بمبار بچے اور علماءکی شہادت

بمبار بچے اور علماءکی شہادت
بمبار بچے اور علماءکی شہادت

  

شیخ صاحب کئی دہائیوں سے بسلسلہ کاروبار باڑہ ،پشاور میں مقیم تھے۔ حالات کی خرابی کی بنا پر دوست احباب نے کئی مرتبہ کاروبار منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔ پہلے پہل وہ سنی ان سنی کرتے رہے، حالات زیادہ بگڑے تو سنجیدگی سے غور کرنے لگے۔ حتمی فیصلہ کرتے ہی انہوں نے اپنے بیٹے کو ساتھ لیا اور مزدوروں سے الوداعی ملاقات کرنے فیکٹری پہنچے۔ چند گھنٹوں بعد نقاب پوش اسلحہ بردار وہاں آن دھمکے۔ شیخ صاحب کو تو انہوں نے کچھ نہ کہا، البتہ بیٹے کو اغواءکرکے ساتھ لے گئے۔ ٹیلی فون رابطے اور سفارش کے بعد بات ایک کروڑ پر ختم ہوئی۔ بیٹا واپس لوٹا تو تفصیل بتاتے ہوئے کہا:” میری جان تو بچ گئی، لیکن نگاہیں ان معصوم بچوں کو نہیں بھلا پائیں گی، جنہیں خودکش حملہ آور بننے کی تربیت دی جا رہی تھی“۔ پاکستان میںخودکش حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ شرپسند کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے۔ کراچی کی خوں ریزی ہو یا آفتوں کے سیلاب میں بہتے انسان، دہشت گرد سبھی چیزوں سے بے نیاز اپنے ایجنڈے کو متواتر آگے بڑھا رہے ہیں۔ جوں جوں ملک کے حالات بگڑ رہے ہیں، سفاکانہ کارروائیوں میں بھی تیزی آرہی ہے۔ پے در پے ہونے ہونے والے خودکش حملے اس امر کی نشاندہی بھی کر رہے ہیں کہ شدت پسند آنے والے دنوں میں پہلے سے چنی گئی سیاسی و مذہبی شخصیات پر حملہ آور ہوں گے۔ ٹیمرا، طالبان میڈیا، ریگولیٹری اتھارٹی، کراچی،راولپنڈی کے حساس اداروں ، تھانوں کو اڑانے کی ہدایات جاری کر چکی ہے۔ ان کے اعتماد اور بے خوفی کا یہ عالم ہے کہ میاں برادران تک کو دھمکیاں پہنچا ئی گئی ہیں۔ کیا دہشت گرد جس عزم کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس پر عمل درآمد کی اہلیت بھی رکھتے ہیں؟ اگر ماضی قریب میں جھانکا جائے تو شواہد بتاتے ہیں کہ وہ حالات بگاڑنے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں۔ اہم شہروں میں ان کا نیٹ ورک پہلے سے قائم ہے۔ یہاں نہ صرف ٹارگٹ پر حملہ آور ہونے والوں کو پناہ دی جاتی ہے، بلکہ حملے سے قبل ہدف کی ریکی بھی کروائی جاتی ہے۔ اب صرف لاہور کی مثال سامنے رکھئے۔ ہر دو چار ماہ بعد رات کے وقت نامعلوم موٹر سوار سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ تھانوں، ناکوں اور نشان شدہ سرکاری رہائش گاہوں پر ہلکی نوعیت کے کریکرز اچھالے جاتے ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا کریکر پھٹتے ہی علاقہ ویران اور لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ جتنی دیر میں انتظامیہ پوری طرح مستعد ہوتی ہے، نامعلوم حملہ آور غائب ہوچکے ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے جو حملہ آور کریکر اچھال سکتے ہیں، انہیں بم پھینکنے یا نصب کرنے میں کون سی دشواری ہوگی؟ جو بم نصب کر سکتا ہے، اسے خودکش بیلٹ باندھنے سے کون روک سکتا ہے اور جو خودکش بیلٹ استعمال کر سکتا ہے، اسے انتہائی اہم شخصیات تک رسائی سے کیونکر روکا جا سکتا ہے؟۔ کچھ عرصہ قبل یہ تاثر عام تھا کہ مذہبی رجحان کی وجہ سے دہشت گرد مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے بارے میں نرم جذبات رکھتے ہیں۔ یہ تاثر صریحاً غلط تھا۔ دہشت گرد ریاست کے دشمن ہیں۔ اس دشمنی کی راہ میں جو بھی ادارہ ، شخص حائل ہوگا، اسے مار دیا جائے گا۔ دہشت گرد اپنے سوا کسی کو بھی پورا مسلمان تصور نہیں کرتے۔ انسانوں کو ذبح کرنا، خودکش حملے ، اغواءبرائے تاوان اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا، دہشت گردوں نے ان تمام چیزوں کے بارے میں فتویٰ لے رکھا ہے۔ حملوں میں بے گناہوں کی ہلاکت پر ان کا موقف ہے ، چونکہ مرنے والے یہ لوگ بدی کے نظام کے خلاف جدوجہد نہیں کر رہے تھے ،لہٰذا یہ منافقین میں سے تھے اور منافق اگر مارا بھی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح اغواءبرائے تاوان سے حاصل ہونے والی رقم بھی ان کے لئے حلال ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس رقم کی تقسیم کے معاملے پر کئی کمانڈر محض حصہ کم ملنے پر ایک دوسرے کو ہلاک کر چکے ہیں۔ تہذیب سے دور یہ لوگ ترقی پسند معاشروں کے بارے میں اپنے بوسیدہ خیالات کو جراثیم کی مانند کم سن بچوں میں بھی انڈیل رہے ہیں۔ انہی بچوں کو ہر اول دستے کے طور پر استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو دہشت گرد نہ صرف اپنے آپ کو جانی نقصان سے محفوظ رکھ پا رہے ہیں، بلکہ ان کی قیادتوں کو اپنی پناہ گاہوں سے نکلنے کا خطرہ لئے بغیر متعلقہ نتائج بھی حاصل ہو رہے ہیں۔ بچہ اپنے آپ کو اڑا ڈالے، انہیں کوئی پرواہ نہیں، وہ خود تو محفوظ ہیں ناں۔دس میں سے آٹھ خودکش حملہ آور نوعمروں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ شعور کی منزلوں سے بہت دور ان نوعمروں کو ورغلانا اور حملے کے لئے ذہن بنانا آسان ہوتا ہے۔ ان خودکش حملہ آوروں میں رضاکاروں کے علاوہ وہ بچے بھی شامل ہوتے ہیں، جنہیں زبردستی اغواءکیا جاتا ہے۔ انہی میں سے ایسے بچوں کو علیحدہ کر لیا جاتا ہے، جن کے بولنے، سمجھنے کی صلاحیتیں دوسروں سے زیادہ ہوتی ہیں۔ ان سمجھدار بچوں کو حملے کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا، بلکہ انہیں ایسے چھوٹے استاد کے طور استعمال کیا جاتا ہے، جس کا کام نئے آنے والوں کو اپنی عمر اور سمجھ کے مطابق ڈھالتے ہوئے پرجوش کرنا ٹھہرتا ہے۔ ٹارگٹ کے لئے متعلقہ علاقے کی طرف روانہ کرتے وقت بظاہر یہ تاثر دیا جاتا ہے، جیسے تمام گروپ کو ابدی مسرت کی خاطر الوداع کیا جا رہا ہے، لیکن بعد میں چپکے سے ذہین اور تربیت یافتہ بچوں کو دوبارہ واپس منگوا لیا جاتا ہے۔ ٹھہرنے والے بچوں کا کام یہیں ختم نہیں ہوتا، بلکہ یہ موبائل فون کے ذریعے ٹاسک کی طرف جانے والوں کا گاہے بگاہے حوصلہ بڑھاتے رہتے ہیں۔ اتنے منظم انداز میں کام کرنے والے گروپوں کو کس طرح کنٹرول کیا جائے گا؟.... اگر کل کلاں یہ بچے قدرتی آفت میں پھنسے لوگوں کے کیمپوں میں پہنچ جاتے ہیں یا مدد کے طالب بن کر کسی اہم شخصیت تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں تو نتیجہ کیا ہوگا؟ انسانی مزاج میں بچوں کے بارے میں شفقت قدرتی بات ہے۔ دہشت گرد اسی انسانی شفقت سے کھیلتے ہوئے اہداف تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔ دنیا بھر کی مسلح تحریکوں نے کم از کم اس وقت کاروائیاں ضرور روک دیں، جب ملک قدرتی آفات میں گھر گئے۔ یہ کیسے لوگ ہیں جو آفتوں کے شکار معاشرے کو مزید تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ دہشت گردی کے سدباب کے لئے دیگروجوہات کے علاوہ معاشی ترقی بے حد ضروری ہے۔ موجودہ دور حکومت میں ترقی تو ایک طرف، تنزلی کا سفر ہی نہیں رک پا رہا۔ محفوظ علاقے بھی آہستہ آہستہ شدت پسندوں کا میدان جنگ بنتے جا رہے ہیں۔ سب سے تشویشناک پہلو کراچی میں نمودار ہوتی بدامنی کی لہر ہے۔ دعا کریں اس لہر میں خودکش بمبار بچے شامل نہ ہو جائیں.... اگر خدانخواستہ ایسا ہوگیا تو یہ ٹارگٹ کلر، خان خوانین، بھائی لوگ بہت بڑی تعداد میں مارے جائیں گے ۔ جامعہ بنوریہ کے علماءکا قتل ہر صورت ردعمل پیدا کرے گا؟ ٭

مزید : کالم