لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

  


و ہ میر ا کولیگ ہے اوراس نے بحث یہاں سے شروع کی کہ مکہ میں غیر مسلموں کا داخلہ کیوں ممنوع ہے ۔۔۔ اصل میں ا س قسم کے بہت سار ے سوال اٹھانے والے بہت سارے ہیں جو سطحی، عقلی اور منطقی دلائل کو بنیاد بناتے ہیں اور اسلام ہی نہیں، ہر مذہب کی تکذیب کر تے ہیں ۔ اک وضاحت تو یہ ہے کہ وہ لوگوں کی نظر میں اہم بننا چاہتے ہیں مگر دوسری طرف یہ بھی عین ممکن ہے کہ ان کی عقل اور علم اس قابل ہی نہ ہو کہ اللہ جیسی ذات تک رہنمائی کر سکے۔ وہ خلوص دل سے سمجھتے ہوں کہ مذاہب تو صرف قصے کہانیاں ہیں۔ اس نے مجھے کہا کہ جب تم مذہب کو قبول کرتے ہو تو کیا یہ نہیں سمجھتے کہ تمہارے ساتھ بلف ہو گیا ہے، میں نے جواب دیا فرض کرو ہم ایک دوراہے پر کھڑے ہیں، اک طرف مذہب ہے اور دوسری طرف لادینیت ہے۔ میں دین کے رستے کو چن لیتا ہوں اور تم لادینیت کی راہ پر چل پڑتے ہو۔ پہلے میں تمہاری بات مان لیتا ہوں کہ میرے ساتھ بلف ہو گیا، خدا، نبی، جنت اور جہنم کچھ بھی وجود نہیں رکھتے، ہم دونوں اپنی اپنی زندگی گزارنے کے بعد موت کا شکار ہوجاتے ، مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتے ہیں۔ مجھے یہ بتاو¿ کہ اس میں میرا کیا نقصان رہا، کچھ بھی نہیں، لیکن اک لمحے کے لئے ذرا سوچو کہ تمہارے ساتھ بلف ہو گیا ہے ۔۔ ۔تمہیں اپنی قبر میں منکر نکیر کا سامنا کرنا ، پل صراط عبور کرنا اور پھر حساب دینا پڑ گیا ہے۔

وہ اک لمحے کے خاموش ہوا مگر پھر ہنس کے بولا۔ تمہاری ساٹھ سال کی عمر ہوتی ہے، پہلے تیس سال تم ڈٹ کے گناہ کرتے ہو اور اگلے تیس سال پریشانی اور ندامت میں سجدے کر ، کر کے گزار دیتے ہوجبکہ میں ساٹھ سال تک بغیر کسی خوف کے زندگی کو انجوائے کرتاہوں۔ ۔ اس کی بات ختم ہوئی تو مجھے ہنسی آ گئی، میں نے کہا کہ میں یقین رکھتا ہوں کہ تم خدا پر یقین نہ رکھنے کے باوجود دنیا میں انسانی حقوق ، امن اور بھلائی کے حامی ہو۔ اس نے فوراً اثبات میں سر ہلا دیا۔ میں نے اضافہ کیا کہ میں تو تیس، چالیس سال کی عمر کے بعد اللہ سے ڈرتے ہوئے ایک نیک شخص بن جاو¿ں گا جو ان تمام مقاصد کے لئے کام کرے گا مگر تم اپنے ہی بیان کر دہ مقاصد کے حصول سے دور رہو گے۔ مذہب وہ بہترین آلہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنے ذاتی کردار اورپھر پورے معاشرے کی بہتری کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ مذہب کو ماننے والے فرشتے نہیں ہوتے، بہت ساری برائیاں کرتے ہیں مگر یہ بات بھی مان لینی چاہئے کہ مذہب بہت ساری انفرادی اور معاشرتی برائیوں کی راہ میں رکاوٹ اور بھلائیوں کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔

