عمر اکمل کا قصور اور پولیس کا سلوک؟

عمر اکمل کا قصور اور پولیس کا سلوک؟

مقامی سول جج (اول درجہ مجسٹریٹ) نے قومی کرکٹر عمر اکمل کی ضمانت منظور کر لی اور ان کو ایک لاکھ روپے کا مچلکہ داخل کرانے کی ہدایت کی جو کرا دیا گیا۔ فاضل مجسٹریٹ نے بھی وکیل صفائی کے دلائل کے جواب میں ریمارکس دیئے کہ کوئی قومی ہیرو ہو یا عام آدمی قانون کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔

عمر اکمل ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی پر قابو آئے ان کے خلاف الزام یہ ہے کہ انہوں نے سگنل توڑا۔ ٹریفک وارڈن کے روکنے پر نہ رکے اور کاغذات مانگنے پر انکار کیا۔ بعد میں عمر اکمل کو تھانے میں بند کیا گیا۔ ان کے خلاف ٹریفک وارڈن سے جھگڑا کرنے اور وردی پھاڑنے کا الزام عائد کیا گیا۔ عمر اکمل نے اس سے انکار کیا اور کہا کہ خود ان پر تشدد کیا گیا۔ اس سلسلے میں غیر جانبدارانہ تحقیقات یا معاملے کو ایک حد تک رکھنے کی بجائے ٹریفک چیف اور گلبرگ پولیس کے سربراہ نے ان کے خلاف ایف آئی آر کاٹ دی اور وردی پھاڑنے کا معمول والا الزام لگا دیا، اس کے بعد عمر اکمل کو عدالتوں کے مقررہ وقت کے اندر عدالت میں بھی پیش نہ کیا گیا۔ ان کے بھائی اور والد کو ملاقات سے روک کر عادی مجرموں جیسا سلوک کیا گیا۔

عمر اکمل یقینا ایک قومی ہیرو ہے۔ اس سے اگر کوئی خلاف ورزی ہوئی تھی تو اس حد تک ہی سلوک ہونا چاہئے تھا جو زیادہ سے زیادہ چالان اور گاڑی قبضہ میں لینے کے انتہائی اقدام تک ہو سکتا تھا۔ لیکن نامعلوم وجوہ کی بناءپر ان کی تذلیل مناسب جانی گئی۔ اس سلسلے میں کرکٹ کے شائقین اور قومی کھلاڑیوں میں تشویش پائی گئی ہے۔ ان کے حق میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔پولیس کا مو¿قف بہرحال اس کے برعکس ہے، کیا اس پورے اسرار کا پس منظر سامنے لانے کے لئے غیر جانبدارانہ تحقیقات ہو سکتی ہے؟

مزید : اداریہ


loading...