دی ٹرسٹ سکول کا برین آف لاہور

دی ٹرسٹ سکول کا برین آف لاہور
دی ٹرسٹ سکول کا برین آف لاہور

  


انگریزی زبان کے مشہور ادیب برنارڈشا نے وزیراعظم چرچل سے کہا:” آج سے میرا ایک نیا ڈراما اسٹیج پر پیش کیا جارہاہے ،اگر آپ کے پاس وقت ہو تو کل ضرور دیکھنے آیئے گا اور ہاں اگر آپ کا کوئی دوست ہوتو اسے آپ اپنے ہمراہ لاسکتے ہیں ۔“چرچل نے جواب دیا:” اگر آپ کا یہ اسٹیج ڈراما اگلے دن تک چلتا رہا تو میں ضرور اپنے کسی دوست کے ساتھ دیکھنے آﺅں گا۔“

کچھ ایسی ہی بات مجھے دی ٹرسٹ سکول فیم، جناب طاہر یوسف نے کہی۔ بولے:”ناصر صاحب کل دی ٹرسٹ سکول عامر ٹاﺅن ہربنس پورے کے آڈیٹوریم میں ”برین آف لاہور“ کی تقریب ہے،اگر آپ کے پاس وقت ہو ضرور تشریف لائیے گا اور ہاں اگر آپ کا کوئی دوست ہو تو اسے بھی آپ اپنے ہمراہ لاسکتے ہیں۔“

دی ٹرسٹ سکول کا شو پچھلے پندہ برسوں سے کامیابی اور تسلسل کے ساتھ دکھایا جارہا ہے اس لئے میں طاہر یوسف صاحب کی بات کے جواب میں یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ اگر آپ کے ڈرامے کا شو اگلے دن تک ہوتا رہا تو ضرور آﺅں گا۔ان کی دعوت ،مجھے بہرحال قبول کرنا ہی ہوتی ہے۔اس کی کئی وجوہ ہیں،پہلی یہ کہ دی ٹرسٹ سکول،لاہور کے غریب ، لیکن ذہین بچوں کے لئے بنایا گیا ہے جہاں بہت معمولی فیس کے عوض بچوں کو سائنس کی معیاری تعلیم دی جاتی ہے ،بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد یہاں ایسی بھی ہے جس سے کوئی فیس وصول نہیں کی جاتی۔ شائد اس کے لئے اُنہیں پنجاب ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کے علاوہ بہت سے مخیر خواتین وحضرات کا تعاون حاصل ہے،ان کی دعوت قبول کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ ہر سال بہت سے لکھنے والوں کو اپنا یہ مستقل کارنامہ دکھانے کے لئے مدعو کرتے ہیں، چنانچہ میری ان سب سے ایک ہی جگہ پر ملاقات ہوجاتی ہے۔اس دفعہ یہاں میری ملاقات پروفیسر ڈاکٹر شفیق جالندھری صاحب سے ہوئی۔ماہنامہ ارض و سما والے رفیق شہزاد سے بھی سلام دعا ہوگئی۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ ”برین آف لاہور“ کے مقابلے میں لاہور ڈویژن کے ان سکولوں کے طلباءوطالبات شریک ہوتے ہیں جن کی فیسیں بہت معمولی ہیں ،گویا طاہر صاحب، اس مقابلے کے ذریعے گدڑی کے لعل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں ان کے تلاش کئے ہوئے گدڑی کے لعل دیکھنے کے لئے آپ ہی آپ دی ٹرسٹ سکول کی طرف روانہ ہوجاتا ہوں۔