سوال تو مکہ میں غیر مسلموں کے داخلے کے ممنوع ہونے کا تھا اور ایسے سوال صرف مذہب پر یقین میں دراڑیں ڈالنے کے لئے ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک طنزیہ او رمزاحیہ کالم لکھنے والے دوست نے خواہ مخواہ اس ایشو پر کالم تحریر کیا کہ جب شیطان کو اللہ تعالیٰ نے جنت سے نکال دیا تھا تو پھر وہ حضرت آدم اور اماں حوا کو بہکانے کے لئے جنت میں کیسے پہنچا۔ ایسے اعتراضات کرنے والوں کو میرا پہلا جواب تو یہ ہے کہ یہ اسلام کے ضابطے ہیں جنہیں آپ جمہوریت اور انسانی حقوق کی سائنس کے ذریعے جانچنے کی کوشش کر رہے ہیں، میرے دوستو فزکس اپنی جگہ پر ایک علم ہے اور الجبرا اپنی جگہ پر، ہم فزکس میں کسی کار کی ولاسٹی یعنی سپیڈ میں اضافے کی شرح کو تو معلوم کر سکتے ہیں لیکن یہی کام الجبرے کے فارمولے کے ذریعے نہیںکیا جا سکتا، حالانکہ دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ پر درست ہیں مگر ہمیں نتیجے تک پہنچنے کے لئے اصل فارمولہ لگانا ہو گا۔ آپ اسلام کو دنیاوی علم ، عقل اور منطق کی بنیاد پر جانچنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ فارمولہ اس وقت تو چل سکتا ہے جب تک آپ نے اسلام کی راہ پر چلنے کا فیصلہ کرنا ہولیکن جب آپ اسلام کی راہ پر چل نکلے، اس عمارت کے اندر داخل ہو گئے تو پھر آپ کو اس شاہراہ پر ماہرین کے مقرر کر دہ سائن بورڈوںا ور اس عمارت کے رہنے والوں کے اصولوں کو ماننا ہو گا۔ مکہ تو ان کا شہر ہے جو اطاعت کرتے ہیں، جو شراب پینے، زنا کرنے اور سور کا گوشت کھانے سے اجتناب کرتے ہیں۔ وہاں باغیوں اور گستاخوں کا کوئی کام نہیں ہے۔ سن آٹھ ہجری میں جب فتح کے بعد پورے مکہ پر مسلمانوں کا غلبہ ہو گیا تو اللہ سبحان وتعالیٰ نے یہ سورة توبہ کی آیت اٹھائیس نازل فرمائی ” اے ایمان والو، مشرک بالکل ہی ناپاک ہیں، وہ اس سال کے بعد مسجد الحرام کے پاس بھی نہ پھٹکنے پائیں، اگر تمہیں مفلسی کا خوف ہوتو اللہ تمہیں دولت مند کر دے گا اپنے فضل سے اگر چاہے، اللہ علم و حکمت والا ہے“۔ مذہب تو محبت اور اطاعت کا دوسرا نام ہے۔۔۔ ایمان او رمحبت جیسی قیمتی چیزیں عقل اور منطق کے تابع نہیں ہوتیں، یہ تو وحی کی طرح قلوب پر القا ہوتی ہیں اور پھر سب دلائل دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور یہاں تو اگر کسی کو مشرکوں کا داخلہ بند ہونے کی وجہ سے مفلسی کا خوف بھی تھا تو وہ بھی دور کر دیا گیا اور کیا عقل او رمنطق ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ عرب کے بدو کس طرح دولت مند ہوئے ہیں ۔۔ اسلام کو ماننے والے ہم لوگ ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ ہی علم اور حکمت والا ہے۔

