اولڈ اِز گولڈ

اولڈ اِز گولڈ
اولڈ اِز گولڈ

  


دلہن کے گھروالوں نے لڑکے کی بارات پر شرط رکھی کہ تمام بارات میں کوئی بوڑھا شخص نہ ہو۔اس شرط کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام بارات میں نوجوانوں کو شرکت کی دعوت دی گئی۔جب بارات دلہن والوں کے گھر روانہ ہونے لگی تو ایک بوڑھے شخص نے کہا کہ بیٹا مجھے بھی ساتھ لے چلو،تمہاری رہنمائی کروں گا، مگر نوجوانوں نے جواب دیا، دلہن والوں کا اصرار ہے کہ بارات میں کوئی بزرگ نہیں ہونا چاہیے۔بوڑھے آدمی نے کہا بیٹا مجھے کسی چیز میں چھپا کر لے چلو، تاکہ مَیں اپنے تجربے کی بناءپر آپ کی رہنمائی کرتا رہوں۔آخر کار بوڑھے کے اصرار پر ایک صندوق میں چھپا کر بوڑھے آدمی کو بارات کے ساتھ لے گئے۔بارات دلہن کے گھر پہنچی تو کھانے کا وقت آیا دلہن کے گھر والوں نے اعلان کیا کہ ہرباراتی کے لئے ایک بکرا ہے اور اس نے اکیلے ہی کھانا ہے۔یہ ناممکن بات تھی، لہذا ایک نوجوان بوڑھے کے پاس گیا، جسے وہ چھپا کر لائے تھے۔بزرگ سے کہا کہ ہر باراتی نے ایک اپنا سالم بکرا کھانا ہے اور بارات میں سو باراتی ہیں تو سو ہی بکرے ہیں۔بزرگ نے جواب دیا کہ آپ دلہن والوں سے کہیں کہ ہمیں شرط منظور ہے۔آپ ایک وقت میں ایک بکرا لائیں گے، اس کے بعد دوسرا ،شرط منظور ہو گئی۔دلہن والے ایک ایک کرکے بکرا لاتے ،سو باراتیوں میں ایک ایک بوٹی آتی اور اسی طرح سو باراتی سو بکرے کھا گئے۔

پچھلے دنوں ایک مقامی کالج میں CTIکی بھرتی کا عمل جاری تھا۔اس میں نوجوان جن کے پاس فرسٹ کلاس ڈگریاں ہیں، انٹرویو کے لئے آئے ایک بزرگ بھی آئے، جنہوں نے تقریباً 30سال تک پڑھایا تھا، مگر وہ فرسٹ کلاس نہیں تھے، ان کو مسترد کردیا گیا۔ انٹرویو کے پینل میں شامل ایک پروفیسر صاحب نے فرمایا کہ ایک ملک میں ایک بہت ہی خوبصورت پارک بنا ہوا تھا، اس میں رنگ رنگ کے پودے اور درخت تھے، جن کا نظارہ دیدنی تھا۔ایک انگریز آیا، اس نے اس پارک کو دیکھا بہت تعریف کی اور پوچھا کہ یہ پارک کس مالی نے بنایا ہے، مالی کو طلب کیا گیا اور پارک کی تعریف کی اورمالی سے پوچھا کہ اس پارک پر کتنا روپیہ خرچ ہوا ہے۔مالی نے جواب دیا کہ پچاس ہزار ڈالر انگریز نے کہا کہ مَیں بھی ایسا ہی پارک بنوانا چاہتا ہوں تو مالی نے جواب دیا کہ جناب اس پارک کے بننے کے لئے 50ہزار ڈالروں کے ساتھ ساتھ 50سال بھی درکار ہیں۔

درج بالا سطور لکھنے اور تمہید باندھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر ملک کے لئے تعلیم اور صحت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔پڑھا لکھا اور صحت مند معاشرہ ہی ایک مضبوط ملک کی بنیاد ہوتا ہے ۔ہم نے یونیورسٹیوں کا جال تو بچھا دیا ہے، مگر ان میں تعلیم دینے کے لئے ہمیں قابل فخر نام نظر نہیں آتے۔چند ایک نام ہیں، مختلف یونیورسٹیوں میں جاتے ہیں اور ایک ہی استاد کئی کئی یونیورسٹیوں میں جا کر پڑھاتا ہے۔اس سے وہ نہ تو وہ اپنے آپ سے انصاف کر پاتا ہے اور نہ ہی اپنے طالب علموں کے ساتھ ۔

صحت کے شعبے کا حال بھی اسی طرح کا ہے۔ مخصوص ڈاکٹر صاحبان جو اپنے اپنے شعبے میں کمال مہارت رکھتے ہیں، مختلف میڈیکل کالجوں میں پڑھاتے ہیں نئے لوگوں کو موقع نہیں دیا جا رہا۔چند چہرے ہیں جو تمام اداروں میں ”ٹیڈی شفٹوں“ میں کام کررہے ہیں۔اگر میڈیکل کے شعبے سے وابستہ رہنے والے پرانے لوگوں کو بھی میدیکل کالجوں میں پڑھانے کا موقع دیا جائے تو یوں نئے لوگ ان کے تجربے سے بہت کچھ سیکھ سکیں گے۔یہ ملک ترقی کرے اور یہ ملک ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ملک بن جائے۔

میری تجویز ہے کہ ایجوکیشن کے اداروں میں سینئر اساتذہ کرام جب ساٹھ سال کی عمر میں پہنچ جائیں تو ان کی اسامی خالی قرار دے کر نئی بھرتی کرلی جائے، مگر عملاً انہیں ادارے میں کچھ مراعات دے کر رکھا جائے، تاکہ ان کے تجربات سے نئے آنے والے لوگ استفادہ کرسکیں۔ ویسے بھی جب 60سال کی عمر میں کوئی استاد یا ڈاکٹر ریٹائر ہوتا ہے تو وہ بہت سی خانگی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو چکا ہوتا ہے۔ان کے پاس وقت کی بھی فراوانی ہوتی ہے اور وہ پہلے سے زیادہ وقت کالج یا ہسپتال کو دے سکتے ہیں۔آئے روز ہسپتالوں میں پروفیسر، ڈاکٹر،رجسٹرار کی اسامیوں کے اشتہارات اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں، جن کے تقرر کا پروسیجر کافی لمبا ہوتا ہے اور بہت سا وقت ضائع ہو جاتا ہے، لہٰذا اگر پرانے لوگ وہاں پر موجود ہوں گے تو پڑھائی یا ہسپتال میں مریضوں کا علاج تیز تر اور بہتر ہو جائے گا۔

یہ ایک تجویز ہے ،جس پر غور ہو سکتا ہے۔یہی پرانے لوگ نئے آنے والے نوجوان استادوں اور ڈاکٹر صاحبان کی رہنمائی بھی کر سکتے ہیں اور اپنے تجربات نئی نسل کو منتقل کرسکتے ہیں۔اس طرح سے اساتذہ کرام اور ڈاکٹر صاحبان کی کمی بھی واقع نہیں ہوگی اور خلا بھی آہستہ آہستہ پُر ہو سکے گا۔شاید اسی لئے کہتے ہیں کہ ”اولڈ از گولڈ“ اور ہمارے اردو کی بھی ایک کہاوت ہے کہ ”نیا نو دن پرانا سو دن“۔

مزید : کالم


loading...