ترکی میں میلادالنبی کیسے منایا جاتا ہے؟

ترکی میں میلادالنبی کیسے منایا جاتا ہے؟
ترکی میں میلادالنبی کیسے منایا جاتا ہے؟

  

مَیں نے اپنے ترک دوست سے پوچھا کہ ترکی میں میلاد کیسے منایا جاتا ہے؟کیا وہاں بھی میلاد النبی کی عام تعطیل ہوتی ہے؟کیا وہاں بھی گلیوں، بازاروں اور عمارتوں پر چراغاں کیا جاتا ہے؟ کیا وہاں بھی جلسے جلوس نکلتے ہیں؟ اور کیا وہاں بھی موبائل سروس بند اور سیکیورٹی کا مسئلہ ہوتا ہے؟کیا وہاں بھی لوگ اپنے گھروں، دفتروں،گاڑیوں،موٹرسائیکلوں،سائیکلوں کو سجاتے ہیں؟؟ کیا وہاں بھی گلیوں اور بازاروں کو سجانے اور نیاز پکانے کے لئے بچے بوڑھے نوجوان عام راہ چلتے لوگوں سے چندہ مانگتے ہیں؟ اور یہ کہ وہ بھی گلیاں، بازار بند کردیتے ہیں۔کیا ترکی میں بھی یہ تہوار ایک فیسٹیول کی طرح منایا جاتا ہے؟کیا ترکی میں بھی بازاروں میں محفل نعت سجتی ہیں اور لوگ نعت خوانوں پر پیسے نچھاور کرتے ہیں،وغیرہ وغیرہ۔میرے یہ سوالات سن کر اس نے مجھے استنبول ترکی میں موجود میزبان رسول حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مزار سے متصل جامع مسجد میں منعقد ہونے والے گزشتہ روز کے میلاد پروگرام کی ویڈیو دکھائی ، پھر یوں گویا ہوا: دیگر اسلامی ممالک کی طرح ترکی میں بھی میلادالنبی بڑے مذہبی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔عام تعطیل بالکل نہیں ہوتی کہ اس سے ملین ڈالرز کا قومی نقصان ہوتا ہے اور انفرادی، اجتماعی اور قومی و بین الاقوامی سطح پر معاشی نقصان کے ساتھ ساتھ کاہلی، سستی اور سونے میں یا ٹی وی اخبارات وغیرہ بے فائدہ وقت ضائع ہوجاتا ہے۔ترک لوگ عموماً میلادالنبی کی رات کو عشاءکی نماز مسجدوں میں پڑھتے ہیں۔اجتماعی دعا ہوتی ہے۔وعظ و بیان ہوتا ہے، جس میں حضور اکرمﷺ کے فضائل و مناقب بیان کئے جاتے ہیں۔تسبیح نماز ہوتی ہے۔قرآن مجید کی تلاوت اور نوافل ادا کئے جاتے ہیں۔یہ عمل رات تقریباً 1بجے تک مسجدوں میں جاری رہتا ہے۔پھر لوگ گھروں میں چلے جاتے ہیں۔کچھ مزید وقت عبادت میں گزارتے ہیں۔آپ کی ذات پر ربیع الاول کے مہینے میں درود و سلام بہت بھیجا جاتا ہے۔صبح کی نماز لوگ ضرور پڑھتے ہیں۔کچھ استراحت کے بعد پھر سب اپنے اپنے کاروبار، سکولوں اور دفتروں میں چلے جاتے ہیں۔ ترکی میں لوگ ربیع الاول کے مہینے میں آپ کی سیرة طیبہ پر بہت سی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں۔میلاد والے دن گلاب کے پھول تقسیم کئے جاتے ہیں۔ ترکی میں آپ کو گلاب کے پھول سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔سکولوں اور دفتروں میں گلاب تقسیم کئے جاتے ہیں۔اس دن خاص کھانا بناکر ہمسایوں، غرباءومساکین اور مستحق لوگوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ان کی مالی امداد کی جاتی ہے۔اجتماع صرف مساجد میں ہوتے ہیں، جس میں صرف قرآن پاک، درود وسلام اور آپ کے فضائل بیان کئے جاتے ہیں اور اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ ہم آپ کی تعلیمات پر حقیقی عمل کرکے ہی آپ کے صحیح پیروکار بن سکتے ہیں۔بازاروں، گلیوں، عمارتوں پر کوئی چراغاں نہیں ہوتا۔کوئی جلسے جلوس نہیں نکلتے، موبائل اور ٹیلی فون بند ہونے کا تو اب تک کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔لوگ گھروں ، بازاروں ، عمارتوں ،دفتروں اور گاڑیوں، موٹرسائیکلوں کو سجانے کی بجائے اپنے دلوں اور قلب و روح کو منور کرنے اور سجانے کی کوشش اور سامان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو ظاہری نہیں باطنی اور اندرونی تبدیلی چاہیے۔ ترکی میں یہ تہوار ایک فیسٹیول کی طرح نہیں منایا جاتا، بلکہ اس دن کی افادیت، تجدید عہد اور آپ کی سیرت طیبہ سے استفادہ کرکے اس کو عملی شکل کیسے دی جا سکتی ہے؟اور آپ کے اخلاق و اطوار اور عادات و سنتوں پر کیسے کماحقہ عمل کیا جا سکتا ہے؟اس کے لئے لوگ غوروخوض کرتے ہیں۔گلی محلے کبھی بند نہیں ہوتے، نہ حکومت اس کی اجازت دیتی ہے۔ لوگ عموماً 12ربیع الاول کو روزہ رکھتے ہیں۔آپ پر زیادہ سے زیادہ درود سلام بھیجتے ہیں۔قرآن کی خوش الحانی سے تلاوت کرتے ہیں۔نعت گو اور حفاظ و قرآءحضرات حکومت کے محکمہ مذہبی امور کی طرف سے شرکت کرتے اور مدعو کئے جاتے ہیں اور ان کو کوئی پیسہ یا معاوضہ ہرگز نہیں دیا جاتا ،نہ وہ قبول کرتے ہیں۔گلیوں اور بازاروں میں کوئی فلیکس یا بینر اور دیواروں پر نعرے نہیں ہوتے۔سکولوں، کالجوں ، یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میں سیرت طیبہ پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔اساتذہ آپ کی حیاتِ مبارکہ سے مثالیں پیش کرتے ہیں۔ختم القرآن کے لئے پارے پڑھے جاتے ہیں۔اخبارات ورسائل، ٹی وی آپ کے مناقب و فضائل اور سلام و درود، سیرت طیبہ پر روشنی ڈالتے ہیں۔سکولوں، کالجوں اور تعلیمی اداروں میں آپ کے بارے میں موجود کتب کے مطالعہ کے مقابلے ہوتے ہیں۔لوگ اپنے پیاروں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کے لئے جاتے ہیں۔میلاد یا اجتماع کے نام پر چندہ اکٹھا کرنا ترکی میں قانوناً جائز نہیں ہے اور قابلِ گرفت جرم ہے۔ ترکی میں میلاد النبی قطعاً ایک فیسٹیول کی طرح نہیں منایا جاتا ہے،بلکہ یہ تو آپ کی لائی ہوئی تعلیمات اور سیرتِ طیبہ و سنت نبوی،پر عمل کرنے کے لئے عہد تجدید کا دن ہے۔ ترکی میں لوگ ظاہری طور پر نہیں، بلکہ باطنی، قلبی، روحانی اور عملی طور پر اس دن یہ اعادہ کرتے ہیں کہ ہم کتنے خوش قسمت ہیں کہ ہم آپ کی امت میں سے ہیں اور آپ کی ذاتِ اقدس ہر لحاظ سے قابل تقلید ہے۔آپ کا اسوئہ حسنہ ہمارے لئے رہتی دنیا تک ایک بہترین مثال اور نمونہ ہے۔ہمیں عملی طور پر اسے اپنانے کی ضرورت ہے نہ کہ صرف ایک فیسٹیول یا تہوار کی طرح منانے کی ۔حضور پاک کو اس کی ضرورت بھی نہیں اور وہ اس سے خوش بھی نہیں ہوں گے۔مَیں خاموشی سے اس کی باتیں سن اور سوچ رہا تھا کہ ہم مسلمان کب حقیقت کا ادراک کریں گے۔دنیا کی بہت سی قومیں علم،سائنس، ٹیکنالوجی، سہولیات، معیارات، معیشت، اقتصادیات ،سیاسیات، میڈیا غرض ہر شعبے میں بہت پیش رفت کرچکی ہیں اور کررہی ہیں۔ ایک ہم ہیں کہ قرآن، سنت نبوی، آپ کی سیرت طیبہ اور آپ کی ذات اقدس اور امتی ہونے اور آپ کی تعلیمات اور روشنی کے باوجود کتنے دور نکلتے جارہے ہیں۔آپ ہمارے راہبر و رہنما ہیں،لیکن ہم نجانے کن بھول بھلیوں میں پڑ چکے ہیں۔حقیقت سے دور ہوتے جارہے ہیں اور اپنی تباہی و بربادی، پستی اور کمزوری و تنزلی کا سامان خود کررہے ہیں۔اللہ ہمیں عقل دے۔ ٭

مزید : کالم