میں نے اپنے خوش شکل، خوش مزاج اور حاضر جواب کولیگ سے کہا کہ آپ اپنی آرگنائزیشن میںایک اچھے عہدے پر ہیں، جب آپ اپنے دفتر پہنچتے ہیں تو گارڈ آپ کو سلام کرتا اور دروازہ کھول دیتا ہے مگر جیسے ہی کوئی اجنبی آپ کے دفتر آئے تو اسے روک لیا جاتا ہے۔ اگر اندر آنے کی اجازت مل بھی جائے تو میٹنگ روم تک محدود رکھا جاتا ہے ۔ اس طرح ایک آرگنائزیشن کے ہیڈکوارٹر میں تو غیر متعلقہ لوگوں کا داخلہ ممنوع ہو مگر آپ اسلام کے ہیڈکوارٹر میں ہر کسی کا داخلہ چاہتے ہیں جس سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا ،ہاں، نقصان یہ ہے کہ فساد کی راہ ہموار ہو گی۔ میرے دوست نے کہا کہ اگر امریکی اپنے شہر واشنگٹن کو مقدس شہر قرار دے دیں اور وہاں مسلمانوں کا داخلہ بند کر دیں، میں نے مسکراتے ہوئے سوال کیا کہ میرے دوست کیا آپ امریکی شہریوں اور وہاں کی نمائندہ حکومت کے اس حق سے انکار کر تے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں ویزا دیں اور جسے چاہیں انکار کردیں۔ کیا وہ بہت ساروں کو اپنے مقدس شہر اور ملک میں داخل ہونے کی صرف اس لئے اجازت دینے سے انکار نہیں کرتے کہ وہ مسلمان ہیں، ان کی داڑھی ہے، ان کے نام میں محمد، عبداللہ یا اسامہ آتا ہے۔ مذہب تو اک طرف رہا ، یہ رویہ تو کمیونسٹوں کے ساتھ بھی رکھا گیا۔

اک سوال یہ اٹھا کہ بات اسلام کی نہیں، اصل میں عربوں کی قوم پرستی اس کا جواز ہے ۔ میں کہتا ہوں کہ یہ سوال ہی غلط ہے، اس لئے نہیں کہ عرب واقعی اپنے آپ کو عجمیوں سے بہت بہتر سمجھتے ہیں بلکہ اس وجہ سے کہ مکہ میں غیر عرب مگر اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والے ہزاروں اورلاکھوں کی تعدادمیں جاتے ہیں۔ عرب انہیں اپنی شہریت نہیں دیتے مگر داخلے سے تو نہیں روکا جاتا۔ اہل ایمان وہاں طواف کرتے، حجراسود کو بوسے دیتے اوربازاروں میں گھومتے پھرتے ہیں۔ اسلام کا حکم تو آ چکا کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فوقیت نہیں سوائے تقویٰ کے۔ اسلام کے ماننے والے اگر ناکام ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام ناکام ہے ۔۔ جان لینا چاہئے کہ اسلام کے ماننے والے اس لئے ناکام ہیں کہ وہ اللہ کے احکامات اور اس کے نبی کی تعلیمات پر عمل کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔

 میں اپنے وطن میں بھی دیکھتا ہوں تو یہاں بھی شریعت کے نفاذ کے لئے سکولوں، بازاروں اور چوراہوں پر بم دھماکے کئے جا رہے ہیں اورکہتا ہوں کہ صادق اور امین کہلانے والے ، تمام عالموں کے لئے رحمت بنا کے بھیجے جانے والے نبی کا شعار اور طریقہ یہ ہرگز نہیں تھا۔ ہم مسلماں کو مسلماں کرنے کے لئے اس کا گلا کاٹ رہے ہیں حالانکہ ہمارے سامنے ا س سے کہیں بڑے چیلنجز موجود ہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ بعض اوقات تعلیم بھی آپ میں کوئی بہتری پیدا نہیں کرتی، پڑھے لکھے جاہلوں کو دیکھتا ہوں تو تعلیم کے ضروری ہونے کے مفروضے پر شک ہونے لگتا ہے۔ یہاں اپنے اپنے مسلک اور جماعت کے پیروکاروں میں اتباع کی روش کو انتہا پر پاتا ہوں تو لگتا ہے کہ ہمارے پاس سیاسی کارکن نہیں بلکہ سیاسی غلام ہیں، شاہ دولے کے چوہے ہیں۔ مان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں ۔ جنہیں ایمان کی دولت عطا ہوئی وہ اس پر شکر ادا کریں اورجان لیں کہ اللہ نے ہمیں فساد پیدا کرنے کے لئے نہیں بلکہ اپنی بنائی اس دنیا کوبہترین انداز میں چلانے کے لئے ہی عقل عطا کی ہے !!

مزید : کالم


loading...