پروفیسر ڈاکٹر محمد نظام الدین کا خاموش انقلاب

پروفیسر ڈاکٹر محمد نظام الدین کا خاموش انقلاب
پروفیسر ڈاکٹر محمد نظام الدین کا خاموش انقلاب

  


ضلع گجرات کی تہذیبی و ثقافتی تاریخ میں یونیورسٹی آف گجرات کا قیام ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس علاقے میں علم و دانش سے عشق کی روایت تو صدیوں سے مسلمہ حیثیت کی حامل رہی ہے، اسی باعث سرسید احمد خان نے گجرات کو خطہءیونان قرار دیا تھا۔البتہ اس روایت کے استحکام اور ترقی کے لئے ادارہ سازی کا عمل مفقود تھا۔اس کا مقامی سیاسی اور دانشور حلقوں میں شدید احساس تھا، لیکن اس خواب کو تعبیر آشنا کرنے کے لئے ایک مقامی سیاسی خانوادے نے کمر ہمت باندھ لی۔نیت راست، ارادہ مضبوط اور سمت واضح تھی، اس لئے منصوبے کو پروان چڑھتے دیر نہ لگی۔25 فروری 2004ءکو یونیورسٹی کی بنیاد رکھ دی گئی۔ڈاکٹر امتیاز احمد چیمہ کی بطور وائس چانسلر اور سید خضر مہدی کی بطور رجسٹرار تعیناتی سے انتظامی ڈھانچے کے خدوخال واضح ہونے لگے۔ستمبر2006ءمیں پروفیسر ڈاکٹر محمد نظام الدین کے بطور وائس چانسلر تقرر سے یونیورسٹی کی تعمیر و ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔

جناب نظام الدین حیدرآباد دکن کے ایک معزز خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔انہوں نے یونیورسٹی کی وساطت سے گجرات میں ایک زبردست تعلیمی اور ثقافتی انقلاب لانے کے لئے اتنی انتھک اورپُرخلوص جدوجہد کی ہے کہ وہ شاید کسی مقامی فرزند زمین سے بھی ممکن نہ ہوتی۔اتفاق سے مجھے یونیورسٹی کے تین ایسے بڑے پروگراموں میں شرکت کا موقع ملا، جن کی ترتیب، تنظیم اور پیشکش نے راقم الحروف کو ڈاکٹر صاحب کی انتظامی اور اکیڈیمک صلاحیتوں کا معترف بنا دیا۔ان میں سے ایک ”1857ء.... ایک نئی تفہیم“ ،دوسرا ”میڈیا اور انتخابات“ اور تیسرا ”تاریخ کے آئینے میں گجرات کا تہذیبی و ثقافتی سفر“ تھا۔پہلے اور تیسرے پروگرام میں مجھے بھی اظہار خیال کی دعوت دی گئی تھی اور دوسرے میں میری جناب مجیب الرحمن شامی کی معیت میں شرکت ممکن ہوئی۔باقی پروگراموں میں بھی شمولیت کے لئے مجھے دعوت ملتی رہی، لیکن مَیںنجی مصروفیات کے باعث شرکت کی سعادت سے محروم رہا۔البتہ لاہور رہ کر بھی گجرات یونیورسٹی کی سرگرمیوں سے میری دلچسپی برابر قائم رہی ہے۔

ڈاکٹر نظام الدین صاحب نے 1964ءمیں کراچی یونیورسٹی سے سوشل ورک، سوشیالوجی اور سیاسیات کے ساتھ بی اے آنرز میرٹ سکالرشپ کے ساتھ پاس کیا۔1965ءمیں ایم اے سوشل ورک/سوشیالوجی کی ڈگری حاصل کی۔ 1979ءمیں امریکہ سے سوشیالوجی میں پی ایچ ڈی سے مضتخر ہوئے ۔1979ءسے 1981ءتک یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا کے شعبے حیاتیاتی شماریات سے منسلک رہے۔اس دوران صومالیہ اور سوڈان کی حکومتوں کے پاپولیشن امور کے حوالے سے ٹیکنیکل ایڈوائزر بھی مقرر ہوئے۔ 1983ءتک سوڈان میں رہے۔اس کے بعد 5سال تک ایتھوپیا میں کنٹری ڈائریکٹر کے طورپر کام کیا۔1996ءسے 2000ءتک اقوام متحدہ کے نیویارک آفس میں ایشیاءاینڈ پیسفک ڈویژن کے ڈائریکٹر رہے۔کولمبیا یونیورسٹی کے شعبہ سوشومیڈیکل سائنسز میں بطور کلینکل پروفیسر فرائض انجام دیئے۔2005ءمیں شعبہ سوشیالوجی پنجاب یونیورسٹی سے وابستہ ہوئے اور ستمبر2006ءمیں انہیں گجرات یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنا دیا گیا۔ان کی ریسرچ پبلی کیشنز کی طویل فہرست ہے جو انٹرنیٹ پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔نئے سے نئے آفاق کی دریافت کا ذوق انہیں آج بھی بے چین رکھتا ہے۔گجرات یونیورسٹی سے وابستگی کے بعد ان کی خوش انتظامی کی صلاحیتیں اور بھی بروئے کار آئیں۔آیئے اب مَیں آپ کو ان موضوعات کا تعارف کرواﺅں، جن پر پچھلے سالوں میں ان گنت کانفرنسوں، ورکشاپس اور سیمی نارز کا انعقاد ہوا۔ یہ سرگرمیاں ایک خاموش انقلاب کی مظہر ہیں۔

ضرور پڑھیں: ایک اورکاوش!!!

