال سے ”سرائیکی بیلٹ“ کو خصوصاً ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔بربط تونسوی نے تین شعری مجموعے مطبوعہ صورت میں یادگار چھوڑے:1۔کربِ مسلسل

2۔اس بات کو برسوں بیت گئےآﺅتوصیفِ مصطفےٰ کریں[نعتیہ مجموعہ]یہ تو تھے بزرگ صاحب فن شاعر بربط تونسوی....اب 2012ءیعنی گزشتہ برس کے کچھ ایسے اہلِ قلم کا ذکر مختصراً کرتا چلوں، جن کا تذکرہ نہ کیا جا سکا۔کوتاہی کے لئے معذرت!!طارق الخیری ایم اے ایڈیٹر ”عصمت“ کراچی،17فروری 2012ءکو کراچی میں انتقال کر گئے۔وہ کار ایکسیڈنٹ میں 12فروری کو شدید زخمی ہوئے اور بالآخر زخموں کی تاب نہ لا کر 17فروری کو راہی ملک عدم ہوئے،وہ مشہور شاعرہ ادیبہ صحافی بہنوں صفورا خیری اور صفیہ خیری کے بھائی تھے۔مولانا رازق الخیری کے صاحبزادے اور مصورِ غم حضرت علامہ راشد الخیری کے پوتے تھے۔٭....٭....٭31اکتوبر2012ءکو جماعتِ اسلامی سے وابستہ مشہور زمانہ نومسلم مصنفہ مریم جمیلہ انتقال کر گئیں۔سابق مارگریٹ مارکس 1961ءمیں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے ذریعے مسلم خاندان کی رکن بنیں اور قبول اسلام کے بعد پاکستان منتقل ہوکر تصنیف و تالیف کے حوالے سے داعیہ اسلام کہلائیں۔٭....٭....٭انڈیا میں پروفیسر وارث کرمانی 29اکتوبر2012ءکو انتقال کر گئے۔وہ فارسی زبان و ادب کے سکالر تھے۔علی گڑھ یونیورسٹی سے تمام عمروابستہ رہے۔ان کی سوانح عمری یا خودنوشت ”گھومتی ندی“ کے نام سے 450صفحات پر محیط شائع ہوئی۔کتابی شکل میں آنے سے قبل یہ 2002ءسے 2005ءتک مشہور ماہنامے ”شب خون“الٰہ آباد میں قسط وار چھپتی رہی۔2006ءمیں کتابی شکل میں رضا لائبریری رامپور نے اسے شائع کیا۔٭....٭....٭اور ہاں! یاد آیا سجاد نقوی بھی گزرے برس2012ءکے اواخر ستمبر،اکتوبر میں اردو ادب و فن کو داغِ مفارقت دے گئے۔وہ مشہور افسانہ نگار، ناول نویس، سفرنامہ نگار پروفیسر غلام الثقلین کے برادرِ خورد تھے۔ ایک زمانے میں سرگودھا سے شائع ہونے والے مشہور متنازع ماہنامے ”اردوزبان“ کے مدیر بھی رہے تھے۔دراصل پس پردہ اس رسالے کے زیادہ ترمدیر تو ڈاکٹر انور سدید ہی تھے، تاہم سجاد نقوی صاحب کی اپنی تحریریں بھی قابل قدر ہوتی تھیں۔ان نابغہ ءروزگار ہستیوں کے اُٹھ جانے سے کسی کا ایک شعر حسبِ حال یاد آرہاہے : ایک دو زخم نہیں جسم ہے سارا چھلنیدرد بے چارا پریشاں ہے کہاں سے اُٹھے؟

مزید :

کالم -