ماڈل ٹاﺅن کچہری میں وکیل کی جج سے بدتمیزی ، ججوں نے احتجاجاً کام چھوڑدیا، انکوائری کمیٹی تشکیل

ماڈل ٹاﺅن کچہری میں وکیل کی جج سے بدتمیزی ، ججوں نے احتجاجاً کام چھوڑدیا، ...
Lahore

  


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور بار کے نائب صدر کی جانب سے بدتمیزی کے بعد ماڈل ٹاﺅن کچہری میں ججوں نے کام چھوڑدیا جس کی وجہ سے 500سے زائد مقدمات کی سماعت نہ ہوسکی اور کچہری کے تمام جج ’شارٹ لیو‘لے کر ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج سے ملاقات کیلئے روانہ ہوگئے جبکہ بعدازاں لاہورہائیکورٹ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کی ہدایت کردی ۔ تفصیلات کے مطابق لاہور بار کے نائب صدر ضمیراحمد ایک مقدمے میں جوڈیشل مجسٹریٹ عرفان بسرا کی عدالت میں پیش ہوئے اور مقدمہ میں ناکامی پر فاضل جج سے بدتمیزی اور ججوں کے خلاف نازیباالفاظ استعمال کیے جس پر عرفان بسرا وکلاءکے رویہ کے خلاف احتجاجاً عدالت سے اُٹھ کر چلے گئے اور تمام ججز اکٹھے ہوگئے ۔ ضمیر ایڈووکیٹ ایک مرتبہ پھر ججوں کے پاس پہنچ گئے اور موقف اپنایاکہ آپ لوگوں کو تنخواہیں ہڑتالوں کیلئے نہیں بلکہ کام کرنے کیلئے دی جاتی ہیں اور پھرچلتابنا۔ ابتدائی طورپر واقعہ کی تفصیلات معلوم کرنے کے بعد تمام جج شارٹ لیو کیساتھ سیشن جج لاہور سے ملاقات کیلئے ماڈل ٹاﺅن کچہری سے سیشن کورٹ روانہ ہوگئے ۔ ساجد اعوان ایڈووکیٹ نے بتایاکہ ایسے کئی وکلاءہیں جو ایسے ہی رویہ کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں لیکن اکثریت عدالتوں کا احترام کرتی ہے ، وکیل کے پاس مزید فورمز بھی موجود ہیں ، لوئر کورٹ سے اگر ریلیف نہ ملے تو سیشن کورٹ اور پھر ہائیکورٹ چلے جائیں ، ججوں سے بدتمیزی کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ دوسری جناب صدر لاہوربار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اجلاس طلب کرلیا۔ لاہورہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے جج سے بدتمیزی اور کام بند ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی ہے اور سول جج سید حامد انکوائری کرکے رپورٹ چیف جسٹس کو پیش کریں گے ۔

مزید : لاہور /اہم خبریں


loading...