حکومت، طالبان مذاکرات سبوتاژ؟ شالیمار ایکسپریس اور پشاور کے ہوٹل میں دھماکے، 10فراد جاں بحق درجنوں زخمی ، ذمہ داروں کا علم نہیں :طالبان

حکومت، طالبان مذاکرات سبوتاژ؟ شالیمار ایکسپریس اور پشاور کے ہوٹل میں ...
  •  حکومت، طالبان کے مذاکرات سبوتاژ؟ شالیمار ایکسپریس اور پشاور کے ہوٹل میں دھماکے، 10فراد جاں بحق درجنوں زخمی ، ذمہ داروں کا علم نہیں :طالبان
  •  حکومت، طالبان کے مذاکرات سبوتاژ؟ شالیمار ایکسپریس اور پشاور کے ہوٹل میں دھماکے، 10فراد جاں بحق درجنوں زخمی ، ذمہ داروں کا علم نہیں :طالبان
  •  حکومت، طالبان کے مذاکرات سبوتاژ؟ شالیمار ایکسپریس اور پشاور کے ہوٹل میں دھماکے، 10فراد جاں بحق درجنوں زخمی ، ذمہ داروں کا علم نہیں :طالبان

کراچی + پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت اور طالبان میں مذاکرات میں پیش رفت کے ساتھی ہی ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر شروع ہوگئی ہے ۔ اور تھوڑے سے وقفے کے ساتھ ہشت گردی کے دو واقعات رونما ہوئے ہیں ۔ کراچی کے قریب شالیمار ایکسپریس کو بم سے اڑانے کے کوشش کی گئی ہے جبکہ پشاور کے قصہ خوانی بازار میں دھماکوں سے کم از 10 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق لانڈھی سٹیشن پر شالیمار ایکسپریس کے نیچے ٹریک پر دھماکے سے انجن اور 5 بوگیاں الٹ گئی ہیں جن میں سینکڑوں مسافر پھنسے ہوئے ہیں اور ہر طرف چیخ و پکار سنی جار رہی جبکہ اندھیرے کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں ۔اس سے پہلے قصہ خوانی بازا کے کوچہ رسالدار میں خودکش ھماکے سے9افراد جاں بحق اور2بچیوں و 6 خواتین سمیت 42 افرادشامل ہیں۔ ان میں سے 5کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے جبکہ ہلاکتوں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔بتایا گیا ہے کہ خود کش کا سر مل گیا ہے اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور خون کے عطیات کی اپیل کی گئی ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ آٹھ بجے شب یہ دھماکہ ایک ہوٹل میں ہوا ہے اور اس میں آگ لگ گئی ۔ اس کے ساتھ ایک سرائے بھی ہے اور اس تنگ گلی میں ایک قہوہ خانہ بھی جہاں لوگوں کا رش رہتا ہے۔ دھماکے کے بعد ہر طرف اندھیرا چھاگیا ۔ اس جگہ پر پہلے بھی ایک دھماکہ ہوچکا جس میں ہلاکتیں ہوئی تھیں ۔ دھماکے کے وقت ہوٹل میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ اس ہوٹل سے ملحقہ عمارتیں بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں ۔امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ دھماکہ شیعہ مسجد کے قریب ہوا ہے اور جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تر اہل تشیع شامل ہیں۔ خبر رساں ادارے نے ایک پولیس اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس ہوٹل میں زیادہ تر اہل تشیع افراد قیام کرتے ہیں۔اے آئی جی بم ڈسپوزل شفقت ملک کے مطابق دھماکے میں نو کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا اور مبینہ خودکش کی عمر تقریباً بیس سال کے قریب تھی۔ نجی شعبے کے زیرانتظام چلنے والی نائٹ کوچ شالیمار ایکسپریس کو دھابیجی کے قریب گھگھر پھاٹک کے قریب دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی گئی جس میں زخمی ہونے والوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ ڈی ایس کراچی کے مطابق دھماکے بعد فوری کے بعد ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے ، ہسپتالوں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے اور طور پر تمام ٹرینیں روک دی گئی ہیں ۔ دھابیجی کے قریب سنسان علاقے میں واقع ایک سٹیشن پر شالیمار ایکسپریس میں دھماکے سے دو بوگیاں الٹ گئی ہیں اور گیارہ ٹریک سے اتر گئی ہیں جن میں سینکڑوں مسافر پھنسے ہوئے ہیں اور ہر طرف چیخ و پکار سنی جار رہی جبکہ اندھیرے کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ چودہ بوگیوں پرمشتمل کراچی سے لاہور جانے والی 43اپ نائٹ کوچ گھگھر پھاٹک کے قریب دھماکے کا نشانہ بنی تین زخمیوں کی حالت نازک بیان کی جاتی ہے دو بوگیاں تباہ ہوگئی ہیں جبکہ گیارہ بوگیاں الٹ گئیں ہیں۔ رینجرز سمیت امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی ہیں جنہوں نے زخمیوں کو کراچی کے ہسپتالوں پہنچانا شروع کردیا ہے اور ٹریک کی بحالی کیلئے ریلوے کے متعلقہ عملے کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں ابتدائی اطلاعات میں ایک بچی کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے اور دو بچیوں و آٹھ خواتین سمیت بیس سے زائد زخمیوں کوکراچی منتقل کردیا گیاہے۔ اندھرے اور جنگل کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں اور مسافر جنگل میں بیٹھے ہیں جن میں سے زیادہ تر خوفزدہ اور سہمے ہوئے ہیں۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ شالیمار ٹرین کو اس سے پہلے بھی نشانہ بنایا گیا تھا اور اس وقت یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ ٹرین چلانے والی کمپنی کے مال کو بھتہ خوروں کی طرف سے دھمکی دی گئی تھی لیکن اس کے بعد تحقیقاتی رپورٹ سامنے نہیں لائی گئی تھی۔ وزیراعظم نوازشریف، پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین، اور عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی اور ریلوے کے وزیر خواجہ سعد رفیق نے ان دھماکوں کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے۔وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے ٹرین دھماکے کا نوٹ لے لیا ہے اور اس کے بارے میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔ان دھماکوں کی ابھی تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی جبکہ طالبان کا کہنا ہے کہ دھماکے کے ذمہ داروں کا پتہ نہیں۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...