کووں اور چیلوں کے شہر کی اک کہانی

کووں اور چیلوں کے شہر کی اک کہانی
کووں اور چیلوں کے شہر کی اک کہانی

  

اس کہانی کا ایک کردار ثانیہ بھی تھی جس نے آٹھ سال پہلے لو میرج کی تھی، عزیر اس کا کلاس فیلو تھا مگر نجانے کیا ہوا کہ نہ اس کے گھروالے مانے اور نہ ہی عزیز کے ماں باپ کو وہ پسند آئی مگر اس کے باوجود انہوں نے شادی کرلی۔ شادی کامیاب رہی مگرثانیہ کو دو بڑی پریشانیوں کا سامنا رہا، ایک یہ کہ سسرال والے اسے قبول کرنے پر تیار نہیںتھے اور دوسرے یہ کہ شادی کے سات سال تک وہ اولاد سے محروم رہی، علاج بھی کروایا اورکئی نجومیوں سے بھی پوچھا ،اسے کہا گیا کہ وہ ساڑھ ستی کا شکار ہے، وقت کاٹنے کے لئے عمیر کے ساتھ ساتھ ثانیہ نے بھی جاب کر لی ، مسلم ٹاو¿ن کی ایک کوٹھی میں دو کمروں کا ایک چھوٹا سا پورشن کرائے پر لے لیا، اسے اپنا گھر بہت پسند تھا جہاں چھت پر جا کے اسے نہر بھی نظر آتی تھی ،اب علم نہیں کہ واقعی علم نجوم والے اپنے حساب کتاب میںسچے تھے یا اس کی قسمت میں یہی لکھا تھا کہ وہ کئی برسوںبعدپیاری سی بچی کی ماں بن گئی۔ ڈاکٹروںنے بتایا کہ بچی کو یرقان ہے مگراس میں پریشانی والی کوئی بات نہیں کہ اکثر بچوں کو پیدائش کے بعد یہ بیماری ہوجاتی ہے۔ اس کی ماں اس کے پاس پورا ہفتہ رہ کر گئی تھی، ماں کو فون پر بتایا تو نے مشورہ دیاکہ بچی کو جنوری کی نرم دھوپ میں لٹاو¿، یرقان غائب ہوجائے گا۔ فون بند کر کے وہ ایک ماہ کی بچی کو چھت پر لے آئی، اسے اچانک یاد آیا کہ فون پر بات کرنے سے پہلے اس نے دودھ چولہے پررکھا تھا، وہ بھاگی بھاگی واپس گئی تو وہ ابل چکا تھا، چولہے کے ساتھ کچن کا بڑا حصہ گندا ہو چکا تھا، اس سے فوری طورپر چولہا بند کیا، وائپر نکالا اور کچن صاف کرنے لگ گئی۔

اللہ دتہ کافی دنوں سے بے روزگاری کاٹ رہا تھا، جب سے لوڈشیڈنگ کی وجہ سے فیکٹری بند ہوئی کئی جگہ ٹکریں ماریں، اچھرے موڑ پر جا کر مزدوری ڈھونڈنے والوںمیں بھی جا کھڑا ہوا مگر نجانے اس کے دبلے پتلے وجودمیں لوگوں کو دلچسپی ہی محسوس نہیں ہوئی، اس کے ساتھ کھڑے ہوئے مزدوروں کو ٹھیکیدار چھانٹ چھانٹ کے لے جاتے رہے مگر اس کی طرف کسی نے آنکھ اٹھا کے بھی نہیں دیکھا۔فیقے قصائی سے جب اس نے چوتھی مرتبہ ادھار مانگا تاکہ گھر میں کھانا پک سکے تو وہ بھی تپ گیا، کہنے لگا کہ سارا دن گھر پر پڑا رہتا ہے کچھ کرتا کیوں نہیں، اللہ دتے کے تو آنسو ہی بہہ نکلے۔ فیقا قصائی فوراً ہی نرم پڑ گیا، بولا ، دتے تو صبح میرے پاس آ نا، میں تمہیں پھیپھڑے اور چھیچھڑے دوںگا، نہر پر چلے جانا وہاں موٹرسائیکلوں اور گاڑیوںپرگزرنے والے صدقے کا گوشت خریدتے، چیلوں کووں کو ڈال کے اپنی بلائیں دور کرتے ہیں، فیقے نے کہا کہ وہ اسے پچاس پیکٹ بنا کے دے گا اور ہر پیکٹ کے صرف پچیس روپے لے گا اور وہ یہ پیکٹ پچاس سے سو روپوں میں فروخت کر سکے گا۔ اس نے مشورہ دیا کہ دتہ اپنی بیوی اور دونوںبڑے بچوں کو بھی ساتھ ملا لے، سب دس دس شاپنگ بیگ لے کر کھڑ ے ہوجائیں، شام تک اچھی خاصی دیہاڑی لگ جائے گی اور پھر واقعی ایسا ہی ہوا، لوگ اپنے سر سے بلائیں اتارنے میں تاو¿لے ہو رہے تھے، چند ہی گھنٹوں میں اسے اڑھائی ہزار روپے جیب میں تھے، ساڑھے بارہ سو فیقے کو دئیے اور ساڑھے بارہ سو اس کا منافع تھا، وہ رات کو سوتے ہوئے سنجیدگی سے سوچنے لگا کہ اسے اپنا کاروبار ڈبل کرلینا چاہئے کہ اسے روزانہ ٹاو¿ن کے لوگوںاور پولیس والوں کو بھی دو چار سو لگانا پڑے گا تاکہ ایک تو وہ اسے تنگ نہ کریں اور دوسرے کسی دوسرے گروہ کو نہر پر صدقے کا گوشت بھی نہ بیچنے دیں۔

