بدمزہ کھانا، دولہا باراتیوں سمیت شادی کی تقریب چھوڑ کر چلاگیا لیکن پھر دلہن نے جو کیا، کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا، پل بھر میں مسئلہ حل ہوگیا

بدمزہ کھانا، دولہا باراتیوں سمیت شادی کی تقریب چھوڑ کر چلاگیا لیکن پھر دلہن ...
بدمزہ کھانا، دولہا باراتیوں سمیت شادی کی تقریب چھوڑ کر چلاگیا لیکن پھر دلہن نے جو کیا، کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا، پل بھر میں مسئلہ حل ہوگیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) برصغیرپاک و ہند بری طرح جہیز و دیگر ایسی لغو رسومات میں جکڑے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے لڑکی کے والدین کو اپنی بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے کے لیے کنگال ہونا پڑتا ہے۔ لڑکے والے ہمیشہ ایک احساسِ تفاخر کا اظہار کرتے ہیں اور لڑکی والوں کو کم مائیگی کا احساس دلاتے ذرا شرم محسوس نہیں کرتے، شادی کے انتظامات میں معمولی کمی پر بھی طوفان اٹھا دیا جاتا ہے۔ ایسے ہی بھارت میں ایک بدطینت شخص نے ایک لڑکی کے ساتھ شادی اس لئے منسوخ کر دی کہ لڑکی کے والدین بارات کو ”معیاری“کھانا پیش نہیں کر سکے تھے۔انڈیاٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی شہر بنگلور سے 27سالہ دولہا بارات لے کرضلع تماکورو کے شہر کونیگال میں دلہن بیاہنے پہنچا۔ وہاں جب دولہا رسموں میں مصروف تھا، ادھر اس کے والدین نے لڑکے کے گھروالوں سے کھانے کے معیار پر جھگڑا شروع کر دیا۔

مزید پڑھیں: ایسے طریقے سے آدمی زندہ مرغی کھاگیا کہ انٹرنیٹ پر ہنگامہ برپاہوگیا

لڑکے نے صورتحال دیکھی تو اپنے والدین کے دفاع میں سامنے آ گیا اور شادی ہی ختم کر دی اور ماں باپ کو لے کر شادی ہال سے چلا گیا۔ جہاں اس طرح کے کم ظرف لوگ دنیا میں موجود ہیں وہیں اچھے لوگوں کی بھی کمی نہیں، جب دولہا بارات واپس لے کر چلا گیا تو دلہن اور اس کے والدین دل گرفتہ بیٹھے تھے کہ ایسے میں دلہن والوں کی طرف سے شادی میں شریک ایک نوجوان نے دلہن کے ساتھ شادی کرنے کی پیشکش کر دی۔ لڑکی کی رضامندی کے بعد ان دونوں کی شادی کر دی گئی۔ یہ نوجوان لڑکی کا رشتہ دار بھی تھا۔ رپورٹ کے مطابق دلہن کے والدین کا کہنا تھا کہ ”لڑکے والوں نے ہمارے مہمانوں کے سامنے ہماری بے عزتی کر دی، ہمیں سمجھ نہیں آئی کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا، حالانکہ یہ رشتہ لڑکے اور لڑکی کی مرضی سے طے ہوا تھا۔لیکن اچھا ہوا کہ ان کی اصلیت وقت پر ہی سامنے آ گئی۔ “

مزید : ڈیلی بائیٹس