کمال اتاتر ک کے پاکستانی پرستار

کمال اتاتر ک کے پاکستانی پرستار

  

گرامی قدرمحمود مرزا صاحب کے توجہ دلانے پر نجی اشاعتی ادارے کے زیر اہتمام لاہور میں کما ل اتاترک پر برطانوی صحافی کی کتاب Ataturk- The Birth of a Nation کے اردو ترجمے کی تقریب رونمائی میں شرکت کا موقع ملا ۔ محمود مرزا صاحب کا شمار ان چند افراد میں ہوتا ہے، جن کی فکر اور عمل میں تضاد نہیں، وہ جو سوچتے ہیں اور جو لکھتے ہیں اس میں اور ان کے عمل میں رتی برابر فرق نہیں۔ مرحوم ڈاکٹر الطاف جاوید صاحب اور جناب محمود مرزا صاحب دانشوروں کے اس قبیل سے تعلق رکھتے ہیں، جنہوں نے ذاتی کشور کشائی ، تشہیر اور خودنمائی کے وہ مروجہ طریقے جن کا چلن اس زمانے میں عام ہے، سے اپنا دامن بچاتے ہوئے معاشرے کی فلاح کے لئے جو بہتر سمجھا وہ کسی بھی حرصِ کرم اور خوف خمیازہ کے بغیر لکھا ہے۔

اسلام آباد سے جب میں تقریب میں پہنچا تو جناب فرخ سہیل گوئندی کا خطاب جاری تھا، ان کا برہانِ قاطع تھا اور کسی حد تک درست بھی ہے کہ اگر ہم نے ترقی کرنی ہے تو ترکی ماڈل کو اختیار کرنا ہوگا۔ ان کے خطاب کا ہر ہر لفظ ترکی کی محبت میں گندھا ہوا تھا ۔ ان کے خطاب کی اہم بات جوپاکستانی معاشرے سے مطابقت رکھتی تھی وہ یہ کہ ’’ ہم ریکارڈ کی بجائے روایات پر یقین کرنے کے عادی ہوچکے ہیں‘‘۔ یقیناًروایت پسندی خواہ وہ مذہب کے حوالے سے ہو، تاریخ کے حوالے سے ہو یا سیاست اور شخصیات کے حوالے سے ہو، اس نے مذکورہ تمام موضوعات اور معاشرے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ محترم گو ئندی صاحب نے مذہب کے سیاسی اجارہ داروں پر تنقید کے ساتھ ساتھ طالبان اور داعش کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کا ایک مجاہد اپنی تین بیویوں کے ساتھ ایبٹ آباد میں پکڑا گیا، لیکن جب چیگ ویرا کو شہید کیا گیا تو اس کے بیگ سے کمال اتاترک کی وہ چھ روزہ تقریر جو نطق کے نام سے مشہور ہے، کے صفحات نکلے۔ گو ئندی صاحب نے ملک کے دستور کے سیکولر اور لبرل ہونے کے حوالے سے بانی پاکستان کی11 اگست 1947ء کی تقریر کو بنیاد بنانے پر زور دیا۔ان کا فرمانا بھی یہی تھا کہ مذہب کو ریاستی معاملات سے الگ ہونا چاہئے۔

گو ئندی صاحب کے خطاب کے بعد جناب میر حاصل بزنجو کا خطاب تھا ۔ انہوں نے ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام کی حمایت میں اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے دعوے سے کہا کہ ’’ہم نے فوجی عدالتوں کے قیام کی حمایت اس شرط پر کی ہے کہ انتہا پسندوں کے خلاف اس جنگ میں ہم فوج کی مدد کریں گے، فوج کی رہنمائی کریں گے اور اس پورے عمل کی نگرانی Watch)) کریں گے‘‘، جو لوگ پاکستان میں طاقت کے اصل مرکز کی حقیقت سے آگاہ ہیں وہ ہمارے سیاست دانوں کی داخلی و خارجی معاملات میں پالیسی سازی کے عمل میں شرکت اور حیثیت سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کے نزدیک بزنجو صاحب کے ا س بیان کی اہمیت سوائے خود فریبی کے کچھ بھی نہیں۔ بزنجو صاحب نے بھی ترکی ماڈل کی تقلید کو پاکستان کی ترقی کے لئے ناگزیر قرار دیا۔بزنجو صاحب کے بعد جناب اعتزاز احسن کا خطاب شروع ہوا، جنہوں نے خواتین کے ساتھ ہونے والے معاشرے کے ناروا سلوک کو تنقید کا نشانہ بنایا ، انہوں نے بھی فوجی عدالتوں کے قیام کی حمایت میں وضاحت کے لئے موقع غنیمت جانا:

