دہشت گردی،انسان،عمران اور پاکستان

دہشت گردی،انسان،عمران اور پاکستان
 دہشت گردی،انسان،عمران اور پاکستان

  


عمران خان کا طالبان نے محبت سے نام کیا لیا کہ سوشل میڈیا میں طرح طرح کی باتوں ،خبروں اور کمنٹس کا بھونچال آگیا۔ کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف کے سب چھوٹے بڑے فیس بک،ٹوئٹر اور دیگر ویب سائٹس پر پی ٹی آئی کی مسلسل تشہیر اور کمپین میں جُٹے رہتے ہیں جواباً مسلم لیگ (ن)کے متوالے اور پی پی پی کے چند جیالے ”واری وٹہ “کرتے دکھائی دیتے ہیں ،لیکن اب ان متوالوں اور جیالوں کا ہاتھ اونچا ہے،اب تو عمران خان کی طرح طرح کی تصویریں ہیں اور سوشل میڈیا ہے،کہیں عمران خان نے خود کش جیکٹ پہنی ہوئی ہے،کہیں گرنیڈ پکڑے ہوئے ہیں،کہیں میزائل پر بیٹھے ہیں اور کہیں طالبان کے جرگے سے خطاب کرتے دکھائے گئے ہیں۔

خیر! یہ تو جیالوں ،متوالوں اور پاکستان کے امن پسند حلقوں کا وہ ردعمل ہے جو وہ دہشت گردی کے خلاف کرتے رہتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمیں طالبان سے بات کرنی ہے،ہر صورت کرنی ہے،اپنے ملک کو بچانا ہے ،اس میں میاں نوازشریف اور عمران خان سمیت سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے،ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ مولانا سمیع الحق ،عمران خان یا مولانا عبدلعزیز کے طالبان کے ساتھ کیا اور کیسے مراسم ہیںاور طالبان کو ان شخصیات پر کیوں بھروسہ ہے؟ہمیں صرف پاکستان اور انسانیت سے غرض ہے۔امریکہ میںورلڈ ٹریڈ سنٹر گرے ،پاکستان کے کسی شہر میں بم دھماکہ یا خود کش حملہ ہو یا پھربھارتی شہر ممبئی میں دہشت گردی کے واقعات ہوں ، انسا نیت کا خون کہیں بھی بہے تو ہم سوچنے لگ جاتے ہیں کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کو قتل کر نے کے مترادف ہے، لیکن دہشت گردوں کو کون سمجھا ئے کہ انسانیت کیا ہے؟

انسانیت،جس کے لئے یہ کائنات سجا ئی گئی ،اس میں رنگ بھرے گئے،پھول کھلائے گئے ، سمندر، د ریا ، نہر یں،ندی نالے بہائے گئے ،زمین کے سینے پر خوبصورت پہاڑ اگائے گئے اور پہاڑوںکی کوکھ سے ٹھنڈے میٹھے چشمے پھوٹے، چھنچھنا تے جھر نے ،آبشاریں اور دل موہ لینے والی جھیلیں وجود میں آئیں ۔جی ہاں! ان سب خوبصورتیوں پر صرف ایک انسان بھاری ہے، کیونکہ ایک انسان کا قتل پوری کائنات کا قتل ہے ۔انسان!جس کے لئے جنگل اگائے گئے ،صحرا چمکائے گئے ، من موہنی وادیاں وجود میں آ ئیں ، شہر بسے ،دیہات آباد ہوئے ، سبزے کے قالین بچھے ،جڑی بوٹیوں میںقدرت نے ہر بیماری کا علاج رکھا، مگر بم دھماکے کرنے والوں کو اس ایک انسان کی قدر کہاں ؟ایک انسان کہ جس کے لئے ربِ کریم نے طرح طرح کے چوپائے پیدا کئے ، کسی کا ہم دودھ پیتے ہیں ،کسی پر سواری کرتے ہیں اور کسی کا گوشت کھاتے ہیں ،کسی کی کھال کا لباس پہنتے ہیں او ر کسی کے چمڑے سے جوتے بنواتے ہیں ۔جی ہاں ! یہ سب کچھ صرف اور صرف ایک انسان کے لئے ہی ہے ،وہی انسان کہ جس کا قتل پوری انسانیت اور کائنات کا قتل ہے ،مگر خود کش حملے کرنے والوں کے سامنے اس انسان کی ”ویلیو“ کیا ہے؟