ان کی دعوت قبول کرنے کی چوتھی وجہ یہ ہے کہ مجھے طاہر یوسف کی آواز سرسید احمد خان کی آواز محسوس ہوتی ہے۔ان سے فون پر بات کرتے ہوئے میں سوچ رہا ہوتا ہوں کہ اگر آج سر سید احمد خان زندہ ہوتے تو ان کی آواز بھی ایسی ہوتی، کبھی کبھی تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طاہر یوسف کے اندر، سر سید کی روح ،حلول کر چکی ہے، وہی عزم،وہی خواب، وہی خیال، وہی مشقت،ویساہی خوب صورت بڑھاپا جس پر بہت سے جوان رشک کرسکتے ہیں۔ طاہر یوسف کو سر سید احمد خان سے سچا عشق ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ مولانا الطاف حسین حالی کی لکھی ہوئی ان کی سوانح عمری” حیات جاوید“ ہر وقت اپنے سرہانے رکھتے ہیں اور اگر دوستوں کو تحفتاً کوئی کتاب دینا ہو تو ”حیاتِ جاوید“ کے سوا انہیں کوئی کتاب دکھائی نہیں دیتی۔

 اس بار چونکہ انہوں نے مجھے اپنا کوئی دوست بھی ساتھ لانے کی اجازت دی تھی چنانچہ میں بچوں کے مقبول رسالے ”پھول“ کے ایڈیٹر اور یارِ دیرینہ شعیب مرزا صاحب کو ساتھ لے گیا۔ شعیب صاحب چونکہ پھولوں سے پیار کرتے ہیں اس لئے دی ٹرسٹ سکول کا نام سنتے ہی میرے ساتھ چل دئیے ۔ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ اب وہ ہر سال ”برین آف لاہور“ کی تقریب میں شرکت کریں گے۔اس کا مجھے یہ فائدہ ہوگا کہ اب طاہر یوسف صاحب آئندہ مجھے کبھی یہ نہیں کہیں گے کہ اگر آپ کا کوئی دوست ہے تو....“تھینک یو شعیب مرزا صاحب! آپ نے مجھے رسوا ہونے سے بچا لیا۔

 یہ ”برین آف لاہور“ ہے کیا؟ قارئین کو بتاتا چلوں کہ طاہر صاحب دی ٹرسٹ سکول کے زیرِ اہتمام ہر سال ذہنی آزمائش کے ایک مقابلے کا انعقاد کرتے ہیں ،جس میں میٹرک تک کے طلباءوطالبات سے سائنس کے تمام مضامین سے مختصر سوالات پوچھے جاتے ہیں ،ہر مضمون میں الگ الگ انعامات دئیے جاتے ہیں اور مجموعی طور پر سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے بچے کو ” برین آف لاہور“ کا اعزاز دیا جاتا ہے۔یہ اعزاز ہر سال کوئی بڑی حکومتی شخصیت جیتنے والے بچے کو اپنے ہاتھ سے عطا کرتی ہے،پندرہ ہزار روپے کی ”خطیر “ رقم بھی بچے کو دی جاتی ہے۔ دی ٹرسٹ سکول کی طرف سے یہ رقم کروڑوں سے بڑھ کر ہے ،لیکن فروغِ تعلیم کے دعوے کرنے والی بڑی بڑی حکومتی شخصیات کو کبھی توفیق نہیں ہوئی کہ ”برین آف لاہور“ کا اعزاز پانے والے بچے کو کبھی اپنی طرف سے بھی چالیس ،پچاس ہزار روپے عطا فرما دیں۔مجھے یاد ہے کہ پچھلے سال تعلیم کے صوبائی وزیر جناب مجتبیٰ شجاع الرحمن مہمانِ خصوصی تھے انہوں نے اپنی جیب خاص سے دی ٹرسٹ سکول کی انتظامیہ کو مبلغ دس ہزار روپے کا عطیہ عنائت فرمایاتھا۔ اس برس وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات جناب احسن اقبال اعزازی نشست پر براجمان تھے ،لیکن ان کے پاس سوائے باتوں کے کچھ نہ تھا۔ نہ ”برین آف لاہور“ کا اعزاز پانے والے کے لئے ،نہ سکول کے لئے۔انہوں نے یہ کہہ کر ہم سب کی توجہ اپنی جانب ضرور مبذول کرالی کہ آج میڈیا کی بریکنگ نیوز”برین آف لاہور“ کی یہ تقریب ہونی چاہئے،لیکن اپنا ہاتھ اپنی جیب میں ڈالنے کی انہیں توفیق نہ ہوسکی، میرے ایک مزاح نگار دوست کی مرتب کردہ انسائیکلو پیڈیا کے مطابق سیاست دان وہ شخص ہے جس کا ہاتھ ہر وقت دوسروں کی جیب میں رہتا ہے ،اللہ جانے ہمارے پیارے احسن اقبال اس تعریف پر پورا اترتے ہیں یا نہیں؟

