30 سال قبل مرجانے والے شخص کا اچانک اپنی ماں کو فون، اتنا عرصہ کہاں اور کس حال میں گزارا، انتہائی حیران کن کہانی بیان کردی

30 سال قبل مرجانے والے شخص کا اچانک اپنی ماں کو فون، اتنا عرصہ کہاں اور کس حال ...
30 سال قبل مرجانے والے شخص کا اچانک اپنی ماں کو فون، اتنا عرصہ کہاں اور کس حال میں گزارا، انتہائی حیران کن کہانی بیان کردی

  

نیروبی(مانیٹرنگ ڈیسک) آج سے 30سال قبل نیوزی لینڈ کا ایک شخص اچانک لاپتہ ہوا، اس کے خاندان نے سمجھا کہ شاید اس کی موت واقع ہو گئی ہے مگر 30سال بعد اس نے اچانک اس وقت اپنے خاندان کو مدد کے لیے پکار لیا جب وہ شدید مصیبت میں گھرا تھا۔ اس کے زندہ ہونے کے انکشاف پر خاندان کے افراد حیران رہ گئے۔ اس شخص کا نام فرانسس ایڈورڈ ہے۔ وہ26سال کی عمر میں نیوزی لینڈ سے آسٹریلیا چلا گیا اور خاندان سے رابطہ ختم کر لیا۔ اس کے بعد وہ 1992ءمیں جاپان چلا گیا جہاں سکول میں پڑھاتا رہا۔ 2014ءمیں وہ جاپان چھوڑ کر کینیا چلا گیا اور کان کنی کے شعبے میں کام کرنے لگا۔ گزشتہ سال اس پر کینیا میں 5لاکھ 79ہزار ڈالر(تقریباً 60کروڑ 74لاکھ روپے ) مالیت کا سونا چوری کرنے کا الزام لگا اور اسے جیل میں ڈال دیا گیا۔ عدالت میں اس کے خلاف کیس چل رہا تھا اور ممکنہ طور پر اسے 7سال قید کی سزا دی جانے والی تھی۔ اس دوران جیل میں قید قتل کے ایک مجرم نے دو بار فرانسس پر حملہ کیا اور اسے گلہ دبا کر مارنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ اس قاتل نے جیل کے کچن کا برتن مار کر فرانسس کا سر بھی پھوڑ دیا۔ اس صورتحال پر فرانسس کو 30سال بعد اپنے خاندان کی یاد آ گئی اور اس نے اپنی ماں کو فون کر دیا۔ اس کا خاندان اب بھی نیوزی لینڈ میں مقیم تھا۔ فون کال موصول ہونے پر اس کا بھائی اور والدہ اس کی مدد کے لیے کینیا پہنچ گئے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق فرانسس کی ماں مسز سمپسن کا کہنا تھا کہ ”ہم تو سمجھ رہے تھے کہ فرانسس مر چکا ہے۔ میں اپنے بیٹے کی مدد کے لیے اس کا کیس ختم ہونے تک کینیا ہی میں رہوں گی۔“ اس کے بھائی گیرارڈ نے اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”جب فرانسس نے فون کیا تو ہم سمجھے کہ کوئی ہم سے مذاق کر رہا ہے کیونکہ اسے لاپتہ ہوئے 30سال گزر چکے تھے اور ہمارے لیے اعتبار کرنا مشکل تھا۔ ہم نے کال کرنے والے سے اپنے گھر اور خاندان کے متعلق کچھ اس نوعیت کے سوالات کیے جن کے جواب صرف فرانسس ہی جان سکتا تھا۔ جب اس نے بالکل درست جواب دیئے تو ہمیں یقین ہو گیا کہ یہ فرانسس ہی ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس