فلڈ کیس عمل درآمد کی رپورٹ طلب ، سیلاب آئے تو ایک دوسرے کامنہ دیکھتے ہیں ،جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے: سپریم کورٹ

فلڈ کیس عمل درآمد کی رپورٹ طلب ، سیلاب آئے تو ایک دوسرے کامنہ دیکھتے ہیں ،جان ...
فلڈ کیس عمل درآمد کی رپورٹ طلب ، سیلاب آئے تو ایک دوسرے کامنہ دیکھتے ہیں ،جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے: سپریم کورٹ

  

اسلام آباد ( ما نیٹرنگ ڈیسک )سپریم کورٹ نے فلڈ کمیشن کی رپورٹ پبلک نہ کرنے اور فلڈ کیس پر عمل درآمد سے متعلق رپورٹ طلب کرلی اور عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ جب سیلاب آتاہے تو سب ایک دوسرے کامنہ دیکھتے ہیں ، سیلاب سے اربوں روپے کا نقصان ہوالیکن فلڈ کمیشن کی رپورٹ جاری نہیں کی گئی ،ایسالگتاہے کہ ملک کو پھر ڈبوناہے ،جان ومال کے تحفظ کی ذمہ داری ریاست کی ہے ۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے فلڈ کمیشن کی رپورٹ پبلک نہ کرنے کیخلاف مارو ی میمن کی توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی ۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیاکہ سیلاب کا اربوںکا نقصان ہوتاہے ، فلڈ کمیشن کی رپورٹ جاری کیوں نہیں کی گئی؟رپورٹ نہیں کرناچاہتے توکمیشن کیوں بناتے ہو؟ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ رپورٹ پبلک کرنے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا،پنجاب حکومت کی ویب سائٹ پر رپورٹ جاری کردی گئی ہے۔ عدالت نے استفسار کیاکہ کیا تمام تجاوزات ہٹادیئے گئے ہیں ؟ ایڈیشنل سیکرٹری آبپاشی کاکہناتھاک ہ25فیصدتجاوزات ہٹادیئے گئے ہیں ۔ جسٹس گلزار نے کہاکہ بدین تک تمام واٹر چینل بلاک ہیں ، ابھی تک پچھلے سیلاب کا پانی نہیں نکلا ، سارے زمین دار اپنی زمینوں کو بچانے کے لیے بند توڑ دیتے ہیں اور گاﺅں کے گاﺅں ڈوب جاتے ہیں ،جعفر آباد میں آج بھی لوگ پانی میں گھرے ہوئے ہیں ۔عدالت کاکہناتھاکہ رپورٹ میں دی گئی سفارشات پر عمل درآمد ہوناچاہیے ،ایسے اقدامات کیے جائیں جس سے آئندہ نقصان کم ہو،کوئی اقدامات نہیں کیے گئے ، ایسے لگتاہے کہ ملک کو پھر ڈبوناہے۔دوران سماعت انگریزی میں بات کرنے پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے کہاکہ انگریزی نہ سنائیں ، اعدادوشمار سے سمجھائیں کہ کیااقدامات کیے گئے ؟ چیف جسٹس نے کہا کہ کچے کے علاقے میںحکومت نے خود تجاوزات کروائے ،عدالت نے فلڈ کیس کی عمل درآمد رپوٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر سٹیلائیٹ نظام کی مدد سے ہٹائے گئے تجاوزات دکھائیں اورکیس کی سماعت مزید سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی ۔

مزید :

ماحولیات -Headlines -