 طاہر یوسف کی بیگم صاحبہ نے ہر سال کی طرح اس سال بھی اعزازی مہمان سے مطالبہ کیا کہ نہر سے دی ٹرسٹ سکول تک کی آدھ کلومیٹر کی سڑک بنوانے کا حکم دے دیں ، لیکن انہیں شاید معلوم نہیں کہ ہمارے احسن اقبال صاحب اس طرح کے چھوٹے چھوٹے کام کرانے کے لئے وفاقی وزیر نہیں بنے۔ چودھری صاحب وہ سڑک بنانے کے لئے وفاقی وزیر بنے ہیں جو پاکستان کو بحفاظت 2025ءتک لے جائے گی، اگر وہ واقعی یہ سڑک بنوانا چاہتی ہیں تو کسی دن لاہور کے نوجوان،خوب رو اور مستعد ڈی سی او احمد جاوید قاضی صاحب کو چائے پر بلالیں وہ چائے کا کپ ختم ہونے سے پہلے پہلے یہ سڑک بنوادیں گے۔

 یہاں میں اپنے دوست خالد منہاس کا ذکر ضرور کروں گا جو ان دنوں دی ٹرسٹ سکول کے میڈیا مینجر ہیں، انہوں نے سارے میڈیا کو دعوت دے رکھی تھی ،کوئی ایسا چینل نہ تھا جس کا کیمرہ برین آف لاہور کو دیکھنے کے لئے وہاں موجود نہیں تھا، طاہر صاحب کی یہ دریافت خوب ہے،چلتے چلتے ایک واقعہ جو اس تقریب سے پہلے پیش آیا ،ایک صاحب میرے پاس آئے اور بولے:” سر! کیا آپ اس سکول کو عطیہ دینے والوں میں شامل ہیں“ ؟ جب میں نے ان سے اس سوال کی وجہ پوچھی تو بولے:” پرنسپل آفس میں بہت سے لوگوں کے ساتھ آپ کی تصویر بھی لگی ہوئی ہے۔“ ان صاحب کی معصومیت اپنی جگہ لیکن طاہر یوسف صاحب! اب ان تصویروں کے نیچے ان شخصیات کے نام اور وجہِ شہرت بھی لکھوا دیجئے تاکہ اگلے سال اس طرح کا سوال پوچھ کر کوئی مجھے شرمندہ کرنے کی جرا¿ت نہ کرے۔

آخر میں میری ایک غزل کے چند اشعار ملاحظہ کیجئے:

لُٹ جانے کا امکان ہے اس بار زیادہ

ہم کم ہیں، مگر قافلہ سالار زیادہ

....................

اس بار بھی وہ مالِ غنیمت سے ہیں محروم

جو لوگ رہے برسرِ پیکار زیادہ

....................

ضرور پڑھیں: ڈالر مہنگا ہو گیا

ممنوعہ علاقے میں کوئی آئے تو کیوں آئے؟

اونچی ہے در و بام سے دیوار زیادہ

....................

دھرتی کی محبت کو برآمد نہ کیا جائے

پیڑوں سے ثمر اترا ہے اس بار زیادہ

....................

ہم عام سے انسان ہیں، دِکھنے میں عجب ہیں

سر چھوٹا ہے اور حیطہءدستار زیادہ

....................

اس راہِ محبت میں توازن نہیں ناصر

ہے دھوپ زیادہ کہیں اشجار زیادہ

مزید : کالم


loading...