وزیراعلیٰ پنجاب کا جواں ہوتا جوش و جذبہ

وزیراعلیٰ پنجاب کا جواں ہوتا جوش و جذبہ
وزیراعلیٰ پنجاب کا جواں ہوتا جوش و جذبہ

  

ایک فطری عمل ہے کہ انسان کی جوں جوں عمر بڑھتی جاتی ہے اُس کا جوش و جذبہ سرد پڑتا جاتا ہے، لیکن میاں محمد شہباز شریف کے معاملے میں یہ فارمولا بالکل اُلٹ ثابت ہوا ہے ،کیونکہ جیسے جیسے وقت گزرتا جارہا ہے ،اُن کا جوش و جذبہ مزید جواں ہوتا جارہا ہے اور وہ ایسے کارنامے سرانجام دے رہے ہیں جوکوئی عام یا پھر جذبہ حُب الوطنی سے عاری آدمی ہرگز نہیں دے سکتا خواہ وہ کتنے ہی بڑے عہدے پر فائز ہو۔نوجوان کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں اور ترقی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے ہیں،نوجوان پڑھے لکھے ہوں گے تو ملک تیزی سے ترقی کرے گا، اِس حقیقت کا احساس اور کسی کو ہو نہ ہو میاں محمد شہباز شریف کو ضرور ہے جس کا ثبوت نوجوانوں کی ترقی کے لئے اُن کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات ہیں۔ یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام اور انٹر ن شپ پروگرامز متعارف کرواکے اور طلباءو طالبات کی حوصلہ افزائی کے لئے لیپ ٹاپ تقسیم کرکے وزیراعلیٰ پنجاب نے جس طرح نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی ہے اُس کے اثرات واضح طور پر نظر آرہے ہیں ۔نوجوان طلباءکی حوصلہ افزائی سے نہ صرف ملک کو اشد ضروری اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بہترین افرادی قوت میسر آئے گی بلکہ شرح خواندگی میں بھی اضافہ ہوگا جو وفاقی حکومت کی تعلیم مخالف پالیسیوں کی وجہ سے بہت کم تر سطح پر ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے جس کارنامے نے میرے دل پر انمٹ نقوش چھوڑے وہ پنجاب میں سے ڈینگی کی نحوست کا خاتمہ ہے۔ سال 2011ءمیں ، جب ڈینگی کے مہلک وائرس نے پوری طاقت کے ساتھ بالخصوص لاہور پر حملہ کیا تو میں خود بھی اِس کا شکار ہوا جس کی وجہ سے مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ اِس مہلک مرض میں مبتلا مریض کے لئے زندگی اور موت کے درمیان فاصلہ کس قدر کم ہوجاتا ہے۔ چند ہی ماہ میں ہزاروں لوگ اِس مہلک وائرس کی لپیٹ میں آکر زندگی اور موت کی جنگ لڑنے لگے، چھوٹے چھوٹے بچوں سمیت تین سو سے زائد افراد خالق حقیقی سے جا ملے، ہسپتالوں میں تل دھرنے کی جگہ نہ رہی ، ڈینگی کے شکار مریض مرد و خواتین بزرگوں، نوجوانوں اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو خون کی اُلٹیاں کرتے اور جاں کنی میں مبتلا دیکھ وہ لوگ بھی شدید اضطراب کے عالم میں تھے جو اِس مہلک وائرس کی لپیٹ میں نہیں آئے تھے ۔ سری لنکا سے معاونت کے لئے آنے والے ماہرین بھی اِس مہلک وائرس کی تباہ کاریوں کو دیکھ کر پریشان اور اِس خدشے کا اظہار کررہے تھے کہ یہ وائرس نہ صرف مزید انسانی جانوں کا نذرانہ لے گا بلکہ آنے والے سالوں میں اِس کی شدت بھی بڑھے گی۔ اِس کڑے وقت میں میاں محمد شہباز شریف نے ایک سپاہی کا کردار ادا کیا جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ اُنہوں نے صرف پنجاب کی تمام مشینری کو فعال ہی نہیں کیا، بلکہ اِس بیماری کا شکار بننے کے خطرے سے بے نیاز ہوکر خود بھی عملی طور پر پارکوں، گاڑیوں کو پنکچر لگانے والی دکانوں اور گلیوں محلوں میں ڈینگی لاروا کے خاتمے کے لئے سرگرمِ عمل رہے حالانکہ ملک پر ایسے لیڈر بھی مسلط ہیں جو اُس وقت بیرون ملک سیر و تفریح میں مصروف تھے جب چاروں صوبوں کے عوام بدترین سیلاب میں ڈوبے ہوئے تھے۔انسداد ڈینگی کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی کوششوں کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔

2012ءمیں یعنی صرف ایک سال کے اندر ڈینگی کے مہلک اور موذی وائرس کا 95فیصد تک خاتمہ ہوچکا تھا، حالانکہ سری لنکا اور برازیل سمیت دنیا کے کئی ممالک بیس بیس سال سے ڈینگی کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن اُنہیں کامیابی نہیں ہوئی۔ بجلی اور گیس کی سپلائی کے سلسلے میں پنجاب کے ساتھ سخت ناانصافی پر وزیراعلیٰ پنجاب نے جو انتہائی سخت موقف اپنایا اُسے پنجاب کی کاروباری برادری بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ مسائل کا سامنا دیگر صوبوں کو بھی ہے، لیکن شہباز شریف کے علاوہ کسی اور صوبے کے سربراہ کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ خود شدید گرمی اور تپتی ہوئی دھوپ میں ٹینٹ لگاکرعوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرے۔ اِس وقت لاہور میں میٹروبس منصوبہ تقریباً مکمل ہوچکا ہے، جس کا موازنہ کسی بھی ترقی یافتہ ملک کے ایسے ہی منصوبے کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔ اِس منصوبے پر اُن سیاسی مخالفین کو بہت سخت اعتراض ہے، جنہیں نہ تو خود کبھی عوام کے لئے کچھ کرنے کی توفیق ہوئی ہے اور نہ ہی اُنہیں کبھی یہ نظر آیا ہے کہ اُن کے لیڈروں نے اِس ملک و قوم کو کس طرح تباہ و برباد کیا ہے۔ اِن مخالفین کو اور کچھ نہیں تو یہی سوچ کر چپ کرجانا چاہیے کہ میٹرو بس کے ذریعے عام آدمی کو انتہائی سستی ٹرانسپورٹ ملے گی، بہترین اور معیاری سروس کی وجہ سے متوسط طبقے کے لوگو ںمیں بھی ذاتی سواری رکھنے کا رحجان کم ہوگا،جس کی وجہ سے سڑکوں پر سے ٹریفک کا دباﺅ کم ہو گا اور لوگوں کو ٹریفک جام کے عذاب سے نجات ملے گی۔پاکستان کی تباہی و بربادی کی سب سے بڑی وجہ کرپشن کا ناسور ہے، جس کے خلاف بہت سخت آواز بلند کرکے وزیراعلیٰ پنجاب نے عوام کے جذبات کی ترجمانی کی ہے، کیونکہ انتہا تک پہنچی ہوئی کرپشن کی وجہ سے ہر کوئی بہت بُری طرح پریشان ہے۔ اِس کے علاوہ میاں محمد شہباز شریف نے اقرباءپرستی ،سفارش اور گھوسٹ سکولوں کے خاتمے ، روڈ نیٹ ورک اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لئے جو اقدامات اُٹھائے ہیں، وہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ وہ ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر اور معاملات کو بہتر کرنے کی بھرپور صلاحیتیں رکھتے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت نے بھی پانچ سال کے دوران اپنی ”صلاحیتوں“کا کھل کر اظہار کرتے ہوئے صنعتکاروں، تاجروں اور عوام کو بجلی و گیس کی تباہ کن لوڈشیڈنگ اور امن و امان کی بدترین صورت حال سمیت اور بہت سے تحفے دئیے ہیںجن کے پیش نظر اب تو یہی خواہش ہے کہ میاں محمد شہباز شریف کو وفاقی سطح بھی بہت اہم انتظامی عہدہ ملے تاکہ ملک بھر کے عوام کو معاشی ، سماجی اور انتظامی مسائل سے چھٹکارا دلایا جاسکے۔ ٭

مزید :

کالم -