پروفیسر ناصریونیورسٹی آف ویٹرنری سائنسزمیں ہوتے ہیں، وہ ریسرچ کر رہے تھے کہ ان کا شہر لاہور خوبصورت اور روایتی پرندوں کی بجائے صرف کووں اور چیلوں کا شہر بن کے رہ گیا ہے۔ پرانے روایتی درخت کٹنے کے بعد نمائشی قسم کے درخت لگتے ہیں جہاں چڑیوں اور طوطوںجیسے خوبصورت پرندے گھونسلے نہیں بنا سکتے، اس کے ساتھ ساتھ شہر سے جگنو اورتتلیاں بھی رخصت ہوگئی ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ ماحولیاتی چکر کو برقرار رکھنے کے لئے کوے اور چیلیں بھی گدھ کی طرح ہی ضروری ہیں مگر ان کو تشویش تھی کہ لاہور میں کووں اور چیلوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے ، ان کی غیر معمولی تعداد نہرکنارے اورراوی کے پل پر محسوس کی جا رہی ہے، جہاں ان کے جھنڈ کے جھنڈ نظر آ رہے ہیں۔ انہوںنے وہاں جا کے دیکھا تو وہاں کووںاور چیلوں کے لئے خصوصی طور پر گوشت فروخت ہو رہا تھا اورلوگ اس صدقے کے ذریعے بلائیں اتارنے کے لئے روزانہ منوں کے حساب سے گوشت پھینک رہے تھے، انہوں نے سوچا کہ اگر اس امر پر ریسرچ کرنی چاہئے کہ اگر یہ پرندے اس گوشت کے عادی ہو گئے اوراس کے بعد یہ گوشت انہیںملنا بند ہو گیا تو ان کی خوراک کاذریعہ کیا ہو گا، یہ کہیں اور ہجرت کرجائیں گے ، اپنی خوراک تبدیل کریں گے یا گوشت کے حصول کے لئے کوئی اور طریقہ اختیار کریں گے، وہ تخیل پسند آدمی تھے، سوچنے لگے کہ ان بدصورت پرندوں نے اپنی پسندیدہ خوراک گوشت کے حصول کے لئے آبادی پر حملہ کردیا ہے، اس سوچ کے ساتھ ہی انہیں ہنسی آگئی کہ اس پلاٹ پر انگریزی فلم بن سکتی ہے۔

