کشمیر کا مسئلہ کیوں اُلجھ گیا؟

کشمیر کا مسئلہ کیوں اُلجھ گیا؟
کشمیر کا مسئلہ کیوں اُلجھ گیا؟

  

1946ء میں انگریزوں نے بر صغیر کی تقسیم کا فیصلہ کر لیا۔اس وقت بر صغیر میں پانچ سو کے قریب ریاستیں تھیںیہ ریاستیں بہت حد تک خود مختار تھیں۔ریاستوں کے بارے میں کافی ابہام رہا۔یہ فیصلہ کیا گیا کہ ریاستوں کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے حکمران کریں گے۔مسلم لیگ نے اس فیصلے سے اتفاق کر لیا۔ان ریاستوں میں دو ریاستیں بہت بڑی تھیں۔حیدرآباد(دکن) اور کشمیر۔حیدرآباد میں ہندوؤں کی اکثریت تھی ،لیکن حکمران مسلمان تھا،کشمیر میں صورت حال اس کے برعکس تھی ،لیکن بھارتی حکمران ہر قیمت پر کشمیر کوبھارت میں شامل کرنا چاہتے تھے۔بھارتی رہنماؤں نے آزادی سے قبل ہی چالاکی کا مظاہرہ کیا۔ کشمیر کو جانے والا راستہ ضلع گورداسپور سے گزرتا تھاجہاں مسلمانوں کی 52فیصد آبادی تھی۔اصولاً اس ضلع کو پاکستان کا حصہ بننا چاہیے تھا ،لیکن ہندو لیڈروں نے ساز باز سے کام لے کر اسے بھارت میں شامل کرا دیا۔اس وقت پاکستان کے کچھ رہنماؤں نے اس کا یہ حل نکالا کہ کشمیر میں چند ہزار قبائلیوں پر مشتمل ایک لشکر بھیج دیا۔ایسے بے قاعدہ لشکروں کا نہ تو کوئی ہدف ہوتا ہے نہ ان میں ڈسپلن ہوتا ہے ،نہ ان کو راشن کی سپلائی ملتی ہے ،نہ زخمیوں کے علاج کا کوئی بندوبست ہوتا ہے۔اس لشکر کو سری نگر کے ہوائی اڈے پر قبضہ کرنا چاہیے تھا جو وہ نہ کر سکا۔

ماؤنٹ بیٹن اس وقت بھارت کا گورنر جنرل تھا۔ جسے تزویراتی معاملات(Strategic)کی بہت سمجھ بوجھ تھی۔لشکر کے جواب میں ماؤنٹ بیٹن نے بھارتی فوج سری نگر کے ہوائی اڈے پر اتار دی۔اس کام کے لیے بھارت میں جس قدر فوجی،غیر فوجی،ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر موجود تھے سب دہلی میں جمع کر لیے اور راتوں رات بھارتی فوج سری نگر پہنچ گئی۔گورداسپور کو بھارت میں شامل کرنا اور فوج سری نگر کے ہوائی اڈے پر اتارنا یہ تھی ماؤنٹ بیٹن کی بھارت کے لیے بے بہا خدمت ۔کشمیر کو بھارت میں شامل کرانے میں تین اہم فیکٹر ہیں۔برطانیہ(لارڈ ماؤنٹ بیٹن) کی جانب داری بھارتی لیڈروں کی فریب کاری اور پاکستان کی سادگی۔کشمیر پر بھارت کا قبضہ ایسا ہی تھا جیسے شیر کے منہ میں ہرن کی گردن۔پاکستان میں کشمیر اب ایک سیاسی نعرہ بن چکا ہے اور ہزاروں سیاست دانوں کے لیے کمائی کا ذریعہ۔سب سے پہلے صدر ایوب نے کشمیر بذریعہ شمشیر لینا چاہا۔1965ء میں بھارت سے پنجہ آزمائی کی کشمیر تو نہ مل سکا،لیکن کشمیر کے بدلے 1971ء میں مشرقی پاکستان ہاتھ سے چلا گیا۔بھارت کی سیاسی چالیں اور سفارت کاری بھی بہت موثر رہی۔پہلے کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر تھا،لیکن تاشقند اور شملہ معاہدے میں اس کی بین الاقوامی حیثیت ختم ہو گئی اور یہ طے ہو گیا کہ اب پاکستان اور بھارت آپس میں اسے طے کریں گے۔کشمیر کی جنگ بندی لائن کا نام (سیز فائر ان لائن آف کنٹرول )رکھ دیا گیا جو ایک طرح سے بین الاقوامی سرحد کے مترادف تھا۔یہ گویا مسئلہ کشمیر کا عملی حل تھا ،لیکن دونوں ملکوں کے لیڈروں میں اتنی ہمت نہ تھی کہ اسے بین الااقوامی سرحد کہہ کر اس مسئلے کو ختم سمجھیں۔