انہوں نے جواز دیتے ہوئے کہا کہ سول عدالتوں کے جج حضرات عدم تحفظ کے احساس کی وجہ سے دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت سے قاصر ہیں، جس کی دلیل میں انہوں نے ممتاز قادری کے مقدمے کی مثال پیش کی۔ انہوں نے یورپ کے سائنسی ترقی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ کروڑوں میل دور خلاء میں تیرتے پتھروں پر بھی کیمرے نصب کررہے ہیں اور ہم پیچھے کی طرف ترقی کر رہے ہیں۔ اعتزاز احسن نے بھی ترکی ماڈل کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور بائیں بازو کے ایک سرخیل کی حیثیت سے مذہب کو ذاتی مسئلہ قرار دیا۔

بدقسمتی سے مذہب کی جتنی تعبیرات ہمارے اس خطے میں رائج ہیں۔ انہوں نے اسلام کی حقیقی انقلابی تعلیمات کو مسخ کرکے رکھ دیا ہے، جس کے سبب اسلامی ریاست کے قیام کی کوئی بھی سنجیدہ کوشش کامیابی سے ہمکنار ہی نہیں ہوسکتی اور یہی وجہ ہے کہ ایک مکتبہ فکر کی جانب سے سیاست کو مذہب سے الگ کرنے اور مذہب کو فرد کی حد تک محدود کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔

چند دہا یوں قبل دائیں بازو اور بائیں بازو کی سیاست زیرِ بحث ہوا کرتی تھی جب کہ عصرِ حاضر میں مذہب پسند ی اور سیکولر ازم کی بحث گرم ہے۔ مغرب میں دائیں بازو اور بائیں بازو کی اصطلاحات جس پس منظر میں اُبھریں اور جس طرح مغربی سیاست دائیں باز و اور بائیں بازو کے نظریات کی بنیاد پر تقسیم ہوئی وہ یہ تھیں کہ بائیں بازو کی سیاست تبدیلی اور مظلوم طبقات کی حمایت کی علمبردار تھی جب کہ اس کے برعکس دائیں بازو کی سیاست روایت پسندی اور سرمائے کے غلبے کی حامی تھی، لیکن پاکستان میں یہ کفر و اسلا م کی تقسیم قرار پائی۔ یہی صورت حال عصرِ حاضر کے مسائل حل کرنے کے حوالے سے موجود ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان ہمیشہ انتہا پسندی کا شکار رہا ہے ایک طرف وہ انتہا پسند ہیں جو خود تو عہد حاضرکی تمام جدید ایجادات سے استفادہ کو اپنی شریعت کے نفاذ کے لئے موزوں سمجھتے ہیں، لیکن عوام الناس کو ثقافتی ، تمدنی و سماجی اعتبار سے صدیوں پرانے معاشرے میں لے جانا چاہتے ہیں۔ان کے اپنے بچے تو دنیاکی اعلیٰ درسگاہوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، لیکن پاکستان میں وہ تعلیم اور خصوصاً تعلیم نسواں کے سب سے بڑے مخالف ہیں۔

دوسری جانب وہ طبقہ ہے جو لبرل ازم اور آزادی جیسی مثبت قدر کے نام پر انتہا پسندی کی اس حد پر ہے، جہاں وہ کسی سماجی و مذہبی اخلاقیات اور قوانین کی پابندی کو درخور اعتنا ہی نہیں سمجھتا۔ ایک طرف جاگیر داری اور سرمایہ داری کے عفریت ہیں تو دوسری جانب کسانوں اور مزدور ں کے مسائل کے نام پر اپنی قیمت لگوانے والا مافیا ہے، لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ تحریک خواہ دائیں بازو کی ہو یا بائیں بازو کی ، تحریک خواہ مذہبی شریعت کے نفاذ کی ہو یا لبرل ازم اور سیکولر ازم کے فروغ کی ، بالآخر ہر تحریک پر اجارہ داری استعمار کے آلۂ کار مفاد پرست طبقات ہی کی رہی ہے ، مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی اور اب تحریک نصاف اس کی زندہ مثالیں ہیں، جہاں تک مذہبی جماعتوں اور ان کی تحریکوں کا تعلق ہے انہوں نے ہمیشہ مذہب کے نام پر آمروں اوربالا دست طبقات کے لئے راہیں ہموار کی ہیں۔

مزید :

کالم -