وہ انسان کہ جسے میٹھے گیت سنانے کے لئے سریلی آوازوں والے من موہنے پرندے پید ا کئے گئے ،ہر ے ہرے طوطے ،نیلی پیلی اور سرخ چڑیاں ،کالی، مگر چمکدار کوئلیں ، مسکرا تے تلیئر،غٹر گوں ،غٹر گوں،کرکے ”اللہ ہو، اللہ ہو ‘ ‘ کہتے کبوتر ، امن کی صدائیں دیتی فاختائیںاور گلابوں کو چھوتے اٹھکیلیاں کرتے بلبل ،مگر سفاک قاتلوں کو اس انسان کی منزلت کا انداز ہ کہا ں؟ جس کا قتل پوری کائنات کا قتل ہے ۔ ایک انسان کہ جس کے لئے پھو ل پیدا ہوئے ،خوشبو بکھیرتے ،لہلاتے ،لہراتے ،دلوں کو مسخر کرتے ،جو محبت کا پیغام ہیں ، خوشی کی علامت ہیں ، روح کی تازگی کا سبب ہیں، لیکن موت کے سوداگروں کو پھولوں سے کیا لینا؟ خو شیو ں سے کیا واسطہ ،محبت سے کیا کام۔ایک انسان کہ جس کے لئے حشرات پیدا ہوئے، کسی کا کشید کیا شہد خالص شفا ءہے تو کسی کا بنا یاہوا ریشم مخملی لباس ہے، مگر ظالم بھیڑیوں کو ریشم اور شفاءسے کیا غرض ۔

رب بار با ر کہتا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری کائنات کا قتل ہے، جس کے لئے سمندروں میں اٹھی ہوئی لہریں ہیں ،سفر کے لئے کشتیاں ہیں ،پینے کے لئے آبِ حیات ہے ،کھانے کے لئے طرح طرح کے مہکتے کھانے ہیں ،وہی انسان کہ جس کے لئے رب نے زمین پر من و سلویٰ اتارا ، جس کے لئے انگور ،انار ،سیب ،غلاف والی کھجوریں ،بھس والا اناج ،کیلے کے گچھے اور بے کانٹوں کی بیریاں اس دنیا میں بھی پیدا کیں اور جنت میں بھی، مگر درندہ صفت اسلحہ برداروں کو رب کی ان خاص رحمتوں کا اندازہ کہاں ۔ایک انسان کہ جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے آسما ن پر تاروں کی محفل سجائی ،سورج اور چاند بنائے کہ زمین کو روشن رکھتے ہیں اور اپنے اپنے دائرے میں پیر رہے ہیں ،سورج کو اختیار نہیں کہ چاند کو پکڑ لے اور چاند میں طاقت نہیں کہ سورج کو چھو لے، مگران کو کیا معلوم کہ سورج ،چاند اور ستارے کیا ہیں ؟انہیں کون سمجھا ئے کہ رب نے ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل اس لئے قر ا ر دیا ہے کہ بتایا جائے کہ انسان کی قدر و منزلت کیا ہے ؟اس کے سامنے سمندر ،پہاڑ ،دریا ،صحرا، جھیلیں،پرندوں ،چوپاﺅں ، جنگلوں ،باغوں، پانیوں، جھرنوں ، چشموں ،کنوﺅں،آبشاروں ،درختوں ، سبزے، فصلوں ،پھلوں ،اور رب کی دیگررحمتوں کی کوئی حیثیت نہیں، سب سے پہلے انسان اور پھر یہ سارا جہان۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے چند برسوں سے ہماری پاک سرزمین سمیت دنیا کے بعض خطے د ہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔نام نہاد سپر پا و ر امریکہ کے اقدامات اور ہم جیسے غریب ممالک کی مجبوریوں نے دہشت گردی کو پنپنے کا موقع د یا ہے۔پاکستان کی حالتِ زار یہ ہے کہ یہاں سا بق حکمرانوں کے کرتوتوں نے جہاں ملکی سرحدوں کو کمزور کیا،مہنگائی کا شد ید طوفان مچایا ،بجلی ،پانی کا بحران پیداکیا، بیرو زگاری اور غر بت نے لوگوںکو خودکشیوں ، خود سوزیوں پر مجبور کیا، وہاں دہشت گردیوں کو بھی عروج ملا۔ یہ سچ ہے کہ آئے دن کے بم دھماکوں اور خود کش حملوں نے پاکستان میں انسانیت کو دہلا کر رکھ دیاہے ، بُری طرح خوف میں مبتلا کر رکھا ہے، قیمتی جانوں کا زیاں ہو رہا ہے،ایسے میں صلح ، مذاکرات اور خیر کی خبر کہیں سے بھی آئے، کسی بھی شخص کی طرف سے آئے، چاہے عمران خان ،سمیع الحق ،عرفان صدیقی یا کسی اور کی طرف سے ہمیں،قبول ہے،قبول ہے،قبول ہے۔

مزید : کالم


loading...