بے نظیر بھٹو کے دورِ وزارت میں خان عبد الولی خان نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ’’ بے نظیر بھٹو کو الزام دینا غلط ہے۔کشمیر کا مسئلہ انہیں ورثے میں ملا ہے۔کشمیر پاکستانیوں نے اپنی غلطیوں کے سبب بہت پہلے کھو دیا تھا۔مسلم لیگ نے آزادی سے پہلے ہی کہا تھا ریاستوں کے مستقبل کا فیصلہ والیان ریاست کریں گے۔ جب کشمیر کے راجہ نے ہندوستان سے الحاق کا فیصلہ کر لیا تو قصہ ختم ہو گیا‘‘۔۔۔انہوں نے یہ بات بھی کہی کہ ’’بھارت نے در پردہ سفارت کاری کے ذریعے یہ کہلوایا تھا کہ اگر پاکستان حیدر آباد پر اپنا دعویٰ ترک کر دے تو بھارت کشمیر سے دست بردار ہو جائے گا۔پھر یہ کہ شملہ معاہدے کی منظوری پاکستان کی قومی اسمبلی نے دی ہے۔اس لیے اب کشمیر کے مسئلے پر رونا دھونا عبث ہے‘‘۔ کشمیر بذریعہ شمشیر حاصل نہیں ہو سکا۔دوسرا طریقہ یہ تھا کہ بین الاقوامی برادری پاکستان کی حمایت کرے۔ بین الاقوامی برادری کا مطلب تھا امریکہ، روس، برطانیہ،چین وغیرہ، لیکن 1965ء اور 1971ء کی جنگ کے بعد دنیا میں پاکستان کی تنہائی بڑھ گئی تھی۔ دوست ممالک پر جوش حمایت کے بجائے سفارت کاری کے منجھے ہوئے فقرے بولنے لگے۔

بے نظیر بھٹو کے زمانے میں چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر تاریخ کا پسماندہ مسئلہ ہے۔اگر چین سلامتی کونسل میں پاکستان کی حمایت کرتا ہے تو روس ویٹو کر دیتا ہے پھر یہ کہ مسائل کے حل کے لیے فوجی طاقت کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔روس کے سفیر نے پاکستان کو سمجھایا:’’ ہندوستان کی کوئی حکومت مقبوضہ کشمیر کی ایک انچ زمین بھی پاکستان کے حوالے نہیں کر سکتی۔وہاں بغاوت ہو جائے گی‘‘ دوسرے یہ کہ سوویت یونین ایک ملک کی دوسرے ملک کے معاملات میں دخل اندازی بالکل برداشت نہیں کرتی(یعنی پاکستان مقبوضہ کشمیر میں کوئی کارروائی نہ کرے) پاکستانی وزیر خارجہ نے ان سے درخواست کی کہ وہ کشمیر کا تنازعہ حل کروانے میں پاکستان کی مدد کریں۔انہوں نے کہا کہ یہ بہت مشکل اور نازک مسئلہ ہے ۔امریکہ نے بھی اس معاملے میں ٹھوس مدد دینے سے گریز کیااور کہا کہ پاکستان کشمیر میں لڑنے والوں کی مدد کر رہا ہے۔پاکستان کے نمائندے نے امریکی نمائندے(سولانہ) سے کہا’’ کیا وہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ظلم و ستم کے بارے میں کچھ کہنا پسند کریں گے؟ تو وہ چپ ہو گئے اور کچھ عرصے بعد بات آئی گئی ہو گئی۔اس کے بعد پاکستانی نمائندے اقبال اخوند کی ملاقات ایک امریکی اہلکار (انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ) مسٹر رابرٹ کمٹ سے ہوئی۔

رابرٹ کمٹ نے کہا :امریکی سینیٹ میں یہ بات ہوئی ہے کہ پاکستان کشمیر میں دہشت گردی کروا رہا ہے کیوں نہ پاکستان کو دی جانے والی امداد بند کر دی جائے۔حقیقت یہ تھی کہ روس کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد امریکہ کی ’’پاکستان دوستی‘‘ ٹھنڈی پڑ چکی تھی۔دوسری طرف یورپی کمیونٹی میں بھی پاکستان کے حوالے سے سر دمہری کا ماحول تھا۔برطانیہ کا خیال تھا کہ بھارت اور پاکستان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔وہ خود اس مسئلے سے نمٹ لیں گے۔اب صورت حال یہ ہے کہ اگر پاکستان کا وزیر اعظم کسی بین الاقوامی فورم پر کشمیر کا نام بھی لے لے تو بھارت اظہار ناراضگی کر دیتا ہے۔ اب بھی بھارتی وزیراعظم میں یہ طاقت نہیں کہ وہ کشمیر کے مسئلے پر کوئی انصاف کی بات کر سکے۔بھارتی فوج سیاسی معاملات میں مداخلت تو نہیں کرتی ،لیکن کشمیر کے معاملات میں اس کا رویہ خاصا جارحانہ ہے۔اس کی مرضی کے بغیر کشمیر کی ایک انچ زمین بھی پاکستان کو نہیں دی جا سکتی۔ماہرین کے نزدیک مسئلے کے بہت سارے حل (آپشن) موجود ہیں، لیکن اب یہ ممکن نہیں رہا کہ پورے کشمیر پر بھارت کا قبضہ ہو جائے یا پاکستان کا۔ادھر سر ی نگر وادی کے عوام کشمیر کو نہ بھارت کے ساتھ جوڑنا چاہتے ہیں نہ پاکستان کے ساتھ۔وہ ایک خود مختار کشمیر کے خواب دیکھ رہے ہیں۔دونوں حکومتوں کے لیڈروں میں اتنی اخلاقی جرأت نہیں کہ وہ صاف صاف بتا سکیں کہ لائن آف کنٹرول ہی بین الاقوامی سرحد بن گئی ہے۔ دونوں ملکوں کے لیڈر ہمت کریں اور اپنے عوام کو بتا دیں کہ ’’لائن آف کنٹرول‘‘ ہی اب بین الاقوامی بارڈر ہے ۔

مزید :

کالم -