راجہ محبوب سٹی ایشوز کی کوریج کرنےو الا ایک سینئر صحافی ہے، وہ نہر سے گزرا تو اس نے دیکھا کہ وہاں چیل گوشت کی فروخت دوبارہ شروع ہوچکی ہے حالانکہ ایک ماہ پہلے ہی اس نے مسلسل خبریں شائع کروا کے مقامی انتظامیہ سے آپریشن کروایا اور اس فروخت کو رکوایا تھا۔ اس سے دفترپہنچتے ہی ڈی سی او نور الامین مینگل کو فون کیا، نور الامین مینگل ایک اچھے افسر تھے مگر وہ صبح صبح راجے کی کال دیکھ کر جھنجھلا گئے، ان کے سامنے دن بھر کی میٹنگوں کا طویل شیڈول پڑا تھا اور اوپر سے کال آئی تھی کہ حمزہ شہبا ز شریف میٹرو بس کے روٹ کا وزٹ کرنے جا رہے ہیں، انہیں وہاں بھی طلب کر لیا گیا تھا، ڈی سی او کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ مصروفیات کو کس طرح ری شیڈول کریں مگر راجے سے اچھا تعلق تھا، انہوں نے کال اٹینڈ کی، جلدی جلدی بات سنی اورکہا کہ وہ ابھی اس بارے ہدایات جاری کرتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ وہ طارق زمان کو کہتے کہ وہ چیل ، کوا گوشت بیچنے والوں کو روکے، حمزہ شہباز کی کال آ گئی ، انہوںنے سوچا ابھی فارغ ہو کے متعلقہ ٹی ایم او سے خود بات کرتے ہیں، انہیں ہنسی بھی آ گئی کہ یہ صحافی بھی خواہ مخواہ دانشور بنتے ہیں، شہر بھر میں سب کچھ ٹھیک کروانے کا گویا انہوںنے ٹھیکہ لیا ہوا ہے،ہمیشہ کی طرح رات گئے تک مصروفیت رہی اور وہ راجے کی کال پر چاہنے کے باوجود طارق زمان کو ہدایات جاری کرنا بھول گئے۔

نہر پر اللہ دتے کا کاروبار بہت کامیابی سے چل رہا تھا، اب تو وہاں سینکڑوںکی تعداد میں چیلیں اور کوے گوشت کے انتظار میں بیٹھے رہتے ، جس سے دکانداری اور بڑھ جاتی ، ایسے میں اللہ دتے کی ساس فیصل آباد میں مر گئی، اب وہ غریب آدمی نہیں تھا، پورا خاندان پانچ چھ گھنٹے کام کر کے کسی گزیٹیڈ افسر کے برابر ہی کما رہا تھا، اسے کاروبار سے چھٹی کرنا پڑی اور وہاں اسے ساتویں کے ختم تک تو رکنا ہی تھا مگربیوی نے کہہ دیا کہ وہ چالیسویں کروا کے ہی لاہور لوٹے گی، بچوں نے ظاہر ہے ماں کے ساتھ ہی رہنا تھا تو دتے نے سوچا کہ وہ بھی فیصل آباد ہی ٹھہر جاتاہے اس کے ذہن میں یہ خیال تک نہیں آیا کہ اب وہ نہر پر سینکڑوںپرندوں کو گوشت مہیا کرتا ہے، صدقے کے اس گوشت کی وجہ سے نجانے کہاں کہاں سے چیلیں ، کوے ہجرت کر کے وہاں کے مکین ہوچکے ہیں۔

ثانیہ باورچی خانہ اچھی طرح صاف کرتے ہوئے بچی کی بیماری بارے سوچتی رہی، اسے اس کے رونے کی ہلکی سی آواز بھی آئی تھی مگر پھر ایسے لگا جیسے وہ سو گئی ہو ، وہ کچن صاف کرکے واپس چھت پر گئی تو اس کے سامنے ایک دل دہلا دینے والا منظر تھا، چیلوں اور کووں کا ایک بھوکا گروہ اس کی بچی کو نوچ رہا تھا، وہ ڈر ی تو ضرور مگر ساتھ ہی بچی کو بچانے کے لئے وحشیانہ انداز میں چیلوں ، کووں پر حملہ آور ہوئی۔ اس وقت تک ان میں کچھ پرندے اپنا اپنی چونچیں بچی کے نرم و نازک گوشت سے بھر چکے تھے۔ یہ ایک عبرت ناک منظر تھا، ثانیہ نے خوفناک انداز میں چیخنا شروع کر دیا اور پھر سب کو پتا چل گیا۔ ٹی وی چینلوں کے لئے یہ ایک بریکنگ نیوز تھی، کئی اینکرز نے روزانہ سیاستدانوں کی لڑائی کا شو روک کے اسے زیادہ چٹ پٹا موضوع جانا۔ ایک دو اخبارات نے تو لوکل ایڈیشن میں اس خبر کو اپنی سپر لیڈ بنا لیا، اس کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کی طرف سے صدقے کا گوشت بیچنے والوں کے خلاف کارروائی کا اعلان بھی خبروں کا حصہ تھا ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی کووں اور چیلوں کے شہر کی ایک کہانی ختم ہو گئی۔

مزید :

کالم -