ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنے مقام ومرتبے سے نیچے نہ اُتریں

ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنے مقام ومرتبے سے نیچے نہ اُتریں

  

محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہچکچاتے ہچکچاتے بالآخر سیاسی میدان میں کود ہی پڑے،سیاست میں اُن کو خیر مقدم کہتے ہوئے چند گزارشات اُن کی خدمت میں پیش کی جارہی ہیں: ایٹم بم کے خالق کی حیثیت سے اُن کی پوزیشن غیر متنازعہ تھی،اگرچہ اُن کے بعض سائنس دانوں نے اُن کے کارنامے کو گہنانے کی کوشش کی لیکن اُنہیں زیادہ کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ پھر جنرل (ر)پرویز مشرف کے عہد میں اُنہیں ٹیلی ویژن کی سکرین پر آکر معذرت پر مجبور کیا گیا،کچھ عرصے سے لگتا تھا کہ وہ سیاسی اکھاڑے میں کود نے کی تیاری کررہے ہیں،اُنہوں نے تحریک تحفظ پاکستان کے نام سے ایک جماعت بھی تشکیل دی، اور اِس جماعت کی طرف سے بعض دوسری جماعتوں سے مل کرالیکشن لڑنے کے ارادے سامنے آتے رہے ہیں۔سیاسی سرگرمی میں حصہ لینا، سیاسی جماعت بنانا اور پھر الیکشن میں حصہ لینا پاکستان کے ہر شہری کا حق ہے،جسے کسی صورت چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ اِس لحاظ سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور اُن کی جماعت کا بھی حق ہے کہ وہ الیکشن لڑے،قوم کو اپنے پروگرام اور منشور سے آگاہ کرے۔اُ نہیں قائل کرے،اُن سے ووٹ حاصل کرے اور اِن ووٹوں کے نتیجے میں اگر اُن کے اتنے زیادہ ارکان منتخب ہوتے ہیں کہ وہ حکومت سازی کرسکیں یا حکومت بنانے والوں کے ساتھ شریک ہوکر کوئی کردار ادا کرسکیں تو کسی کو اُن پر کوئی اعتراض بھی نہیں ہوسکتا۔ وہ اگر کیئر ٹیکر سیٹ اپ میں بطور وزیراعظم اُمید وارہوں تو اِس کیلئے ضروری ہے کہ آئین کے مطابق اُن کا انتخاب ہو۔ وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان اُن کے نام پر اتفاق رائے ہوجائے، تو اُ نہیں نگران وزیراعظم بنایا جاسکتا ہے،دوسری صورت یہ ہے کہ معاملہ اگر چیف الیکشن کمشنر کے سپرد ہو تو اُن کی نظر انتخاب اُن پر ٹھہر جائے تو وہ اُنہیں نگران وزیراعظم بنانے کا اعلان کرسکتے ہیں۔بظاہر آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اُن کے نگران وزیراعظم بننے کی کوئی دوسری صورت سامنے نہیں اور تین سال کیلئے نگران وزیراعظم کا تو کوئی تذکرہ آئین میں دُور دُور تک نہیں، یہ بعض لوگوں کی سوچ ہوسکتی ہے،جو ممکن ہے مقتدر ہونے کی وجہ سے ایسی تجاویز پیش کررہے ہوں اور اِس میں ملک وقوم کی کوئی بھلائی بھی دیکھتے ہوں لیکن یہ خالصتاً لوگوں کی ذاتی سوچ ہوسکتی ہے، آئین ایسی کسی تجویز کی تائید نہیں کرتا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اقتدار میں آنا ہے تو آئین کے راستے سے آئیں، کسی شارٹ کٹ پر اگر اُن کی نظر ہے تو یہ اُن جیسی قد آور شخصیت کے شایانِ شان نہیں۔ایسی صورت میں اُن کی غیر متنازعہ حیثیت متاثر ہوگی اور اُن کی جانب انگلیاں اُٹھیں گی اور اُن کے کارناموں کو گہنانے کی کوشش ہوگی،جو ڈاکٹر صاحب کے مقام و مرتبے کو متاثر کرنے کا باعث بنے گی۔وہ سیاست میں آئے ہیں تو آئینی سیاست کریں، بیساکھیوں کو تلاش نہ کریں اور نہ کسی ایسے راستے کا انتخاب کریں جو آئین کے مطابق نہیں۔اُن کا مطمح نظر نگران وزیراعظم ہی کیوں؟ وہ منتخب وزیراعظم کا ٹارگٹ سامنے کیوں نہیں رکھتے؟  ٭

مزید :

اداریہ -