”تاریخ نویسی کو درپیش چیلنجز“ سیرة النبی کانفرنس (2007ئ) ۔ 1857-Revisited، شماریاتی سائنسز، احیائے تصوف،ہمہ گیر تحریک برائے امن و ترقی، پلازمہ فزکس میں تحقیقی طریقہ ہائے کار، بہ اشتراک ایچ ای سی دوروزہ ورکشاپس کے موضوعات بھی قابل غور ہیں:

سائنس و ٹیکنالوجی میں تحقیقی تکنیک، عصری شماریات میں تحقیقی عناصر۔کلاسیکی موسیقی کے حوالے سے 2ہفتوں کی ورکشاپ (2008ئ) انڈسٹری اکیڈمیالنک ایجز(2009ئ) کوالٹی ایشورنس (2010ئ)

سیمی نارز،پاکستانی معاشرے میں خواتین کا مقام، پاکستان کو درپیش چیلنجز(2007ئ)، بزرگ شہریوں کے مسائل، پاکستان کو درپیش عصری مسائل، قرارداد پاکستان ،بزم تصوف، خواتین اور روزگار، بنچ مارکنگ، خوشیاں ہمارے آس پاس، عمرانی علوم کے تحقیقی مسائل، عالمی ماحولیات کا عالمی دن، فرام کوارکس ٹوہیومن، پاک و ہند پانی کا تنازعہ ،اعلیٰ تعلیم میں معیار کی ضمانت، خواتین پر تشدد، میڈیا کی آزادی (2008ئ) قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کا کردار، قومی یکجہتی میں ادیبوں کا کردار، تحقیق، اخلاقیات اور طبی علوم، سوالات کی تشکیل کی سائنس، سقوط مشرقی پاکستان (2009ئ) اوتھ ایکشنز فار ڈیموکریسی اینڈ پیس بلڈنگ ان کیمپسز، کیا پاکستانی جامعات غیر متعلقہ افرادی قوت کو جنم دے رہی ہیں؟“(2010ئ)

مختلف شعبہ جات میں گریجوایشن سے لے کر ڈاکٹریٹ تک جو ریسرچ ورک ہوا اُس کی اپنی ایک اہمیت ہے،اس کے علاوہ بے شمار خصوصی لیکچرز بھی ہوئے۔ڈاکٹر نظام الدین کی نگرانی میں جن شعبوں کا قیام عمل میں آیا، وہ ان کا ایک الگ کارنامہ ہے۔مثلاً مرکز برائے پاپولیشن، اربن و ماحولیاتی سائنسز، مرکز برائے السنہ و علوم ترجمہ، مرکز برائے تاریخ، بین الاقوامی تعلقات و مطالعہ پاکستان ، مرکز تخلیق برائے ایمرجنگ و ایپلائیڈ ٹیکنالوجیز اور ORIC اور انسٹی ٹیوٹ آف ہوٹل و ریستوران مینجنمٹ اور کونسلنگ و گائیڈنس سنٹر اور ارفع کریم پروفیشنل سکل ڈویلپمنٹ سنٹر۔یہ تمام مراکز انسانی وسائل کی بنیاد پر مہارتی علوم کی ترویج میں بہترین کردار ادا کررہے ہیں۔

ڈاکٹر نظام الدین کی جدوجہد کا یہ اجمالی جائزہ مَیں نے اس لئے پیش کیا ہے،تاکہ قارئین کو اندازہ ہو کہ ایک تو جب کسی منصب کے لئے موزوں ترین آدمی کا انتخاب عمل میں آتا ہے تو اداروں کے اعتبار اور وقار میں کتنا اضافہ ہوجاتا ہے۔دوسرے یہ کہ جو لوگ اپنی ذہانت ، دیانت اور لیاقت سے ملک و قوم کا نام روشن کرتے ہیں، ان کی خدمات کا اعتراف ان کی زندگی میں بھی ہونا چاہیے۔ ڈاکٹرصاحب کے پاس جو وژن ہے، تجربہ اور ایکسپریشن ہے اس سے قومی سطح پر تعلیم کی تشکیل نو کرنے کے لئے فائدہ اٹھانا چاہئے، کیونکہ اب یہ حقیقت ہر جانب محسوس کی جارہی ہے کہ ہمارے وطنِ عزیز میں صحت مند انقلاب صرف ہائر ایجوکیشن کی سطح ہی پر آسکتا ہے،محض نعرے اور جذباتی تقریروں سے ہمارا مقدر بدل نہیں سکتا۔

مزید : کالم


loading...